کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن لوگوں کو جمعہ میں شریک نہ ہونے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 5638
٥٦٣٨ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن نافع أن ابنا لسعيد بن زيد بن نفيل كان بأرض له بالعقيق على رأس أميال من المدينة فأتى ابن عمر غداة يوم الجمعة فذكر له (شكواه) (١) فانطلق إليه وترك الجمعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید کے ایک صاحبزادے عقیق میں اپنی زمین پر رہتے تھے۔ جو مدینہ سے کئی میل کے فاصلے پر تھی ایک دن وہ جمعہ کی صبح حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے اور اپنی ایک شکایت کا ذکر کیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے ساتھ چل پڑے اور جمعہ کی نماز چھوڑ دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5638
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5638، ترقيم محمد عوامة 5568)
حدیث نمبر: 5639
٥٦٣٩ - حدثنا عبد الوهاب قال: سألت يونس عن الرجل (تحتضر) (١) والدته أو والده أو نسيبه أله عذر في ترك الجمعة؟ فقال: كان الحسن يرخص فيها لصاحب الجنازة يخاف عليها أو الرجل يكون خائفا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الوہاب کہتے ہیں کہ میں نے یونس سے پوچھا کہ اگر کسی آدمی کی والدہ، والد یا کسی رشتہ دار کی حالت نزع ہو تو کیا وہ جمعہ چھوڑ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حسن اس جنازے والے کو بھی جمعہ میں حاضر نہ ہونے کی رخصت دیا کرتے تھے جسے جنازے کے فوت ہوجانے کا خوف ہو، اسی طرح وہ شخص جسے کوئی خوف ہو اس کے لئے بھی حاضر نہ ہونے کی اجازت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5639
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5639، ترقيم محمد عوامة 5569)
حدیث نمبر: 5640
٥٦٤٠ - حدثنا عمر عن ابن جريج عن عطاء قال إذا استصرخ على (أبيك) (١) يوم الجمعة والإمام يخطب فقم إليه واترك الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر جمعہ کے دن تمہارا بچہ تم سے مدد مانگے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو بچے کے پاس چلے جاؤ اور جمعہ کو چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5640
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5640، ترقيم محمد عوامة 5570)
حدیث نمبر: 5641
٥٦٤١ - حدثنا معتمر عن عمران بن حدير قال قال رجل لأبي مجلز أو قلت له: آتي الجمعة (وأنا) (١) أشتكي بطني قال: عجز (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابومجلز سے کہا کہ اگر میرے پیٹ میں درد ہو تو کیا میں جمعہ کے لئے آؤں ؟ انہوں نے کہا کہ یہ عذر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5641
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5641، ترقيم محمد عوامة 5571)
حدیث نمبر: 5642
٥٦٤٢ - حدثنا وكيع عن عمران عن أبي مجلز نحوه.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5642
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5642، ترقيم محمد عوامة 5572)
حدیث نمبر: 5643
٥٦٤٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الفضل عن الحسن قال: ليس على الخائف ولا على العبد الذي يخدم أهله ولا على ولي الجنازة ولا على الأعمى (١) إذا لم يجد قائدا الجمعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ کسی خوف کے شکار شخص پر، کسی ایسے غلام پر جو اپنے اہل کی خدمت میں مصروف ہو، کسی جنازہ کے ولی پر اور کسی ایسے نابینا پر جسے لانے والا کوئی نہ ہو جمعہ واجب نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5643
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5643، ترقيم محمد عوامة 5573)
حدیث نمبر: 5644
٥٦٤٤ - حدثنا وكيع عن همام قال: سمعت الحسن وسئل عن الخائف عليه جمعة فقال: وما خوفه قال: من السلطان (١) قال: إن له عذرا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ کیا کسی خوف کے شکار شخص پر جمعہ واجب ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے کس چیز کا خوف ہے ؟ بتایا گیا کہ بادشاہ کا۔ حسن نے فرمایا کہ یہ عذر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5644
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5644، ترقيم محمد عوامة 5574)