کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5621
٥٦٢١ - حدثنا حاتم عن عبد الرحمن بن حرملة عن (ابن) (١) المسيب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "سيّدُ الأَيَّامِ يَوْم الْجُمُعَةِ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسیب فرماتے ہیں کہ دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5621
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5621، ترقيم محمد عوامة 5551)
حدیث نمبر: 5622
٥٦٢٢ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن هبيرة عن عبد اللَّه قال: إن سيد الأيام يوم الجمعة وسيد الشهور رمضان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے اور مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5622
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5622، ترقيم محمد عوامة 5552)
حدیث نمبر: 5623
٥٦٢٣ - حدثنا علي بن مسهر عن (الأجلح) (١) عن أبي بردة (بن) (٢) أبي موسى عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً مَا دَعَا اللَّهَ فِيهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ (بِشَيْءٍ) (٣) إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ مسلمان بندہ اس میں اللہ تعالیٰ سے جو دعا بھی مانگتا ہے اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5623
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الأجلح صدوق، أخرجه البخاري (٦٤٠٠)، ومسلم (٨٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5623، ترقيم محمد عوامة 5553)
حدیث نمبر: 5624
٥٦٢٤ - حدثنا حسين بن علي عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن أبي الأشعث (الصنعاني) (١) عن أوس (بن أوس) (٢) (أن) (٣) رسول اللَّه ﷺ (قال) (٤): "إِنَّ مِنْ ⦗١٧٧⦘ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَة فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوس بن اوس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا ، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن وہ خوفناک آواز آئے گی جو انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5624
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٦١٦٢)، وأبو داود (١٠٤٧)، والنسائي ٣/ ٩١، وابن ماجه (١٠٨٥)، وابن خزيمة (١٧٣٣)، وابن حبان (٩١٠)، والحاكم ١/ ٢٧٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٥٧٧)، والدارمي ١/ ٣٦٩، والطبراني (٥٨٩)، وأبو نعيم في المعرفة (٩٧٦)، والبيهقي ٣/ ٢٤٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5624، ترقيم محمد عوامة 5554)
حدیث نمبر: 5625
٥٦٢٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبد اللَّه بن ضمرة عن كعب قال: لم تطلع الشمس بيوم هو (أعظم من) (١) الجمعة إنها إذا طلعت فزع لها كل شيء إلا (الثقلين) (٢) (اللذين) (٣) عليهما الحساب والعذاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن سے اہم کسی دن میں سورج طلوع نہیں ہوا۔ جب جمعہ کا سورج طلوع ہوتا ہے تو جن و انس کے علاوہ ہر چیز ڈر جاتی ہے کیونکہ حساب و کتاب انہی کا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5625
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5625، ترقيم محمد عوامة 5555)
حدیث نمبر: 5626
٥٦٢٦ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبد اللَّه بن ضمرة عن كعب قال: الصدقة تضاعف يوم الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن صدقے کا ثواب دوگنا ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5626
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5626، ترقيم محمد عوامة 5556)
حدیث نمبر: 5627
٥٦٢٧ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن هلال بن يساف عن كعب أن يوم الجمعة (يفزع) (١) له الخلائق والجن والأنس وإنه لتضاعف فيه الحسنة والسيئة وإنه ليوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دِن ساری مخلوق اور جن وانس ڈر جاتے ہیں ، اس دن نیکی اور گناہ کا بدلہ دوگنا کردیا جاتا ہے اور یہی قیامت کا دن ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5627
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5627، ترقيم محمد عوامة 5557)
حدیث نمبر: 5628
٥٦٢٨ - حدثنا خالد بن (مخلد) (١) قال: حدثنا كثير بن عبد اللَّه المزني عن أبيه عن جده قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "فِي الجُمُعَةِ سَاعَةٌ مِنَ النَّهَارِ لَا يَسْأَلُ ⦗١٧٨⦘ (الْعَبْدُ فِيهَا) (٢) شَيْئًا إِلَّا أُعْطِيَ سُؤْلَهُ"، قيل (له) (٣): أي ساعة هي؟ قال: "حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ إِلى الانْصِرَافِ مِنْهَا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ مزنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے وہ اسے دے دی جاتی ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی گھڑی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کھڑی ہونے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے کا وقت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5628
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ كثير متروك، أخرجه الترمذي (٤٩٠)، وابن ماجة (١١٣٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5628، ترقيم محمد عوامة 5558)
حدیث نمبر: 5629
٥٦٢٩ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: حدثنا زهير بن محمد عن عبد اللَّه بن محمد عن عبد الرحمن بن يزيد عن أبي (لبابة) (٢) بن عبد المنذر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن يوم الجمعة سيد الأيام وأعظمها عند اللَّه (وأعظم عند اللَّه) (٣) من يوم الأضحى ويوم الفطر، فيه خمس خلال: خلق اللَّه فيه آدم واهبط (اللَّه) (٤) فيه آدم وفيه توفَّى اللَّه آدم وفيه ساعة لا يسأل اللَّهَ العبدُ فيها شيئا إلا أعطاه إياه ما لم يسأل حراما وفيه تقوم الساعة، ما من ملك مقرب ولا أرض ولا سماءٍ ولا رياحٍ ولا جبالٍ ولا بحر إلَّا (وهن مُشْفِقُونَ) (٥) من يومِ الجمعةِ" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کا دن دنوں کا سردار اور اللہ کے نزدیک سب سے افضل دن ہے۔ یہ دن اللہ کے نزدیک عید الفطر اور عید الاضحی سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس دن میں پانچ خوبیاں ہیں : اس میں آدم کو پیدا کیا گیا اس میں آدم کو زمین پر اتار گیا اس میں آدم کی وفات ہوئی جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے وہ اسے دے دی جاتی ہے، اگر حرام کا سوال نہ کرے اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ زمین و آسمان، ہواؤ ں، پہاڑوں اور سمندروں میں کوئی ایسا مقرب فرشتہ نہیں جو جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5629
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عبد اللَّه بن محمد هو ابن عقيل ضعيف، أخرجه أحمد (١٥٥٤٨)، وابن ماجة (١٠٨٤)، والطبراني (٤٥١١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٦٦، والبيهقي في شعبة الإيمان (٢٩٧٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5629، ترقيم محمد عوامة 5559)
حدیث نمبر: 5630
٥٦٣٠ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن ليث عن عثمان عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أتاني جبريلُ وفي يدِهِ كالمرآةِ البيضاءِ فيها ⦗١٧٩⦘ (كالنَّكْتَةِ) (١) السوداءِ فقلت: يا جبريل (ما هذه) (٢)؟ قال: (هذه) (٣) الجمعة، قال: قلت: وما الجمعة؟ قال: لكم فيها خير، قال: قلتُ: وما لنا فيها؟ قال: (تكون) (٤) عيدًا لَكَ ولِقَوْمِكَ مِنْ بعدِكَ ويكُونُ اليهودَ والنصارَى تَبَعًا لَكَ، قال: قلت: (وما لنا فيها؟ قال: لَكُمْ فيهَا ساعةٌ لا يوافقها عبدٌ مسلمٌ يسألُ اللَّهَ فيها شيئًا من) (٥) الدنيا والآخرةِ هو لَهَ قَسَم إلا أعطاهُ إِيَّاهُ أو ليس (له) (٦) بقسمٍ إلا (ادَّخرَ) (٧) لَه (عندهُ) (٨) ما هو أَفْضَلُ منه أو يَتَعَوَّذُ (لِهِ مِنْ شَرٍّ) (٩) هو عليه مكتوبٌ إلا صَرف عنهُ مِنَ البَلَاءِ ما هو أعظمُ منه قَالَ: قلتُ (له) (١٠): وما هَذهِ النُّكْتَةُ فِيهَا؟ قَالَ هِيَ السَّاعَةُ (و) (١١) هي تقوم يوم الجُمُعَةِ وهو عندَنَا سِّيدُ الأَيَامِ ونحنُ ندعُوهُ يومَ القيامةِ (١٢) يوم المزِيدِ قَالَ: قلتُ: ممَّ (ذَاكَ) (١٣)؟ قال: لأن رَبَّكَ ﵎ اتَّخَذَ في الجنَّةِ وَادِيا مِنْ مِسْكٍ أبيضَ فإذا كان يومُ الجمعةِ هَبَطَ من علِّيِّينَ علَى كرسِيِّه ﵎، ثُمَّ ⦗١٨٠⦘ (حَفَّ) (١٤) الكُرْسِيَّ بمَنَابرَ [مِنْ نورٍ ثمَّ يجيءُ النَّبِيُّونَ حَتَّى يجْلسُوا عَلَيْهَا ثُمَّ حَفَّ المنَابِرَ بِكَرَاسِيَّ] (١٥) مِنْ ذَهَبٍ مُكَلَّلَةٍ بالجَوَاهِرِ ثُمَّ (جَاءَ الصِّدِّيقُونَ والشُّهَدَاءُ) (١٦) حَتَّى (يَجْلِسُوا) (١٧) عَلَيْهَا وَيَنْزِلُ أَهْلُ الْغُرَفِ حَتَّى (يجلسُوا) (١٨) على ذَلِكَ الكَثِيبِ ثُمَّ يَتَجَلَّى لَهُمْ رَبُّكَ (١٩) (تَبَارَكَ) (٢٠) وَتَعَالَى ثُمَّ يَقُولُ: سَلُونِي أُعْطِكُمْ قَالَ: فَيَسْأَلُونَهُ الرِّضَى فَيَقُولُ: (رِضَائِي) أُحِلِّكُمْ داري (وأنَالكُمْ كرامتي) (٢١) فَسَلُونِي أُعُطِكُمْ قال: فيسألونَهُ (الرِّضَى) (٢٢) قَالَ: فيُشْهِدُهُمْ أنَّهُ قدْ رَضِيَ عَنْهُمْ، قَالَ: فيفتحُ لهم ما لَمْ تَرَ عَيْنٌ ولَمْ (تَسْمَعْ) (٢٣) أُذُنٌ (ولم) (٢٤) يَخْطُرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ قَالَ: وذلِكُمْ (٢٥) مِقْدَارُ انْصِرَافِكُمْ مِنْ يوم الجُمُعَةِ (قَالَ: ثُمَّ) (٢٦) يرتفعُ ويرتفعُ معَهُ النبيُّونَ والصِّدِّيقُونَ والشهداءُ ويرجعُ أهلُ الغُرَفِ إلى غُرَفِهَم وهِيَ دُرَّةٌ بيضاءُ ليسَ فيهَا فصْمٌ ولا ⦗١٨١⦘ (قَصْمٌ) (٢٧) أوْ دُرَّةٌ حمْرَاءُ أو (زَبْرُجَدَةٌ) (٢٨) خضراءُ فيهَا غُرَفُهَا وأبوابُهَا (مطرُوزَةٌ) (٢٩)، وفيهَا أنْهَارُهَا (مُتَدَلِّيَة فِيهَا ثِمَارُهَا) (٣٠) قَالَ: فَلَيْسُوا إِلَى شَيْءٍ أَحْوَجَ مِنْهُمْ إِلَى يومِ الجمعةِ ليزدَادُوا إلى ربِّهم نظرًا وليزدَادُوا مِنْهُ كَرامَةً" (٣١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل میرے پاس آئے، ان کے پاس سفید آئینے جیسی کوئی چیز تھی جس میں ایک سیاہ نکتہ تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے جبریل ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ جمعہ ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جمعہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے اس میں خیر ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس میں ہمارے لئے کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے لئے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے عید کا دن ہے۔ یہودی اور عیسائی اس میں تمہارے تابع ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس میں ہمارے لئے کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں تمہارے لئے ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں آدمی اللہ سے دنیا وآخرت کی جو بھی چیز مانگتا ہے اسے عطا کی جاتی ہے۔ اگر وہ چیز اس کے نصیب میں نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے افضل چیز اس کے نصیب میں لکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر وہ کسی چیز سے پناہ مانگتا ہے اور وہ اس کے نصیب میں لکھا جاچکا ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے بڑے شر سے اس کو نجات عطا فرمادیتے ہیں۔ میں نے حضرت جبریل سے پوچھا کہ اس آئینے میں یہ نکتہ کیسا ہے ؟ حضرت جبریل نے بتایا کہ یہ وہی ساعت قبولیت ہے جو جمعہ کے دن قائم ہوتی ہے۔ ہم جمعہ کے دن کو قیامت کے دن ” یوم المزید “ کہیں گے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اسے یوم المزید کس وجہ سے کہا جائے گا ؟ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ جنت میں سفید مشک کی ایک وادی بنائیں گے، پھر جمعہ کے دن علیین سے اتر کر اپنی کرسی پر تشریف رکھیں گے، پھر کرسی کے اردگرد سونے کے ایسے منبر ہوں گے جنہیں جواہر سے مزین کیا گیا ہوگا۔ پھر انبیاء کرام آئیں گے اور ان منبروں پر بیٹھیں گے۔ پھر جنت کے کمروں والے لوگ نکلیں گے اور خوشبو کے ٹیلوں پر بیٹھے گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور کہے گا کہ تم مجھ سے جو چاہو گے تمہیں عطا کیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی رضا طلب کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تمہارے لئے میری رضا کی علامت یہ ہے کہ میں نے تمہیں اپنے گھر میں مقیم کردیا اور اپنی مہمان نوازی عطا کردی۔ تم مجھ سے کچھ اور مانگو ، میں تمہیں عطا کروں گا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی رضا مانگیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں گواہ بنائیں گے کہ وہ ان سے راضی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسی نعمتوں کو کھولیں گے جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر ان کا خیال تک نہیں گذرا۔ اور اس کا دورانیہ تمہاری جمعہ کے دن سے واپسی کی مقدار ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ تشریف لے جائیں گے اور ان کے ساتھ انبیاء، صدیقین اور شہداء بھی چلے جائیں گے۔ کمروں میں رہنے والے لوگ بھی اپنے کمروں میں چلے جائیں گے، وہ کمرے ایسے سفید موتی کے بنے ہوں گے جس میں نہ کوئی جوڑ ہوگا اور نہ کوئی شگاف۔ یا وہ سرخ موتی کے ہوں گے۔ یا سبز زبرجد کے۔ اس میں اس کے اپنے کمرے بھی ہوں گے۔ اس کے دروازے کھلے ہوں گے اور ان میں نہریں جاری ہوں گے، اس کے پھلوں کے خوشے لٹکے ہوں گے۔ اہل جنت جنت کی کسی چیز کے اس سے زیادہ خواہشمند نہیں ہوں گے کہ وہ اپنے رب کو زیادہ سے زیادہ دیکھیں اور اس کے اکرام سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5630
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف، لضعف ليث بن أبي سليم وعثمان بن عُمير البجلي، أخرجه البخاري في التاريخ ٦/ ٢٤٥، وأبو يعلى (٤٠٨٩)، وابن أبي حاتم في التفسير ٤/ ١٢٥٦ (٧٠٧٠) و ٦/ ١٨٦٩ (١٠٣٠٧)، وابن جرير ٢٦/ ١٧٥، والطبراني في الأوسط (٢٠٨٤)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢٦٣، والخطيب في الموضح ٢/ ٢٩٤، والدارقطني في الرؤية (٦٩)، والآجري في الشريعة (٦١٢)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (٤٦٠)، ومحمد بن عثمان بن أبي شيبة في العرش (٨٨)، وابن بطة في الإبانة ٣/ ٢٨، والدارمي في الرد على الجهمية (١٤٥)، وابن منده (٩٢)، والضياء في المختارة ٦/ (٢٢٩١)، والحارث (١٩٦ /بغية)، والعقيلي في الضعفاء ١/ ٢٩٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5630، ترقيم محمد عوامة 5560)
حدیث نمبر: 5631
٥٦٣١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن يزيد الرقاشي عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "جاءني جبريلُ بمرآةٍ بيضاءَ فيها نكتةٌ سوداءُ (قَالَ) (١): فقلتُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: هذِهِ الجمعةُ وفيها (السَّاعَةُ) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبریل میرے پاس ایک سفید آئینہ لے کر آئے جس میں ایک سیاہ نکتہ تھا۔ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ جمعہ ہے اور یہ اس میں ایک ساعت قبولیت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5631
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أبو يعلى (٤٠٨٩)، وبحشل في تاريخ واسط ص ٦٤، والحارث (١٩٠/ بغية) وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5631، ترقيم محمد عوامة 5561)