کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر امام جمعه کو اتنا مؤخر کر دے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 5595
٥٥٩٥ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد قال: أطال بعض الأمراء الخطبة (فأنكيت) (١) يدي حتى أدميتها ثم قمت وأخذتني السياط فمضيت فخرجت.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ ایک امیر نے ایک مرتبہ خطبہ بہت لمبا کردیا تو میں نے اپنے ہاتھ کا پھوڑا پھاڑ دیا جس سے خون نکلنے لگا۔ میں اس بہانے سے اٹھا (تاکہ جاکر اپنی نماز پڑھ لوں) اتنے میں اس کے دربانوں نے مجھے پکڑ لیا۔ لیکن میں بھی پھر چلتا رہا اور باہر نکل گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5595
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5595، ترقيم محمد عوامة 5526)
حدیث نمبر: 5596
٥٥٩٦ - حدثنا ابن علية عن سوار عن عبد الواحد بن (صبرة) (١) أن سالما حدث القاسم بن محمد قال: لما قدم علينا الأمير (جاءت الجمعة) (٢) فجمّع (بنا) (٣) فما زال يخطب ويقرأ الكتب حتى مضى وقت الجمعة ولم ينزل يصلي، فقال له القاسم: فما قمت فصليت قال: لا واللَّه خشيت أن يقال رجل من آل عمر قال: فما صليت قاعدا، قال: لا قال: فما أومأت، قال: [لا (قال) (٤): ثم ما زال يخطب ويقرأ حتى مضى وقت العصر (ولم ينزل يصلي) (٥) (فقال) (٦) له القاسم: فما قمت صليت، قال: لا قال: فما صليت قاعدا، قال: لا قال: فما أومأت قال: لا] (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الواحد بن سبرہ کہتے ہیں کہ حضرت سالم نے ایک مرتبہ حضرت قاسم بن محمد کو بتایا کہ جب ہمارا امیر ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں جمعہ پڑھایا تو وہ اتنی دیر تقریر کرتا رہا اور خطوط پڑھتا رہا کہ جمعہ کا وقت نکل گیا لیکن اس نے نیچے اتر کر نماز نہیں پڑھائی۔ یہ سن کر حضرت قاسم نے ان سے کہا کہ پھر آپ نے کھڑے ہوکر اپنی نماز نہیں پڑھی ؟ سالم نے کہا نہیں، خدا کی قسم ! مجھے یہ ڈر تھا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر کی اولاد میں سے ایک آدمی نے یوں کیا ہے ؟ انہوں نے پوچھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز نہیں پڑھی ؟ سالم نے کہا نہیں۔ حضرت قاسم نے پوچھا کہ آپ نے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر حضرت سالم نے بتایا کہ وہ تقریر کرتا رہا اور خط پڑھتا رہا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت بھی گذر گیا لیکن اس نے اتر کر نماز نہیں پڑھائی۔ حضرت قاسم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اٹھ کر نماز نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ قاسم نے پوچھا کہ آپ نے بیٹھ کر بھی نماز نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ قاسم نے پوچھا کہ کیا آپ نے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5596
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5596، ترقيم محمد عوامة 5527)
حدیث نمبر: 5597
٥٥٩٧ - [حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن إبراهيم بن المهاجر عن أبي بكر بن عمرو بن عتبة الزهري قال: أخّر الحجاج الجمعة فلما (صلى) (١) صلاها معه أبو جحيفة ثم قام فوصلها بركعتين ثم قال: يا أبا بكر أشهدك ⦗١٧١⦘ أنها العصر] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ زہری فرماتے ہیں کہ حجاج نے جمعہ کو مؤخر کیا، جب اس نے نماز پڑھائی تو حضرت ابوجحیفہ نے اس کے ساتھ بھی نماز پڑھی اور پھر بعد میں دو رکعتیں بھی پڑھیں۔ پھر فرمایا اے ابوبکر ! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ یہ عصر کی نماز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5597
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5597، ترقيم محمد عوامة 5528)
حدیث نمبر: 5598
٥٥٩٨ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن إبراهيم بن مهاجر قال: (كان) (١) الحجاج يؤخر الجمعة فكنت (أصلي أنا) (٢) وإبراهيم وسعيد بن جبير (نصلي) (٣) الظهر ثم نتحدث وهو يخطب ثم نصلي معهم ثم نجعلها نافلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حجاج جمعہ کی نماز کو بہت مؤخر کیا کرتا تھا، اس وجہ سے میں، حضرت ابراہیم اور حضرت سعید بن جبیر ظہر کی نماز پڑھ لیتے تھے اور اس کے خطبے کے دوران باتیں کرتے تھے۔ پھر ہم لوگوں کے ساتھ نفل کی نیت سے نماز پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5598
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5598، ترقيم محمد عوامة 5529)
حدیث نمبر: 5599
٥٥٩٩ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن مسلم قال: كانت أجلس مع مسروق وأبي عبيدة زمن زياد فإذا دخل وقت الصلاة قاما فصليا ثم يجلسان حتى إذا أذن (١) المؤذن وخرج الإمام قاما فصليا معه ويفعلانه في العصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ میں زیاد کے زمانے میں حضرت مسروق اور حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا۔ جب نماز کا وقت آتا تو وہ دونوں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے پھر بیٹھ جاتے۔ پھر جب مؤذن اذان دیتا تو امام نکلتا تو وہ کھڑے ہوکر اس کے ساتھ بھی نماز پڑھتے تھے اور ایسا وہ عصر کے وقت کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5599
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5599، ترقيم محمد عوامة 5530)
حدیث نمبر: 5600
٥٦٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي هاشم أن الحجاج أخر الصلاة فأومأ أبو وائل وهو جالس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہاشم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج نے نماز کو مؤخر کیا تو حضرت ابو وائل نے بیٹھے بیٹھے اشارے سے نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5600
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5600، ترقيم محمد عوامة 5531)
حدیث نمبر: 5601
٥٦٠١ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن عبد اللَّه بن عثمان (بن) (١) خثيم (عن) (٢) القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه أن الوليد (٣) بن عقبة أخر الصلاة بالكوفة وأنا جالس مع أبي في المسجد فقام عبد اللَّه (فثوب) (٤) بالصلاة فصلى للناس ⦗١٧٢⦘ فأرسل إليه الوليد بن عقبة ما حملك على ما صنعت أجاءك من أمير المؤمنين أمر فيما (قبلنا) (٥) فسمع وطاعة أم ابتدعت ما صنعت اليوم قال: لم يأتني من أمير المؤمنين أمر ومعاذ اللَّه أن أكون ابتدعت، أبى اللَّه ورسوله أن ننتظرك بصلاتنا وأنت في حوائجك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے کوفہ میں نماز میں تاخیر کردی۔ میں مسجد میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا تھا کہ حضرت عبد اللہ کھڑے ہوئے اور نماز کا اعلان کرکے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ولید بن عقبہ نے پیغام بھیج کر انہیں بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ اگر امیر المؤمنین کی طرف سے آپ کے پاس کوئی حکم آیا ہے تو ہم اسے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور اگر ایسا نہیں تو پھر آپ نے آج بدعت کا ارتکاب کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میرے پاس امیر المؤمنین کی طرف سے کوئی حکم نہیں آیا اور میں بدعت کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس بات کا انکار ہے کہ ہم نماز کے لئے تمہارا انتظار کرتے رہیں اور تم اپنے کاموں میں مشغول رہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5601
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5601، ترقيم محمد عوامة 5532)
حدیث نمبر: 5602
٥٦٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد عن الزبرقان قال: قلت لشقيق إن الحجاج (يميت) (١) الجمعة قال: (تكتم) (٢) (عليّ) (٣) (قال) (٤) قلت: نعم قال: صلّها في بيتك لوقتها ولا تدع الجماعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے شقیق سے کہا کہ حجاج ہمارا جمعہ ضائع کرادیتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم راز رکھو تو تمہیں ایک بات کہوں ؟ میں نے کہا ہاں راز رکھوں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ نماز کو اس کے وقت میں گھر میں پڑھ لیا کرو اور اسے جماعت کے لئے نہ چھوڑو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5602
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5602، ترقيم محمد عوامة 5533)