کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کچھ لوگوں کو جمعہ کی نماز نہ مل سکی تو اب وہ جمعہ پڑھیں گے یا ظہر کی نماز ؟
حدیث نمبر: 5507
٥٥٠٧ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو أسامة عن موسى بن مسلم قال: شهدت إبراهيم التيمي وإبراهيم النخعي وزرًّا وسلمة بن كهيل فذكر زرّ (والتيمي) (١) في يوم جمعة ثم صلوا الجمعة أربعا في مكانهم وكانوا خائفين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن مسلم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن ابراہیم تیمی، ابراہیم نخعی، حضرت زر اور حضرت سلمہ بن کہیل کے ساتھ تھا۔ حضرت زر اور حضرت تیمی نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا تو انہوں نے جمعہ کی چار رکعتیں اسی جگہ پڑھ لیں وہ (ظالم حجاج بن یوسف) کے خوف سے چھپے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 5508
٥٥٠٨ - حدثنا وكيع عن أفلح قال: أذن مؤذن ونحن بالروحاء في يوم جمعة فجئنا وقد صلوا فصلى القاسم ولم يجمع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت افلح فرماتے ہیں کہ ہم مقام روحاء میں تھے کہ مؤذن نے اذان دی۔ جب ہم پہنچے تو لوگ نماز پڑھ چکے تھے۔ حضرت قاسم نے اپنی نماز پڑھی اور جمعہ نہیں پڑھا۔
حدیث نمبر: 5509
٥٥٠٩ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن في قوم (فاتتهم) (١) الجمعة قال: يصلّون شتّي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن ان لوگوں کے بارے میں جن کی جمعہ کی نماز فوت ہوجائے فرماتے ہیں کہ وہ علیحدہ علیحدہ نماز پڑھیں گے۔
حدیث نمبر: 5510
٥٥١٠ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن القاسم بن الوليد قال: قال عليّ: لا جماعة يوم جمعة إلا مع الإمام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جمعہ کی نماز کی جماعت امام کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 5511
٥٥١١ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا (جميل) (١) بن عبيد الطائي قال: رأيت إياس بن معاوية وهو يومئذ قاضي البسورة جاء إلى الجمعة وفاتته فتقدم فصلّى (٢) بنا الظهر أربع ركعات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جمیل بن عبید کہتے ہیں کہ حضرت ایاس بن معاویہ جن دنوں بصرہ کے قاضی تھے، وہ جمعہ کے لئے آئے تو دیکھا کہ نماز ہوچکی ہے۔ انہوں نے ہمیں ظہر کی چار رکعات پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 5512
٥٥١٢ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الحسن بن عبيد اللَّه قال: أتيت المسجد أنا وزرّ يوم الجمعة فوجدناهم قد صلّوا فصلينا جميعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت زر جمعہ کے دن مسجد آئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ جمعہ کی نماز پڑھ چکے ہیں۔ چناچہ ہم نے اکٹھے نماز پڑھ لی۔