کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص جمعہ کے لئے چلے لیکن لوگوں کو جمعہ پڑھ کر واپس آتے دیکھے تو جاتا رہے یا واپس مڑ جائے؟
حدیث نمبر: 5503
٥٥٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا هشام (١) عن ابن سيرين عن زيد بن ثابت أنه راح إلى الجمعة فإذا الناس قد استقبلوه وقد صلوا، قال: فمال إلى (مسجد) (٢) (أو) (٣) إلى دار فصلى قال: فقيل له: في ذلك فقال: إنه من لا يستحي من الناس لا يستحي من اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت ایک مرتبہ جمعہ کے لئے چلے، لیکن آگے دیکھا کہ لوگ واپس آرہے ہیں تو وہ کسی مسجد یا کسی گھر کی طرف مڑ گئے۔ حضرت زید کی اس بات پر کسی نے اشکال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جو لوگوں سے حیا نہیں کرتا وہ اللہ سے بھی حیا نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 5504
٥٥٠٤ - حدثنا هشيم عن ابن عون وحجاج [(بن) (١) أبي عثمان] (٢) عن ابن سيرين أنه كان يقول: إذا استقبلك الناس يوم الجمعة وقد صلّوا فامض إلى المسجد فإن علمت ما قرأ به الإمام فاقرأ به وصل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرمایا کرتے تھے کہ جب لوگ تمہیں جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس جاتے ہوئے ملیں تو تم پھر بھی مسجد کی طرف چلے جاؤ۔ پھر اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ امام نے کون سی سورتوں کی قراءت کی تھی تو تم بھی انہی سورتوں کی تلاوت کرو۔
حدیث نمبر: 5505
٥٥٠٥ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين أن زيد (١) بن ثابت لقي الناس راجعين من الجمعة فمال إلى دار له، فقال: من لا يستحي من الناس لا يستحي من اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت ایک مرتبہ جمعہ کے لئے چلے، لیکن آگے دیکھا کہ لوگ واپس آرہے ہیں تو وہ کسی گھر کی طرف مڑ گئے۔ حضرت زید کی اس بات پر کسی نے اشکال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جو لوگوں سے حیا نہیں کرتا وہ اللہ سے بھی حیا نہیں کرتا۔ حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ وہ نماز کے لئے چلتا جائے۔
حدیث نمبر: 5506
٥٥٠٦ - قال: وقال الحسن وابن سيرين: يمضي.