کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جمعہ کے خطبہ میں قرآن مجید کی تلاوت کی جا سکتی ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 5308
٥٣٠٨ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن يحيى (بن) (١) عبد اللَّه (بن) (٢) عبد الرحمن بن سعد ابن زرارة عن (أم هاشم) (٣) ابنة جارية أو حارثة قالت: ما أخذت ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ إلا على لسان رسول اللَّه ﷺ يقرؤها على الناس في كل (يوم) (٤) جمعة إذا خطبهم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ہشام فرماتی ہیں کہ میں نے سورة ق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان اقدس سے سیکھی ہے۔ آپ ہر جمعہ لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اس کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5309
٥٣٠٩ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم بن كليب عن أبيه قال: كان (عمر) (١) يعجبه أن يقرأ (سورة) (٢) (آل عمران) في الجمعة إذا خطب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو یہ بات پسند تھی کہ جمعہ کے ہر خطبہ میں سورة آل عمران کی تلاوت کریں۔
حدیث نمبر: 5310
٥٣١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن هارون بن عنترة عن أبيه أن عليا قرأ وهو على المنبر: ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عنترہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر سورة الکافرون اور سورة الاخلاص کی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 5311
٥٣١١ - حدثنا ابن علية عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: نزلنا المدائن فكنا منها على رأس (فرسخ) (١) فجاءت الجمعة (فحضر) (٢) أبي وحضرت معه فخطبنا حذيفة فقال: إن اللَّه ﵎ يقول: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ [القمر: ١] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ہم مدائن سے ایک فرسخ کے فاصلے پر رہائش پذیر ہوئے۔ جمعہ کا دن آیا تو میں اور میرے والد جمعہ کے لئے حاضر ہوئے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں ارشاد فرمایا ” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا “
حدیث نمبر: 5312
٥٣١٢ - حدثنا هشيم عن يونس عن بكر بن عبد اللَّه عن صفوان بن (محرز) (١) قال: بينا الأشعري يخطب يوم الجمعة (٢) إذ قرأ السجدة الآخرة في سورة الحج (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ حضرت اشعری ہمیں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے اس میں انہوں نے سورة الحج کے دوسرے سجدے کی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 5313
٥٣١٣ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى قال: سمعت عمر بن عبد العزيز يقرأ وهو على المنبر ﴿(وَ) (١) أَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا﴾ [الزمر: ٥٤]، وفي يده عصا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو منبر پر یہ آیت پڑھتے سنا ہے : اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور خود کو اس کے حوالے کردو۔ خطبے کے دوران ان کے ہاتھ میں عصا تھا۔