کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب امام منبر پر بیٹھے تو سلام کرے
حدیث نمبر: 5301
٥٣٠١ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا (١) أبو أسامة قال حدثنا مجالد عن الشعبي قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا صعد المنبر يوم الجمعة استقبل الناس بوجهه فقال: "السَّلَامُ عَلَيكُمْ"، ويحمد اللَّه ويثني عليه ويقرأ سورة ثم يجلس ثم يقوم فيخطب ثم ينزل وكان أبو بكر وعمر يفعلانه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جمعہ کے دن منبر پر جلوہ افروز ہوتے تو لوگوں کی طرف رخ کرکے السلام علیکم کہتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان فرماتے ، اور کسی سورت کی تلاوت کرتے۔ پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے ۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی یونہی کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5301
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ مجالد ضعيف، والشعبي ليس من الصحابة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5301، ترقيم محمد عوامة 5238)
حدیث نمبر: 5302
٥٣٠٢ - حدثنا غسان بن مضر عن سعيد بن يزيد عن أبي نضرة قال: كان عثمان قد كبر فإذا سعد المنبر (سلم) (١) فأطال قدر ما يقرأ إنسان أم الكتاب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان منبر پر چڑھ کر سلام کیا کرتے تھے۔ آپ اتنی دیر خطبہ دیتے جتنی دیر میں آدمی سورة الفاتحہ کی تلاوت کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5302
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5302، ترقيم محمد عوامة 5239)
حدیث نمبر: 5303
٥٣٠٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عمرو بن مهاجر أن عمر بن عبد العريز كان إذا استوى على المنبر سلم على الناس وردوا عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مہاجر کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز منبر پر چڑھ کر لوگوں کو سلام کیا کرتے تھے اور لوگ ان کے سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5303
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5303، ترقيم محمد عوامة 5240)