کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی عورت جمعہ کی نماز کے لئے آئے تو اس کے لئے امام کی نماز کافی ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 5259
٥٢٥٩ - حدثنا أبو معاوية عن مسلم بن نجيح عن عبد اللَّه بن معدان عن جدته قالت: قال لنا عبد اللَّه بن مسعود: إذا صليتن يوم الجمعة مع الإمام فصلين بصلاته، وإذا صليتن في بيوتكن فصلين أربعا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن معدان کی دادی کہتی ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم عورتوں سے فرمایا تھا کہ اگر تم جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے آؤ تو امام کے ساتھ اسی کی نماز پڑھو اور اگر گھر میں نماز پڑھو تو چار رکعتیں پڑھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5259
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5259، ترقيم محمد عوامة 5197)
حدیث نمبر: 5260
٥٢٦٠ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن في (المرأة) (١) تحضر المسجد يوم الجمعة أنها تصلي بصلاة الإمام ويجزئها ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس عورت کے بارے میں جو جمعہ کے دن مسجد میں نماز پڑھنے آئے فرماتے ہیں کہ وہ امام کے ساتھ اس کی نماز جیسی نماز پڑھے گی اور یہی اس کے لئے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5260
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5260، ترقيم محمد عوامة 5198)
حدیث نمبر: 5261
٥٢٦١ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: إن جمعن مع الإمام أجزأهن من صلاة الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر عورتیں امام کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھیں تو ان کے لئے امام کی نماز کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5261
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5261، ترقيم محمد عوامة 5199)
حدیث نمبر: 5262
٥٢٦٢ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: كن النساء يجمّعن مع النبي ﷺ وكان يقال: لا تخرجن إلا تفلات لا يوجد منكن ريح طيب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھا کرتی تھیں۔ ان سے یہ کہا جاتا تھا کہ وہ بغیر خوشبو لگائے جمعہ کے لئے حاضر ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5262
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5262، ترقيم محمد عوامة 5200)
حدیث نمبر: 5263
٥٢٦٣ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن هشام (الدستوائي) (١) عن حماد عن إبراهيم في المرأة تأتي الجمعة قال: تصلّي ركعتين تجزئ عنها، ولكنه ليس (لها) (٢) أن تأتي الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت جمعہ کے لئے آئے تو وہ دو رکعتیں پڑھے گی، البتہ جمعہ میں شریک ہونا اس پر لازم نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5263
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5263، ترقيم محمد عوامة 5201)
حدیث نمبر: 5264
٥٢٦٤ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: كن نساء المهاجرين يصلين الجمعة مع رسول اللَّه ﷺ ثم (يحتسبن) (١) بها من الظهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مہاجرین عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھا کرتی تھیں اور اسے ظہر کی نماز کے بدلے میں کافی سمجھتیں تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5264
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5264، ترقيم محمد عوامة 5202)
حدیث نمبر: 5265
٥٢٦٥ - حدثنا ابن نمير عن سعيد عن قتادة قال: إن صلت مع الإمام أجزاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت امام کے ساتھ نماز پڑھے تو امام کی نماز اس کے لئے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5265
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5265، ترقيم محمد عوامة 5203)