حدیث نمبر: 5252
٥٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن (الرؤاسي) (١) (عن الحسن) (٢) عن أبيه عن أبي حازم (عن) (٣) مولى لآل الزبير قال: قال رسول اللَّه ﷺ "الجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ حَالِمٍ إِلَّا أَرْبَعَةً: الصَّبِيُّ وَالْعَبْدُ وَالْمَرْأَةُ والْمَرِيضُ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
آل زبیر کے ایک مولیٰ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر بالغ پر جمعہ واجب ہے سوائے چار لوگوں کے : بچہ غلام عورت مریض۔
حدیث نمبر: 5253
٥٢٥٣ - حدثنا هشيم عن ليث عن محمد بن كعب القرظي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ باللَّهِ وَاليومِ الآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةُ يَوْمَ الجُمُعَةِ إِلَّا عَلَى امْرَأَةِ (وَ) (١) صَبيٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ وْمَرِيضٍ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ واجب ہے سوائے ان کے : عورت بچہ غلام مریض۔
حدیث نمبر: 5254
٥٢٥٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: ليس على النساء جمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ عورتوں پر جمعہ واجب نہیں۔
حدیث نمبر: 5255
٥٢٥٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) عن أبي فروة (قال: سمعت الشعبي يقول: الجمعة حقٌ على كل مؤمن إلا ثلاثة: عبد مملوك أو مريض أو امرأة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ہر مومن پر جمعہ واجب ہے سوائے تین لوگوں کے : غلام، مریض اور عورت۔
حدیث نمبر: 5256
٥٢٥٦ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الوصافي قال: كنت عند عمر بن عبد العزيز فكتب إلى عبد الحميد: انظر من قبلك من النساء، فلا يحضرن جماعة، ولا جنازة، فإنه لا حق لهن في جمعة ولا جنازة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وصافی کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے ساتھ تھا، انہوں نے حضرت عبد الحمید کو خط لکھا کہ عورتوں کے بارے میں یہ خیال رکھو کہ وہ جماعت اور جنازہ میں شریک نہ ہوں۔ ان پر جمعہ اور جنازہ واجب نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 5257
٥٢٥٧ - حدثنا (حفص) (١) عن ليث عن مجاهد قال: ليس على العبد (جمعة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ غلام پر جمعہ کی نماز لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 5258
٥٢٥٨ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: ليس على العبد (جمعة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ غلام پر جمعہ کی نماز لازم نہیں۔