کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر اقامت کے بعد امام کو کوئی کام پیش آ جائے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 4219
٤٢١٩ - حدثنا أبو بكر قال: (نا وكيع قال: أخبرنا) (١) مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن (معقل) (٢) بن أبي بكر: أن عمر بن الخطاب انتظر بعد ما أقيمت الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ نماز کی اقامت کہے جانے کے بعد حضرت عمر کا انتظار کیا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 4220
٤٢٢٠ - حدثنا ابن علية عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس قال: أقيمت الصلاة ورسول اللَّه ﷺ نجيّ لرجل في جانب المسجد فما قام إلى الصلاة حتى (نام) (١) القوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جماعت کھڑی ہوگئی تھی لیکن رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے کونے میں کھڑے ایک آدمی سے اتنی دیر سرگوشی فرماتے رہے کہ لوگ سونے لگے۔
حدیث نمبر: 4221
٤٢٢١ - حدثنا ابن علية عن التيمي عن أبي عثمان قال: إن كان عمر ليقاوم الرجل بعد ما تقام الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ حضرت عمر اقامت کے بعد بھی بعض اوقات کسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہوکر کوئی ضروری بات کرلیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4222
٤٢٢٢ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن أبي مجلز قال: أقيمت الصلاة وصفت الصفوف، (فاندرأ) (١) رجل لعمر فكلمه فأطالا القيام حتى ألقيا إلى الأرض والقوم صفوف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اقامت کہہ دی گئی تھی اور صفیں بنالی گئی تھیں کہ ایک آدمی آیا اور اس نے حضرت عمر سے گفتگو شروع کردی، وہ دونوں کافی دیر تک گفتگو کرتے رہے اور پھر زمین پر بیٹھ گئے، جبکہ لوگ صفوں میں کھڑے تھے۔