کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کو امامت کرانا پسند نہ تھا
حدیث نمبر: 4159
٤١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي ظبيان عن حذيفة قال: خرج في سفر فتقدم فامهم، ثم قال: (لتلتمسن) (١) إماما غيري، أو لتصلن وحدانا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ظبیان فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہایک سفر میں تھے، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا کہ یا تو تم کوئی دوسرا امام ڈھونڈ لو یا الگ الگ نماز پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4159
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4159، ترقيم محمد عوامة 4137)
حدیث نمبر: 4160
٤١٦٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أشياخ محارب قال: قال حذيفة: لتبتغن إماما غيري أو لتصلن وحدانا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یا تو تم کوئی دوسرا امام ڈھونڈ لو یا الگ الگ نماز پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4160
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4160، ترقيم محمد عوامة 4138)
حدیث نمبر: 4161
٤١٦١ - حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ابتدروا الأذان ولا تبتدروا الإمامة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اذان کے لئے آگے بڑھ کر کوشش کیا کرو لیکن امامت کے لئے آگے مت بڑھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4161
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4161، ترقيم محمد عوامة 4139)
حدیث نمبر: 4162
٤١٦٢ - حدثنا وكيع عن (حسن) (١) بن (عقبة) (٢) ((بي) (٣) كيران) (٤) قال: كنا مع الضحاك فقال: إن كان منكم من يتقدم فليؤذن (وليصل) (٥)، قال: فأبوا، فصلينا وحدانا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عقبہ فرماتے ہیں کہ ہم حضر ت ضحاک کے ساتھ تھے انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا ہے جو آگے بڑھ کر اذان دے اور نماز پڑھائے۔ سب لوگوں نے انکار کیا تو ہم نے علیحدہ علیحدہ نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4162
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4162، ترقيم محمد عوامة 4140)
حدیث نمبر: 4163
٤١٦٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم قال: أمَّ أبو عبيدة قومًا ⦗٤٠٣⦘ (مرة) (١)، فلما انصرف قال: ما زال عليّ الشيطان أنفا حتى رأيت (أن) (٢) الفضل (لي) (٣) على من خلفي، لا أؤم أبدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ نے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ شیطان مسلسل میرے دل میں یہ بات ڈالتا رہا کہ میں اپنے پیچھے کھڑے ہوئے لوگوں سے افضل ہوں۔ لہٰذا اب میں کبھی نماز نہں ر پڑھاؤں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4163
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4163، ترقيم محمد عوامة 4141)
حدیث نمبر: 4164
٤١٦٤ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم قال: كان حذيفة يتخلف عن الإمامة قال: فأقيمت الصلاة (ذات يوم) (١) قال: فتخلف عبد اللَّه، قال: فتقدم حذيفة، فلما قضى صلاته قال لهم: لتبتغن -أو كلمة غيرها- (إماما) (٢) غيري، أو لتصلن (فرادى، قال: فقال مجاهد: قال أبو معمر عن حذيفة أنه قال: أو لتصلن) (٣) وحدانا قال: فقال إبراهيم، (أو قال) (٤): لتصلن وحدانا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہامامت سے پیچھے رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو حضرت عبد اللہ پیچھے ہوگئے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو نماز کے لئے آگے ہونا پڑا۔ جب انہوں نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ یا تو تم کسی اور کو امام بنا لو یا ا کے لم اکیلے نماز پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4164
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4164، ترقيم محمد عوامة 4142)
حدیث نمبر: 4165
٤١٦٥ - حدثنا هشيم قال أخبرنا (١) العوام قال: حدثنا عبد اللَّه بن أبي الهذيل قال: كان شيخ من (تلك) (٢) الشيوخ يؤم قومه، ثم ترك ذلك، قال: فلقيه بعض إخوانه، فقال (له) (٣): لم تركت إمامة قومك؟ قال: كرهت أن يمر المار فيراني أصلي فيقول: ما قدم هؤلاء هذا الرجل إلا وهو (خيرهم) (٤)، واللَّه لا أؤمهم أبدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھے صاحب لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے پھر انہوں نے نماز پڑھانی چھوڑ دی۔ ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نماز پڑھانی کیوں چھوڑ دی ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ کوئی شخص مجھے نماز پڑھاتے ہوئے دیکھے اور کہے کہ اس آدمی کو اس لئے آگے کیا گیا ہے کہ یہ سب سے افضل ہے۔ خدا کی قسم ! میں آئندہ نماز نہیں پڑھاؤں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4165
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4165، ترقيم محمد عوامة 4143)
حدیث نمبر: 4166
٤١٦٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا ابن عون قال: كنت مع ابن سيرين في جنازة، فلما انصرفنا حضرت الصلاة، قال: فلما أقيمت قيل لابن سيرين: تقدم (١)، فقال: ليتقدم بعضكم، ولا يتقدم إلا من قرأ القرآن، قال: ثم قال لي: تقدم. فتقدمت، فصليت بهم، فلما فرغت قلت في نفسي: ماذا صنعت شيئا كرهه ابن سيرين لنفسه تقدمت عليه؟ فقلت له: يرحمك اللَّه أمرتني بشيء كرهته لنفسك، فقال: إني كرهت أن يمر المار فيقول: هذا ابن سيرين يؤم الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں حضرت ابن سیرین کے ساتھ تھا۔ جب ہم جنازے سے فارغ ہوئے تو نماز کا وقت ہوگیا۔ جب نماز کی اقامت کہی گئی تو حضرت ابن سیرین سے کہا گیا کہ آگے ہوجائیں ! انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آگے ہوجائے، اور آگے وہی ہو جس نے قرآن مجید پڑھا ہو۔ پس میں آگے ہوگیا اور میں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب میں نماز پڑھا کر فارغ ہوا تو میں نے اپنے دل میں کہا میں نے یہ کیا کیا ؟ جس کا م کو ابن سیرین نے اپنے لئے ناپسند کیا میں وہ کر بیٹھا اور آگے بڑھ گیا ! چناچہ میں نے حضرت ابن سیرین سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، آپ نے مجھے ایک ایسے کام کا حکم دیا ہے جسے اپنے لئے ناپسند فرمایا ؟ وہ کہنے لگے کہ میں اس بات کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ کوئی گذرنے والا گذرے اور کہے یہ ابن سیرین ہیں جو نماز پڑھا رہے ہیں !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4166
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4166، ترقيم محمد عوامة 4144)