کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4151
٤١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أشعث بن أبي الشعثاء قال: قيل للأسود بن هلال: تقدم، فقال: أراضون أنتم؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت اسود بن ہلال سے کہا گیا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا تم میری امامت سے راضی ہو ؟
حدیث نمبر: 4152
٤١٥٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (موسى) (١) بن قيس الحضرمي عن العيزار بن جرول: أن قوما شكوا إماما لهم إلى علي، فقال (له علي) (٢): إنك لخروط تؤم قوما وهم كارهون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیزار بن جرول کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اپنے امام کی شکایت کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ تم بہت بیوقوف آدمی ہو، تم لوگوں کو نماز پڑھاتے ہو اور وہ تم سے خوش نہیں۔
حدیث نمبر: 4153
٤١٥٣ - حدثنا وكيع قال: نا أبو عبيدة الناجي عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أم قوما وهم له كارهون لم تجز صلاته ترقوته" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کچھ لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس کی امامت پر راضی نہ ہوں تو اس کی نماز اس کے سر کے اوپر نہیں جاتی۔
حدیث نمبر: 4154
٤١٥٤ - حدثنا ابن إدريس عن الأعمش (عن المنهال) (١) عن عبد اللَّه بن الحارث قال: ثلاثة لا تجاوز صلاة أحدهم رأسه: إمام قوم وهم له كارهون، وامرأة تعصي زوجها، وعبد أبق من سيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سر کے اوپر بھی نہیں جاتی۔ ایک وہ امام جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس کی امامت سے خوش نہ ہوں۔ دوسری وہ عورت جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے۔ تیسرا وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہو۔
حدیث نمبر: 4155
٤١٥٥ - حدثنا جرير عن منصور عن هلال بن يساف عن زياد بن أبي الجعد عن عمرو بن الحارث بن المصطلق قال: كان يقال: أشد الناس عذابا: امرأة تعصي زوجها، وإمام قوم وهم (له) (١) كارهون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حارث فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا : وہ عورت جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے اور وہ امام جس سے لوگ خوش نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 4156
٤١٥٦ - حدثنا هشيم قال: (حدثنا) هشام بن حسان قال: حدثنا الحسن أن رسول اللَّه ﷺ قال: "ثلاثة لا تقبل لهم صلاة: رجل أم قوما وهم له كارهون، والعبد إذا أبق حتى يرجع إلى مولاه، والمرأة إذا باتت مهاجرة لزوجها عاصية له" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی : ایک وہ آدمی جو لوگوں کو نماز پڑھائے لیکن وہ اس کی امامت سے خوش نہ ہوں۔ دوسرا وہ غلام جو اپنے آقا سے بھاگا ہو یہاں تک کہ وہ واپس آجائے۔ وہ عورت جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے اور ناراض ہو کر اس سے الگ رہے۔
حدیث نمبر: 4157
٤١٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: سمعت القاسم بن مخيمرة يذكر أن سلمان قدمه قوم يصلي بهم فأبى (حتى دفعوه) (١)، فلما صلى بهم قال: أكلكم راض؟ قالوا: نعم. قال: الحمد للَّه، إني سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (٢): "ثلاثة لا (تقبل) (٣) صلاتهم: المرأة تخرج من بيتها بغير إذنه، والعبد الآبق، والرجل يؤم القوم وهم له كارهون" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن مخیمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان کو کچھ لوگوں نے نماز کے لئے آگے کیا ، انہوں نے نماز پڑھانے سے انکار کیا لیکن لوگوں کے اصرار پر انہیں نماز پڑھا دی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت سلمان نے پوچھا کہ کیا تم سب میرے نماز پڑھانے پر راضی ہو ؟ انہوں نے کہا ہم راضی ہیں۔ حضرت سلمان نے فرمایا تما م تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، میں نے رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی : ایک وہ عورت جو اپنے گھر سے خاوند کی اجازت کے بغیر باہرجائے، دوسر ا وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہو اور تیسرا وہ شخص جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس سے راضی نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 4158
٤١٥٨ - حدثنا علي بن [حسن] (١) بن شقيق عن حسين بن واقد عن أبي غالب عن أبي أمامة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ثلاثة لا تجاوز صلاتهم رؤوسهم حتى يرجعوا؛ العبد الآبق، وامرأة باتت وزوجها عليها ساخط، وإمام قوم وهم له كارهون" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ تین آدمیوں کی نماز ان کے سر سے اوپر نہیں جاتی : ایک وہ غلام جوا پنے مالک سے بھاگا ہو، دوسری وہ عورت جو اس حال میں رات گذارے کے اس کا خاوند اس سے ناراض ہو اور تیسرا وہ امام جو لوگوں کو نماز پڑھائے لیکن لوگ اس سے راضی نہ ہو۔