کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی دوران اقامت مسجد میں داخل ہو رہا ہے ، وہ کھڑار ہے یا بیٹھ جائے؟
حدیث نمبر: 4145
٤١٤٥ - حدثنا (الحسن) (١) قال: نا بقي قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد ابن أبي شيبة قال: حدثنا سفيان بن عيينة قال: رأى (عبيد اللَّه) (٢) بن أبي يزيد حسين ابن علي في حوض زمزم وقد أقيمت الصلاة (فشجر) (٣) بين الإمام وبين بعض الناس شيء، ونادى المنادي: قد قامت الصلاة، (فجعلوا يقولون له: اجلس، فيقول: قد قامت الصلاة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ عبید اللہ بن ابی یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو زمزم کے حوض میں دیکھا، اتنے میں نماز کے لئے اقامت ہوگئی۔ جس پر امام اور کچھ لوگوں میں کچھ بات ہوگئی۔ اعلان کرنے والا کہتا تھا کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے اور لوگ اسے بیٹھنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ پھر کہتا کہ نمازکھڑی ہوگئی ہے۔
حدیث نمبر: 4146
٤١٤٦ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن جابر بن يزيد بن مرة عن سويد بن غفلة قال: إذا دخل الرجل والمؤذن يقيم الصلاة قال: (ليقم) (٢) كما هو -إن شاء- فإن ذلك يرفق بالرجل الكبير، وقال عامر: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی دورانِ اقامت مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ اگر چاہے تو کھڑا رہے کیونکہ بوڑھے آدمی کے لئے اس میں زیادہ سہولت ہے۔ اور حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 4147
٤١٤٧ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: بلغني أن إبراهيم انتهى إلى المسجد وقد أخذ المؤذن في الإقامة، فوضع رجله بين الظلة و (الصحن) (١) حتى فرغ من الإقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم ایک مرتبہ مسجد میں پہنچے تو مؤذن نے اقامت شروع کردی تھی، ابراہیم نے مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے تک اپنا پاؤں سائبان اور صحن کے درمیان رکھ دیا۔