کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: تو کیا لوگ اقامت ہونے پر کھڑے امام کو دیکھنے سے پہلے کھڑے ہو سکتے ہیں؟
حدیث نمبر: 4138
٤١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) سفيان بن عيينة عن معمر عن يحيى بن أبي كثير عن عبد اللَّه بن أبي قتادة عن أبيه: أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إذا أقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو تم اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔
حدیث نمبر: 4139
٤١٣٩ - حدثنا وكيع عن (فطر) (١) عن زائدة بن نشيط عن أبي خالد الوالبي قال: خرج علي وقد أقيمت الصلاة وهم قيام ينتظرونه، فقال: ما لي أراكم سامدين؟ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خالد والبی کہتے ہیں کہ جب نماز کے لئے اقامت کہی جاچکی تھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، اس وقت لوگ کھڑے ہوکر ان کا انتظار کررہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم غافلوں کی طرح منہ اٹھائے کیوں کھڑے ہو ؟ !
حدیث نمبر: 4140
٤١٤٠ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن (يقوم) (١) الرجل إذا قال المؤذن: قد قامت الصلاة وليس عندهم الإمام، وكانوا يكرهون أن ينتظروا الإمام قياما، وكان يقال: هو السمود.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات مکروہ سمجھتے تھے کہ جب مؤذن قد قامت الصلاۃ کہے تو لوگ امام کی عدم موجودگی میں کھڑے ہوجائیں اور کھڑے ہوکر امام کا انتظار کریں۔ اور کہا جاتا تھا کہ اس طرح کھڑا ہونا غفلت کا کھڑا ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 4141
٤١٤١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن الزبير بن عدي قال: قلت لإبراهيم: القوم ينتظرون الإمام قياما أو قعودا؟ قال: (لا) (١) بل قعودا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ لوگ کھڑے ہو کر امام کا انتظار کریں گے یا بیٹھ کر ؟ انہوں نے فرمایا بیٹھ کر۔
حدیث نمبر: 4142
٤١٤٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم في القوم ينتظرون الإمام قياما قال: ذلك (السمود) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ان لوگوں کے بارے میں جو کھڑے ہو کر امام کا انتظار کریں فرماتے ہیں کہ یہ غفلت کا کھڑا ہونا ہے۔