کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات زوال شمس کے بعد دو پہر کو نماز پڑھنے کو مستحب قرار دیتے تھے
حدیث نمبر: 4120
٤١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن صدقة بن يسار عن أبي سلمة قال: كانوا يشبهون صلاة الهجير بصلاة في (جوف) (١) الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ اسلاف زوال شمس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کو تہجد کی نماز سے تشبیہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 4121
٤١٢١ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس قال: صلوا صلاة الهجير فإنا كنا نستحبها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زوال شمس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی پابندی کرو، ہم اسے مستحب خیال کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4122
٤١٢٢ - حدثنا أبو أسامة عن موسى بن عبيدة عن سعد بن إبراهيم قال: صلوا صلاة الآصال (حين) (١) يفيء (الفيء) (٢) (قبل) (٣) النداء بالظهر، من صلاها فكأنما تهجد بالليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ ظہر کی اذان کے وقت جب سورج ڈھل جائے تو زوال کی نماز پڑھو، جس شخص نے یہ نماز پڑھی اس نے گویا تہجد کی نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 4123
٤١٢٣ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن (هارون) (٢) بن عنترة عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه قال: أصبت أنا وعلقمة صحيفة فانطلقنا بها إلى عبد اللَّه، فجلسنا بالباب وقد زالت الشمس أو كادت تزول، فاستيقظ وأرسل الجارية فقال: انظري من بالباب، فرجعت إليه فقالت: علقمة والأسود، فقال: إئذني لهما، فدخلنا فقال: (كأنكما) (٣) (قد) (٤) أطلتما الجلوس بالباب؟، قالا: أجل. قال: فما (يمنعكما) (٥) أن تستأذنا؟ قالا: خشينا أن تكون نائما، قال: ما كنت أحب أن تظنوا (فيَّ) (٦) هذا، إن هذا ساعة كنا نشبهها بصلاة الليل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ مجھے اور حضرت علقمہ کو ایک صحیفہ ملا، ہم اسے لے کر حضرت عبد اللہ کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر بیٹھ گئے۔ جب سورج زائل ہوگیا یا زائل ہونے کے قریب تھا تو وہ اٹھے اور اپنی باندی کو بھیجا کہ دیکھو دروازے پر کون ہے ؟ وہ واپس گئی اور اس نے بتایا کہ علقمہ اور اسود ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انہیں میرے پاس آنے کی اجازت دے دو ۔ ہم حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ شاید تم کافی دیر سے دروازے پر بیٹھے ہو۔ ہم نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا تو تم نے اندر آنے کے لئے اجازت کیوں نہیں مانگی۔ ہم نے عرض کیا کہ ہمارا خیال تھا کہ کہیں آپ سو نہ رہے ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ تم میرے بارے میں یہ گمان نہ کرو ! یہ وہ گھڑی ہے جس وقت کی نماز کو ہم تہجد کی نماز سے تشبیہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 4124
٤١٢٤ - حدثنا حفص (بن) (١) غياث عن جعفر عن أبيه قال: صلاة الأوابين (بعد) (٢) زوال الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ اوابین کی نماز وہ ہے جو سورج کے زائل ہونے کے بعد پڑھی جائے۔