کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ نماز کا انتظار کرنے والا نماز کا ثواب حاصل کرتا رہتا ہے
حدیث نمبر: 4108
٤١٠٨ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن داود بن أبي هند عن أبي نضرة عن جابر قال: خرج النبي ﷺ ذات ليلة وأصحابه ينتظرونه لصلاة العشاء الآخرة فقال: (نام الناس ورقدوا وأنتم) (١) تنتظرون الصلاة، أما إنكم في صلاة (ما) (٢) انتظرتموها، [(٣) ولولا ضعف الضعيف وكبر الكبير لأخرت هذه الصلاة الى شطر الليل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات تشریف لائے اور آپ کے صحابہ عشاء کی نماز کے ادا کرنے کا انتظار کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم نماز کا انتظار کررہے ہو۔ جب سے تم نماز کے ادا کرنے کا انتظار کر رہے ہو تم نماز میں ہو۔ اگر کمزور کی کمزوری اور بوڑھے کے بڑھاپے کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کردیتا۔
حدیث نمبر: 4109
٤١٠٩ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عمران بن مسلم عن سويد بن غفلة قال: من دخل المسجد وهو على طهور لم يزل عاكفا فيه ما دام فيه حتى يخرج منه أو يحدث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جو شخص وضو کی حالت میں مسجد میں داخل ہو تو اس وقت تک حالت اعتکاف میں رہتا ہے یہاں تک کہ مسجد سے چلا جائے یا اس کا وضو ٹوٹ جائے۔
حدیث نمبر: 4110
٤١١٠ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كان يقال: إذا صلى الرجل ثم جلس في مصلاه فهو في صلاة والملائكة تصلي عليه ما لم يحدث فيه، فإذا جلس في المسجد فهو في صلاة ما لم يحدث (١): ما لم يؤذ فيه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ جب تک آدمی نماز پڑھ کر اپنی جگہ بیٹھا رہتا ہے وہ نماز کی حالت میں رہتا ہے، فرشتے اس پر اس وقت تک درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے۔ اور جب تک وہ مسجد میں بیٹھا رہتا ہے وہ حالت نماز میں رہتا ہے جب تک بےوضو نہ ہو اور جب تک کسی کو تکلیف نہ دے۔
حدیث نمبر: 4111
٤١١١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن الحكم بن أبان عن عكرمة قال: ما من رجل صلى صلاة وينتظر أخرى إلا قالت الملائكة: عبدك فلان اللهم ارحمه حتى يصليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی کسی نماز کو پڑھنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کررہا ہوتا ہے تو اس نماز کے ادا کرنے تک فرشتے اس کے لئے یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ ! اپنے فلاں بندے پر رحم فرما۔
حدیث نمبر: 4112
٤١١٢ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن عمران بن مسلم عن سويد بن غفلة قال: إذا كان الرجل جالسا في المسجد ينتظر الصلاة فهو معتكف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب تک آدمی مسجد میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے وہ اعتکاف کی حالت میں رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 4113
٤١١٣ - حدثنا زيد بن حباب عن عياش الحضرمي قال: أخبرنا يحيى بن ميمون قاضي مصر قال: حدثني سهل بن (سعد) (١) أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من انتظر الصلاة فهو في صلاة ما لم يحدث" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے وہ حالت نماز میں رہتا ہے جب تک بےوضو نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 4114
٤١١٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: جهز رسول اللَّه ﷺ جيشا حتى انتصف الليل أو بلغ ذلك، ثم خرج إلينا فقال: "صلى الناس ورقدوا وأنتم تنتظرون الصلاة، أما إنكم لم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها"] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر کو روانہ فرمایا، جب آدھی رات گذر گئی تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے ، جبکہ تم ابھی تک نماز کا انتظار کررہے ہو، جب سے تم نماز کا ا نتظار کررہے ہو حالت نماز میں ہو۔
حدیث نمبر: 4115
٤١١٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا دخل أحدكم المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه، والملائكة يصلون (على أحدكم) (١) ما دام في مجلسه الذي صلى فيه يقولون: اللهم اغفر له، اللهم ارحمه، اللهم تب عليه، ما لم يؤذ فيه ما لم يحدث فيه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو وہ اس وقت تک نماز کی حالت میں ہوتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھے۔ فرشتے اس وقت تک تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں جب تک تم اس جگہ بیٹھے رہو جہاں نماز پڑھی ہے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما اور اسے معاف فرما۔ یہ دعا اس وقت تک کرتے رہتے ہیں جب تک وہ کسی کو تکلیف نہ دے اور جب تک بےوضو نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4116
٤١١٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: حدثنا رجل من أصحاب النبي ﷺ: أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إذا صلى أحدكم فقضى صلاته، ثم قعد في مصلاه يذكر اللَّه فهو في صلاة، وإن الملائكة يصلون (عليه) (١)؛ يقولون: اللهم ارحمه واغفر له، وإن (هو) (٢) دخل (٣) مصلاه ينتظر كان مثل ذلك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کے بعد اگر اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہے تو وہ حالت نماز میں رہتا ہے اور فرشتے اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ فرشتے کہتے ہیں اے اللہ ! اس پر رحم فرما اور اس کی مغفرت فرما۔ جب وہ نماز کی جگہ بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو اس وقت بھی اسے یہی دعا ملتی رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 4117
٤١١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن أبي عثمان قال: احتبس رسول اللَّه ﷺ عن أصحابه في صلاة العشاء حتى بقي ثلث الليل، فأتاهم وبعضهم قائم وبعضهم قاعد وبعضهم مضطجع، فقال: "ما زلتم في صلاة منذ انتظرتموها قائمكم وقاعدكم ومضطجعكم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ ایک رات نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کو عشاء کی نماز پڑھانے کے لئے تشریف نہ لاسکے یہاں تک کہ جب ایک تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ تشریف لائے، دیکھا کہ بعض لوگ کھڑے ہیں، بعض بیٹھے ہیں اور بعض لیٹے ہوئے۔ آپ نے ان سے فرمایا جب سے تم نماز کا انتظار کررہے ہو حالت نماز میں ہو۔ تم میں سے کھڑے بھی، بیٹھے بھی اور لیٹے بھی۔
حدیث نمبر: 4118
٤١١٨ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد (عن) (١) أبي هريرة قال: (لا يزال) (٢) أحدكم في صلاة ما دامت الصلاة تحبسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تک نماز تمہیں روکے رکھے تم حالت نماز میں ہو۔
حدیث نمبر: 4119
٤١١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حميد عن أنس ⦗٣٩٣⦘ قال: أخَّر رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة الصلاة إلى شطر الليل، (قال) (٢): فجعل الناس يصلون و (ينكفئون) (٣)، فخرج وقد بقيت عصابة، فصلى بهم، فلما سلم أقبل (عليهم) (٤) بوجهه فقال: "إن الناس قد صلوا ورقدوا وإنكم لم تزالوا في صلاة منذ انتظرتم الصلاة"، قال: فكأني أنظر إلى (وبيص) (٥) خاتمه في يده (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر فرمایا۔ بعض لوگوں نے نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو جانا شروع کردیا۔ جب نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو کچھ لوگ مسجد میں موجود تھے، آپ نے انہیں نماز پڑھائی اور جب آپ نے سلام پھیرا تو اپنا رخ مبارک ان کی طرف پھیر کر فرمایا ” لوگوں نے نماز پڑھ لی اور وہ سو گئے، تم جب سے نماز کا انتظار کررہے ہو نماز کی حالت میں ہو “ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ منظر اس وقت بھی اس طرح میرے سامنے ہے کہ میں آپ کی انگوٹھی مبارک کی چمک ابھی بھی دیکھ رہا ہوں۔