کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے قالین اور زمین کے علاوہ کسی چیز پر نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 4101
٤١٠١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) ابن عون عن ابن سيرين قال: الصلاة على الطنفسة محدث] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ قالین پر نماز پڑھنا بدعت ہے۔
حدیث نمبر: 4102
٤١٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: الصلاة على الطنفسة محدث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ قالین پر نماز پڑھنا بدعت ہے۔
حدیث نمبر: 4103
٤١٠٣ - حدثنا زياد بن الربيع عن صالح (الدهان) (١): أن جابر بن زيد كان يكره الصلاة على كل شيء من الحيوان، ويستحب الصلاة على كل شيء من نبات الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید حیوانات کے بالوں وغیرہ سے بنی ہر چیز پر نماز پڑھنے کو مکروہ خیال فرماتے اور پودوں وغیرہ سے بنی ہر چیز پر نماز کو مستحب قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 4104
٤١٠٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد الكريم عن أبي عبيدة قال: كان عبد اللَّه ((لا) (١) يصلي ولا يسجد) (٢) إلا على الأرض (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ صرف زمین پر نماز پڑھتے اور صرف زمین پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4105
٤١٠٥ - حدثنا وكيع عن (معقل) (١) بن عبيد اللَّه عن عبد الكريم الجزري عن مجاهد قال: لا بأس بالصلاة على الأرض (و) (٢) على ما أنبتت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ زمین پر اور زمین سے بنی چیزوں پر سجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 4106
٤١٠٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور وحصين قال سفيان أو أحدهما: عن أبي حازم الأشجعي عن مولاته عزة (١) قالت: سمعت أبا بكر ينهى عن الصلاة على البراذع (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر سواری کے کجاوے کے نیچے رکھے جانے والے گدے پر نماز پڑھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4107
٤١٠٧ - حدثنا حاتم عن هشام عن أبيه: أنه كان يكره أن يسجد على شيء دون الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد زمین کے علاوہ کسی اور جگہ نماز پڑھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔