حدیث نمبر: 4087
٤٠٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع بن الجراح عن شعبة عن أبي التياح الضبعي قال: سمعت أنس بن مالك يقول: كان رسول اللَّه ﷺ يخالطنا فيقول لأخ لي: "يا أبا عمير ما فعل (النغير) (١) " قال: ونضح بساطا لنا فصلى عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ساتھ دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ایک دن آپ نے میرے بھائی سے فرمایا ” اے ابو عمیر ! تمہارے نغیر (پرندہ) کا کیا ہوا ؟ “ پھر آپ نے ایک دری بچھائی اور اس پر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 4088
٤٠٨٨ - حدثنا وكيع عن زمعة عن عمرو بن دينار وسلمة بن (هرام) (١) قال أحدهما: عن عكرمة عن ابن عباس: أن رسول اللَّه ﷺ صلى على بساط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دری پر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 4089
٤٠٨٩ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك وعيسى بن يونس عن الأوزاعي عن عثمان بن أبي (سودة) (١) عن خليد عن أبي الدرداء قال: ما أبالي لو صليت على ست طنافس بعضها فوق بعض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات میں کوئی حرج نظر نہیں آتا کہ میں اوپر نیچے بچھے چھ قالینوں پر نماز پڑھوں۔
حدیث نمبر: 4090
٤٠٩٠ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) الأعمش عن سعيد بن جبير قال: صلى بنا ابن عباس على طنفسة قد طبقت البيت صلاة المغرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں ایک ایسے قالین پر مغرب کی نماز پڑھائی جو پورے کمرے میں بچھا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 4091
٤٠٩١ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) مغيرة قال: شهدت (محلا) (٢) يقول ⦗٣٨٧⦘ لإبراهيم: إني رأيت أبا وائل يصلي على طنفسة، فقال إبراهيم: كان (أبو) (٣) وائل خيرًا مني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ حضرت محل ابراہیم سے کہہ رہے تھے کہ میں نے ابو وائل کو ایک قالین پر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ ابراہیم نے فرمایا کہ ابو وائل مجھ سے بہتر تھے۔
حدیث نمبر: 4092
٤٠٩٢ - (حدثنا وكيع) (١) عن سفيان عن (توبة) (٢) العنبري عن عكرمة (ابن) (٣) خالد المخزومي عن عبد اللَّه بن عمار قال: رأيت عمر يصلي على عبقري (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو ایک اعلیٰ درجے کے قالین پر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4093
٤٠٩٣ - حدثنا عيسى بن يونس (عن) (١) الأوزاعي قال: رأيت عطاء يصلي على بساط أبيض في المسجد الحرام وليس بينه وبين الطواف أحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء کو مسجد حرام میں ایک سفید دری پر نماز پڑھتے دیکھا ہے اس وقت ان کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی نہ تھا۔
حدیث نمبر: 4094
٤٠٩٤ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن (الحسن) (١) قال: لا بأس بالصلاة على الطنفسة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 4095
٤٠٩٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن الربيع بن المنذر عن عبد الملك بن سعيد قال: رأيت (أبي) (٢) سعيد بن جبير يصلي على بساط يسجد عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت سعید بن جبیر کو ایک دری پر نماز پڑھتے دیکھا ہے وہ اسی پر سجدہ بھی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4096
٤٠٩٦ - حدثنا بشر بن مفضل عن سلمة بن علقمة عن نافع قال: كان ابن عمر إذا صلى على شيء يسجد عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی چیز پر نماز پڑھتے تو سجدہ بھی اسی پر کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4097
٤٠٩٧ - حدثنا هاشم بن القاسم عن (شعبة) (١) عن توبة العنبري قال: سمعت بكر بن عبد اللَّه المزني يقول: إن قيس بن عباد القيسي صلى على لِبد دابته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں کہ حضرت قیس بن عباد قیسی نے اپنی سواری پر بچھائے جانے والے گدے پر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 4098
٤٠٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: رأيت مرة الهمداني يصلي على لبد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے مرہ ہمدانی کو سواری پر بچھائے جانے والے گدے پر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4099
٤٠٩٩ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن: أنه كان يصلي على طنفسة قدماه (وركبتاه) (١) عليها، ويداه ووجهه على الأرض، أو على (بوري) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن ایک قالین پر اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ ان کے پاؤں اور ان کے گھٹنے قالین پر اور ان کے ہاتھ اور چہرہ زمین پر یا کسی چٹائی پر ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 4100
٤١٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: أخبرنا من رأى إبراهيم والحسن يصليان على بساط فيه تصاوير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ ابراہیم اور حسن ایسی دری پر نماز پڑھا کرتے تھے جس میں یعنی اندر کی جانب میں تصویریں ہوا کرتی تھیں۔