حدیث نمبر: 3815
٣٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن [عيينة] (١) عن الزهري عن (ابن) (٢) أكيمة قال: سمعت أبا هريرة يقول: صلى رسول اللَّه ﷺ صلاة (نظن) (٣) أنها الصبح فلما قضاها قال: " (هَلْ) (٤) قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ " قال رجل: أنا. قال: "إِنّي أَقُولُ مَالِي أُنَازِعُ (٥) الْقُرْآنَ" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی۔ غالباً وہ فجر کی نماز تھی۔ جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے قراءت کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں بھی سوچ رہا تھا کہ قرآن میں مجھ سے کون جھگڑ رہا ہے ؟ !
حدیث نمبر: 3816
٣٨١٦ - حدثنا ابن علية عن (سعيد) (١) بن أبي عروبة عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن عمران بن حصين: أن رسول اللَّه ﷺ صلى الظهر فلما سلم قال: "هَلْ ⦗٣٣١⦘ قَرَأ أحَدٌ مِنْكُمْ: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾؟ "، فقال رجل من القوم: أنا. فقال: "قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنيهَا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا کسی نے سورة الاعلیٰ کی تلاوت کی ہے۔ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 3817
٣٨١٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن يونس عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن (عبد اللَّه) (١) قال: كنا نقرأ خلف النبي ﷺ فقال: "خَلَطْتُمْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے قراءت کرتے تھے تو آپ نے ہمیں یہ کہہ کر منع فرمادیا کہ تم میرے اوپر قرآن کو خلط ملط کردیتے ہو۔
حدیث نمبر: 3818
٣٨١٨ - حدثنا شريك وجرير عن موسى بن أبي عائشة عن عبد اللَّه بن (شداد) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ كَانَ لَهُ إِمَام (فَقِراءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کا امام ہو تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے۔
حدیث نمبر: 3819
٣٨١٩ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن أبي وائل قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه فقال: أقرأ خلف الإمام؟ فقال له عبد اللَّه: إن في الصلاة شغلًا، وسيكفيك ذاك الإمام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیا میں امام کے پیچھے قراءت کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز میں ایک مصروفیت ہے اور اس کا مصروفیت کا ذمہ امام نے لے رکھا ہے۔
حدیث نمبر: 3820
٣٨٢٠ - حدثنا محمد بن (سليمان) (١) الأصبهاني عن عبد الرحمن (بن) (٢) الأصبهاني عن ابن أبي ليلى عن علي قال: من قرأ خلف الإمام فقد أخطأ الفطرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے امام کے پیچھے قراءت کی اس نے فطرت سے بغاوت کی۔
حدیث نمبر: 3821
٣٨٢١ - حدثنا وكيع عن (داود بن) (١) قيس عن (ابن بجد) (٢) عن سعد قال: وددت أن الذي يقرأ خلف الإمام في فيه جمرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ امام کے پیچھے قراءت کرنے والے کے منہ میں انگارا ہو۔
حدیث نمبر: 3822
٣٨٢٢ - حدثنا ابن علية عن عباد بن إسحاق عن يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط عن عطاء بن يسار عن زيد بن ثابت قال: لا قراءة خلف الإمام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے قراءت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 3823
٣٨٢٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع وأنس بن سيرين (قالا) (١): قال (ابن) (٢) عمر (٣): تكفيك قراءة الإمام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ امام کی قراءت تمہارے لئے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 3824
٣٨٢٤ - حدثنا ابن علية عن أيوب وابن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم قال: قال الأسود لأن أعض على جمرة أحب إليَّ (من) (١) أن أقرأ خلف (الإمام) (٢) أعلم أنه يقرأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ جس امام کے بارے میں مجھے علم ہے کہ وہ قراءت کررہا ہے اس کے پیچھے قراءت کرنے سے زیادہ بہتر میں یہ سمجھتا ہوں کہ اپنے منہ میں انگارا رکھ لوں۔
حدیث نمبر: 3825
٣٨٢٥ - حدثنا وكيع عن الضحاك بن عثمان عن عبيد اللَّه بن مقسم عن جابر قال: لا (تقرأ) (١) خلف الإمام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے قراءت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 3826
٣٨٢٦ - حدثنا [وكيع عن الضحاك بن عثمان عن (عبد اللَّه) (١) بن يزيد عن ابن ثوبان عن زيد بن ثابت قال: لا يقرأ خلف الإمام] (٢) إن جهر، ولا إن خافت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ امام خواہ اونچی آواز سے قراءت کررہا ہو یا آہستہ آواز سے، اس کے پیچھے قراءت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 3827
٣٨٢٧ - حدثنا وكيع عن عمربن محمد عن موسى بن سعد (١) (عن) (٢) زيد بن ثابت قال: من قرأ خلف الإمام فلا صلاة له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ جس نے امام کے پیچھے قراءت کی اس کی نماز نہ ہوئی۔
حدیث نمبر: 3828
٣٨٢٨ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) إسماعيل بن أبي خالد عن وبرة عن الأسود بن يزيد أنه قال: وددت أن الذي يقرأ خلف الإمام ملئ (فوه) (٢) ترابا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن یزید فرماتے ہیں کہ جو شخص امام کے پیچھے قراءت کرے میرا دل چاہتا ہے کہ اس کا منہ مٹی سے بھر جائے۔
حدیث نمبر: 3829
٣٨٢٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3830
٣٨٣٠ - حدثنا (معتمر) (١) عن أبي هارون قال: سألت أبا سعيد عن القراءة خلف الإمام فقال: يكفيك (ذاك) (٢) الإمام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہارون کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے امام کی قراءت کافی ہے۔
حدیث نمبر: 3831
٣٨٣١ - حدثنا هشيم عن أبي بشر عن سعيد بن (جبير) (١) قال: سألته عن القراءة خلف الإمام قال: ليس (خلف) (٢) الإمام قراءة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بشر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ امام کے پیچھے قراءت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 3832
٣٨٣٢ - حدثنا وكيع عن (هشام) (١) الدستوائي عن قتادة عن ابن المسيب قال: أنصت للإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسیب فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے خاموش رہو۔
حدیث نمبر: 3833
٣٨٣٣ - حدثنا الثقفي (عن أيوب) (١) عن محمد قال: لا أعلم القراءة خلف الإمام من السنة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں امام کے پیچھے قراءت کرنا سنت نہیں۔
حدیث نمبر: 3834
٣٨٣٤ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم: أنه كان يكره القراءة خلف الإمام، وكان يقول: تكفيك قراءة الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم امام کے پیچھے قراءت کرنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارے لئے امام کی قراءت کافی ہے۔
حدیث نمبر: 3835
٣٨٣٥ - حدثنا الفضل عن زهير عن الوليد بن قيس قال: سألت سويد بن (غفلة): (١) أقرأ خلف الإمام في الظهر والعصر؟ (فقال) (٢): لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولیدبن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سوید بن غفلہ سے سوال کیا کہ کیا میں ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے قراءت کروں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 3836
٣٨٣٦ - حدثنا الفضل عن أبي (كبران) (١) قال: (كان) (٢) الضحاك ينهى عن القراءة خلف الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3837
٣٨٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن أشعث عن مالك بن عمارة قال: سألت لا أدري كم رجل من أصحاب عبد اللَّه كلهم (يقولون) (١): (لا يقرأ خلف (الإمام) (٢) منهم) (٣) عمرو بن ميمون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن عمارہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت عبد اللہ کے کتنے ہی شاگرد کہا کرتے تھے کہ امام کے پیچھے قراءت نہیں ہوگی۔ ان میں سے ایک عمرو بن میمون بھی ہیں۔
حدیث نمبر: 3838
٣٨٣٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن زيد بن أسلم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبّروُا، وَإذَا قَرَأ فَأَنْصِتُوا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔
حدیث نمبر: 3839
٣٨٣٩ - حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن عبد الملك بن أبي سليمان (عن أكيل) (١) عن إبراهيم قال: الذي يقرأ خلف الإمام (مشاق) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو شخص امام کے پیچھے قراءت کرتا ہے وہ مخالفت کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 3840
٣٨٤٠ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن مسعر عن عمرو بن مرة عن أبي وائل قال: (تكفيك) (١) قراءة الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے امام کی قراءت کافی ہے۔
حدیث نمبر: 3841
٣٨٤١ - حدثنا مالك بن إسماعيل عن حسن بن صالح (عن جابر) (١) عن أبي الزبير عن جابر عن النبي ﷺ قال: "كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ (إِمَام) (٢) فَقِراءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کا کوئی امام ہو امام کی قراءت اس کے لئے کافی ہے۔