کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات ظہر اور عصر میں کچھ قراءت اونچی آواز سے کیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 3677
٣٦٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) جرير بن عبد الحميد عن منصور عن يحيى بن عباد قال: كان خباب بن الأرت يجهر بالقراءة في الظهر والعصر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عباد فرماتے ہیں کہ حضرت خباب بن ارت ظہر اور عصر میں اونچی آواز سے قراءت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3678
٣٦٧٨ - حدثنا وكيع عن كلاب بن عمرو عن عمه قال: تعلمت: ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ﴾ خلف خباب في العصر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلاب بن عمرو اپنے چچا کا قول نقل کرتے ہیں کہ میں نے سورة الزلزال حضرت خباب کے پیچھے عصر کی نماز میں سیکھی ہے۔
حدیث نمبر: 3679
٣٦٧٩ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن الشعبي: أن سعيد بن العاص صلى بالناس الظهر والعصر فجهر بالقراءة، فسبح القوم، فمضى في قراءته، فلما فرغ صعد المنبر، فخطب الناس، فقال: في كل صلاة قراءة (فإن) (١) (صلاة) (٢) النهار (لخرس) (٣)، وإني كرهت أن أسكت، فلا ترون أني فعلت ذلك بدعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عاص نے لوگوں کو ظہر یاعصر کی نماز پڑھائی اور اس میں اونچی آواز سے قرائت کی، لوگوں نے پیچھے سے تسبیح کہنی شروع کردی۔ حضرت سعید نے اپنی قراءت کو جاری رکھا اور جب فارغ ہوئے تو منبر پر چڑھے اور فرمایا ” ہر نماز میں قراءت ہوتی ہے، اور دن کی نمازیں گونگی ہوتی ہیں یعنی ان میں قراءت آہستہ آواز سے ہوتی ہے۔ مجھے خاموش رہنا ناپسند ہے۔ پس تم یہ خیال نہ کرنا کہ میں نے کوئی بدعت کا عمل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3680
٣٦٨٠ - حدثنا وكيع عن حسين بن عقيل عن محمد بن مزاحم قال: صليت خلف سعيد بن جبير فكان الصف الأول يفقهون قراءته في الظهر والعصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن مزاحم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کے پیچھے نماز پڑھی ہے، ظہر اور عصر میں پہلی صف کے لوگ ان کی قراءت سمجھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3681
٣٦٨١ - حدثنا حماد بن (مسعدة) (١) عن حميد قال: صليت خلف أنس الظهر فقرأ بـ: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ وجعل يسمعنا الآية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھی ، اس میں نے انہوں نے سورة الاعلیٰ کی تلاوت فرمائی۔ وہ ہمیں ایک آیت سنایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3682
٣٦٨٢ - (حدثنا) (١) ابن علية عن علي بن زيد بن جدعان عن أبي عثمان قال: سمعت (من) (٢) عمر نغمة من ﴿ق﴾ في الظهر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے پیچھے ظہر کی نماز میں آہستہ آواز میں سورة ق کی تلاوت سنی ہے۔
حدیث نمبر: 3683
٣٦٨٣ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عبد الرحمن بن الأسود: أن الأسود وعلقمة كانا يجهران في الظهر والعصر فلا يسجدان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اسود فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ ظہر اور عصر میں اونچی آواز سے قراءت کرتے تو سجدہ سہو نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3684
٣٦٨٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر قال: سألت الشعبي والحكم وسالما والقاسم ومجاهدا وعطاء (عن) (١) الرجل يجهر في الظهر (أو) (٢) العصر، قالوا: ليس عليه سهو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے شعبی، حکم، سالم، قاسم، مجاہد اور عطاء سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو ظہر اور عصر میں بلند آواز سے قراءت کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس پر سجدہ سہو نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3685
٣٦٨٥ - حدثنا وكيع عن سعيد بن بشير عن قتادة: أن أنسا جهر في الظهر والعصر فلم يسجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے ظہر اور عصر میں بلند آواز سے تلاوت کی پھر سجدہ سہو بھی نہیں کیا۔