حدیث نمبر: 3579
٣٥٧٩ - (حدثنا) أبو بكر قال: نا شريك عن زياد بن علاقة عن قطبة بن مالك: أن النبي ﷺ قرأ في الفجر: ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ﴾ [ق: ١٠] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قطبہ بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز میں (سورۃ ق کی آیت نمبر ١٠ ) { وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ } سے تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 3580
٣٥٨٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن الوليد (بن) (١) (سريع) (٢) عن (عمرو) (٣) ابن حريث: أن النبي ﷺ قرأ في الفجر: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ﴾ [التكوير: ١٧] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حریث کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز میں (سورۃ التکویر کی آیت نمبر ١٧) { وَاللَّیْلِ إذَا عَسْعَسَ } سے تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 3581
٣٥٨١ - حدثنا يحيى بن آدم عن زهير عن سماك قال: سألت جابر بن سمرة عن صلاة النبي ﷺ فأنباني: (أن النبي ﷺ) (١) كان يقرأ في الفجر بـ: ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ (١)﴾ [ق: ١] ونحوها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز میں سورة ق کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3582
٣٥٨٢ - حدثنا ابن علية عن عوف عن أبي المنهال عن أبي برزة: أن النبي ﷺ كان يقرأ فيها بالستين إلى المائة، يعني: في الفجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو تک آیات پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3583
٣٥٨٣ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن أنس: أن أبا بكر قرأ في صلاة الصبح ⦗٢٧٩⦘ بالبقرة، فقال (له) (١) عمر حين فرغ: كربت الشمس أن تطلع، قال: لو طلعت لم تجدنا غافلين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوب کرنے فجر کی نماز میں سورة البقرۃ کی تلاوت کی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عمرنے ان سے کہا کہ آپ تو سورج طلوع کروانے لگے تھے ! حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اگر سورج طلوع ہوجاتا تو وہ ہمیں غافل ہونے والوں میں سے نہ پاتا۔
حدیث نمبر: 3584
٣٥٨٤ - حدثنا معتمر بن سليمان عن الزبير بن (خريت) (١) عن (عبد اللَّه) (٢) بن شقيق عن الأحنف قال: صليت خلف عمر الغداة فقرأ: بيونس وهود ونحوهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت احنف فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، وہ فجر کی نماز میں سورة یونس اور سورة ہود وغیرہ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3585
٣٥٨٥ - (حدثنا) (١) وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن زيد بن وهب: أن عمر قرأ في الفجر بالكهف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے فجر میں سورة الکہف کی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 3586
٣٥٨٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن عبد اللَّه بن عامر بن ربيعة قال: سمعت عمر يقرأ في الفجر بسورة يوسف قراءة (بطيئة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرکو فجر کی نماز میں سورة یوسف کی آہستہ رفتار سے تلاوت کرتے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 3587
٣٥٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) عبيد اللَّه قال: أخبرني ابن (الفرافصة) (٢) عن أبيه قال: تعلمت سورة يوسف خلف عمر في الصبح (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الفراصفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سورة یوسف حضرت عمر کے پیچھے فجر کی نماز میں سیکھی ہے۔
حدیث نمبر: 3588
٣٥٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن أبي عمرو الشيباني قال: صلى بنا عبد اللَّه الفجر فقرأ (سورتين) (٢) الآخرة منهما (بنو) (٣) اسرائيل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جس میں دو سورتوں کی تلاوت کی، دوسری سورت سورة بنی اسرائیل تھی۔
حدیث نمبر: 3589
٣٥٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إدريس الأودي عن أبيه قال: سمعت عليا يقرأ في الآخرة منهما بـ: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [الأعلى: ١] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ادریس اودی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علیکو فجر کی دوسری رکعت میں سورة الاعلیٰ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 3590
٣٥٩٠ - حدثنا معتمر عن الزبير بن (خريت) (١) عن عبد اللَّه بن شقيق عن أبي هويرة قال: صليت خلفه صملاة الغداة فقرأ: بـ "يونس"، و"هود" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، انہوں نے فجر میں سورۃ یونس اور سورة ہود کی تلاوت کی۔
حدیث نمبر: 3591
٣٥٩١ - حدثنا غندرعن صلاة شعبة ابن أبى (ثابت) (١) قال: سمعت سعيد بن جبير يحدث عن عمرو بن ميمون: أن معاذ بن جبل صلى الصبح باليمن فقرأ بالنساء، فلما أتى على هذه الآية. ﴿وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا﴾ [النساء: ١٢٥]. قال رجل من خلفه: لقد قرَّت عين أم إبراهيم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذ بن جبل کے پیچھے یمن میں فجر کی نماز ادا کی، انہوں نے اس میں سورة النساء کی تلاوت کی۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے { وَاتَّخَذَ اللَّہُ إبْرَاہِیمَ خَلِیلاً } تو پیچھے سے ایک آدمی نے کہا کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی !
حدیث نمبر: 3592
٣٥٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: كان يقرأ في الفجر بالسورة التي يذكر فيها يوسف، والتي يذكر فيها الكهف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فجر کی نماز میں سورة یوسف اور سورة الکہف کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3593
٣٥٩٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد قال: كان إمامنا يقرأ بنا في الفجر بالسورة من المئين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ہمارے امام فجر میں ” مئین “ میں سے کسی سورت کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3594
٣٥٩٤ - حدثنا ابن فضيل عن النعمان بن قيس عن عبيدة: أنه كان يقرأ في الفجر: الرحمن ونحوها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عبیدہ فجر کی نماز میں سورة الرحمن اور اس کی مثل سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3595
٣٥٩٥ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: صليت خاف عرفجة فربما قرأ بـ: المائدة في الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عرفجہ کے پیچھے نما زپڑھی ہے، وہ اکثر فجر میں سورة المائدۃ پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3596
٣٥٩٦ - حدثنا ابن إدريس عن الحسن بن عبيد اللَّه (عن جد ابن إدريس) (١) قال: صليت خلف علي الصبح فقرأ بـ: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [الأعلى: ١] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ادریس کے دادا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، انہوں نے اس میں سورة الاعلیٰ کی تلاوت کی۔
حدیث نمبر: 3597
٣٥٩٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن (توبة) (١) (العنبري) (٢): أنه سمع أبا سوار القاضي قال: صليت خلف ابن الزبير الصبح فسمعته يقرأ: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ (٦) إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ﴾ [الفجر: ٦ - ٧] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سوار قاضی کہتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی اور انہیں یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا ہے { أَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّک بِعَادٍ إرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ }
حدیث نمبر: 3598
٣٥٩٨ - حدثنا ابن فضيل عن الوليد بن جميع قال: صليت خلف إبراهيم فكان يقرأ في الصبح يس وأشباهها، وكان سريع القراءة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن جمیع کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ فجر کی نماز میں سورة یس اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ وہ تیز قراءت کرنے والے تھے۔
حدیث نمبر: 3599
٣٥٩٩ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن: أنه قال: ما رأيت رجلًا أقرأ من علي؛ (إنه) (١) قرأ بنا في صلاة الفجر بـ: الأنبياء. قال: ⦗٢٨٢⦘ (حتى) (٢) إذا بلغ رأس السبعين ترك منها آية فقرأ (ما) (٣) بعدها، ثم ذكر فرجع (فقرأها) (٤)، ثم رجع إلى مكانه الذي كان قرأ لما (يتتعتع) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ قرآن کا عالم کوئی نہیں دیکھا۔ انہوں نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورة الانبیاء کی تلاوت کی۔ انہوں نے جب ستر آیات مکمل کیں تو ایک آیت چھوڑ دی اور اس کے بعد والی آیت پڑھ لی۔ پھر جب انہیں یاد آیا تو واپس گئے اور اسے پڑھا۔ پھر اس جگہ واپس ہوگئے جہاں سے پڑھ رہے تھے، جب انہیں اٹکن محسوس ہوئی۔
حدیث نمبر: 3600
٣٦٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) زيد بن (الحباب) (٢) قال: أخبرنا الضحاك ابن عثمان قال: رأيت عمر بن عبد العزيز قرأ في الفجر بسورتين من طوال المفصل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو فجر کی نماز میں طوال مفصل میں سے دو سورتیں پڑھتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 3601
٣٦٠١ - (حدثنا) (١) عبد الأعلى عن الجريري عن أبي العلاء عن أبي رافع (قال) (٢): كان عمر يقرأ في صلاة الصبح بمائة من البقرة ويتبعها بسورة من المثاني أو من صدور المفصل، (ويقرأ بمائة من آل عمران ويتبعها بسورة من المثاني (أو) (٣) من صدور المفصل) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع کہتے ہیں کہ حضرت عمر فجر کی نماز میں سورة بقرہ کی سو آیات پڑھتے اور ان کے ساتھ مثانی میں سے کوئی سورت ملاتے یا مفصل کے شروع سے کچھ پڑھتے۔ اور اگر سورة آل عمران کی سو آیات پڑھتے تو ان کے ساتھ بھی مثانی میں سے کوئی سورت ملاتے یا مفصل کے شروع سے کچھ پڑھتے۔ ! سورة الحجرات سے لے کرآخرِ قرآن تک کی سورتوں کو ” مفصل “ کہا جاتا ہے۔” مفصل “ کی تین قسمیں ہیں : طوال، اوساط اور قصار۔ طوال مفصل سورة الحجرات سے لے کر سورة البروج تک، اوساط مفصل سورة الطارق سے سورة البینۃ تک اور قصار مفصل سورة القدر سے لے کر سورة الناس تک ہیں۔ مذکورہ روایت میں ” مفصل کے شروع “ سے مراد طوال مفصل کی سورتیں۔ ہیں۔
حدیث نمبر: 3602
٣٦٠٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن حصين بن سبرة ⦗٢٨٣⦘ قال: صليت خلف عمر فقرأ في الركعة الأولى (بسورة) (١) يوسف، ثم قرأ في الثانية: بـ: النجم، فسجد ثم قام فقرأ: ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ [الزلزلة: ١]، ثم ركع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین بن سبرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے پہلی رکعت میں سورة یوسف کی تلاوت کی، دوسری مرتبہ میں سورۃ النجم کی تلاوت کی ۔ پھر انہوں نے سجدہ کیا پھر جب کھڑے ہوئے تو سورة الزلزال کی تلاوت کی، پھر رکوع کیا۔
حدیث نمبر: 3603
٣٦٠٣ - حدثنا ابن (علية) (١) عن إسماعيل بن محمد (بن) (٢) سعد عن عبد اللَّه ابن شداد قال: سمعت (نشيج) (٣) عمر وأنا في آخر الصفوف في صلاة الصبح وهو يقرأ: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ [يوسف: ٨٦] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن شداد کہتے ہیں کہ فجر کی نماز میں، میں آخری صفوں میں تھا کہ میں نے حضرت عمر کے رونے کی آواز سنی، وہ اس آیت کی تلاوت کررہے تھے {إنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إلَی اللہِ }
حدیث نمبر: 3604
٣٦٠٤ - حدثنا أبو أسامة عن ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن علقمة بن وقاص قال: سمعت عمر ثم ذكر نحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن وقاص سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3605
٣٦٠٥ - حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن (أبي) (١) حمزة الأعور عن إبراهيم: أنه صلى بهم يوم جمعة الفجر فقرأ بـ: ﴿كهيعص﴾ [مريم: ١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمزہ اعور کہتے ہیں کہ ابراہیم نے ہمیں جمعہ کے دن فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں کہیعص کی تلاوت کی۔