کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات بیماری کی حالت میں بھی جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 3557
٣٥٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن أبي حيان عن أبيه عن الربيع ابن (خثيم) (١): أنه كان به مرض فكان يهادى بين رجلين إلى الصلاة، فيقال له: ⦗٢٧٢⦘ يا أبا (يزيد) (٢) إنك إن شاء اللَّه في عذر، فيقول: أجل، ولكني أسمع المؤذن: حي على الصلاة حي على الفلاح، فمن سمعها فليأتها ولو حبوًا، (ولو زحفًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کو کوئی بیماری تھی، وہ دو آدمیوں کے سہارے مسجد میں آیا کرتے تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ اے ابو یزید ! آپ معذور ہیں، اگر چاہیں تو نماز کے لئے نہ آئیں۔ فرمایا کہ ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، لیکن میں مؤذن کی آواز سنتا ہوں جب وہ کہتا ہے نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ تو جو یہ سنے اسے نماز کے لئے آنا چاہئے خواہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر ہی کیوں نہ آئے۔
حدیث نمبر: 3558
٣٥٥٨ - حدثنا وكيع عق شعبة عن منصور عن سعد بن (عبيدة) (١) عن أبي عبد الرحمن: أنه كان يُحمل وهو مريض إلى المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عبیدہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن کو حالت مرض میں اٹھاکر مسجد کی طرف لایا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 3559
٣٥٥٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسور عن عائشة قالت: لقد رأيت رسول اللَّه ﷺ في مرضه الذي مات فيه، وإنه (ليهادى) (١) بين رجلين حتى دخل (في) (٢) الصف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ مرض الوفات میں آپ دو آدمیوں کے سہارے چل کر گئے اور صف میں جاکر کھڑے ہوگئے۔
حدیث نمبر: 3560
٣٥٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن شيخ يكنى أبا سهل عن سعيد (بن) (١) المسيب قال: ما أذن المؤذن منذ ثلاثين سنة إلا وأنا في المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا کہ تیس سال سے جب بھی مؤذن اذان دیتا ہے میں مسجد میں ہوتا ہوں۔
حدیث نمبر: 3561
٣٥٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حمزة عن إبراهيم قال: ما كانوا يرخصون في ترك الجماعة إلا لخائف أو مريض.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف جماعت چھوڑنے کی اجازت صرف مریض کو اور اس شخص کو دیتے تھے جسے دشمن کا خوف ہو۔