کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب اذان سنے تو اذان کا جواب دے
حدیث نمبر: 3499
٣٤٩٩ - حدثنا أبو علي الحسن بن سعد قال: (حدثنا) (١) (بقي بن مخلد) (٢) قال: نا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (هشام) (٣) عن أبيه قال: فقد عمر رجلا في صلاة الصبح فأرسل إليه فجاء فقال: أين كنت؟ (فقال) (٤): كنت ⦗٢٥٨⦘ مريضا، ولولا أن رسولك أتاني لما خرجت، فقال عمر: فإن كنت خارجا إلى أحد فاخرج (إلى الصلاة) (٥) (٦).
حدیث نمبر: 3500
٣٥٠٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي حصين عن أبي بردة عن أبي موسى قال: من سع المنادي ثم لم يجبه من غير عذر فلا صلاة له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی مؤذن کی آواز سنے اور بغیر عذر کے اس کا جواب نہ دے تو اس کی نماز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3501
٣٥٠١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عدي بن ثابت عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: من سمع المنادي ثم لم يجب من غير عذر فلا صلاة له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص مؤذن کی آواز سنے اور بغیر عذر کے اس کا جواب نہ دے تو اس کی نماز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3502
٣٥٠٢ - حدثنا وكيع عن عبد الرحمن بن (خضير) (١) عن أبي نجيح المكي عن أبي هريرة قال: لأن (تمتليء) (٢) أذن ابن آدم رصاصا مذابا خير له من أن يسمع المنادي ثم لا يجيبه (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ابن آدم کا کان پگھلے ہوئے تانبے سے بھر جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ منادی کی آواز سن کر اس کا جواب نہ دے۔
حدیث نمبر: 3503
٣٥٠٣ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن منصور عن عدي بن ثابت عن عائشة قالت: من سمع المنادي فلم يجب لم يرد خيرا، (و) (٢) لم (يرد به) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص مؤذن کی آواز سنے اور اس کا جواب نہ دے، تو نہ اس نے خیر کا ارادہ کیا اور نہ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا گیا۔
حدیث نمبر: 3504
٣٥٠٤ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سليمان بن الغيرة (عن أبي) (٢) موسى الهلالي عن أبيه عن ابن مسعود قال: من سمع المنادي ثم لم يجب من غير عذر فلا صلاة له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جو شخص مؤذن کی آواز سنے اور بغیر عذر کے اس کا جواب نہ دے تو اس کی نماز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3505
٣٥٠٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون عن ابن سيرين قال: خرج عثمان وقد غسل (أحد) (١) شقي رأسه فقال (٢): إن المنادي جاء فأعجلني فكرهت أن أحبسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ایک مرتبہ باہر تشریف لائے، انہوں نے اپنا آدھا سر دھو رکھا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ مؤذن آگیا تھا، لہٰذا مجھے جلدی لگ گئی اور مجھے یہ بات ناپسند معلوم ہوئی کہ میں اسے روکوں۔
حدیث نمبر: 3506
٣٥٠٦ - حدثنا هشيم قال: (نا) (١) أبو حيان عن أبيه عن علي [قال: لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد، قال: قيل (له) (٢): ومن جار المسجد؟ قال: من أسمعه المنادي] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہوتی ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ مسجد کا پڑوسی کون ہے ؟ فرمایا جو مؤذن کی آواز سنتا ہے۔
حدیث نمبر: 3507
٣٥٠٧ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) منصور عن الحسن عن علي أنه قال: [من سمع النداء فلم يأته لم تجاوز صلاته رأسه إلا بالعذر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اذان کی آواز سنے اور بغیر عذر نماز کے لئے نہ آئے، تو اس کی نماز سر سے تجاوز نہیں کرتی۔
حدیث نمبر: 3508
٣٥٠٨ - حدثنا هشيم قال: (حدثنا) (١) يحيى بن سعيد عن نافع عن ابن عمر أنه قال: إن كنت مجيب (دعوة) (٢)، (٣) فأجب داعي اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم نے کسی پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہنا ہو تو اللہ کے داعی کی پکار پر لبیک کہو۔
حدیث نمبر: 3509
٣٥٠٩ - حدثنا هشيم عن حصين عن عبد اللَّه بن شداد قال: (استقبل) (١) النبي ﷺ (الناس) (٢) ذات ليلة في العشاء؛ يعني: العتمة، قال: "فلقد هممت أن آمر بالصلاة فينادى بها، ثم آتي قوما في بيوتهم فأحرقها عليهم لا يشهدون الصلاة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن شداد فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز کو مختصر پڑھایا پھر فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں کسی کو نماز پڑھانے کا کہوں، پھر اذان دی جائے، اور میں ان لوگوں کے گھروں میں جا کر انہیں جلا دوں جو نماز کے لئے مسجد میں نہیں آتے۔
حدیث نمبر: 3510
٣٥١٠ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن عبد الرحمن بن عابس عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى قال: جاء ابن أم مكتوم إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن المدينة أرض هوام (وسباخ) (١)، فهل لي رخصة أن أصلي العشاء والفجر في بيتي؟ فقال النبي ﷺ: "أتسمع: حي على الصلاة، حي على الفلاح؟ " قال: فقال: نعم. قال: "فَحَيَّهَلا" (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مدینہ میں بہت سے حشرات اور دلدلی جگہیں ہیں، کیا میرے لئے رخصت ہے کہ میں عشاء اور فجر کی نماز اپنے گھر میں پڑھ لوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ سنتے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر نماز کے لئے ضرور آؤ۔
حدیث نمبر: 3511
٣٥١١ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي سنان عن عمرو بن مرة قال: حدثني أبو رزين عن أبي هريرة قال: جاء ابن أم مكتوم إلى النبي ﷺ فقال: (يا رسول اللَّه) (١) إني رجل ضرير شاسع الدار، وليس لي قائد (يلائمني) (٢) فلي رخصة أن لا آتي المسجد؟ أو كما قال. قال: "لا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتومنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں ایک نابینا آدمی ہوں اور میرا گھر دور ہے۔ اور میرے پاس کوئی ایسا شخص بھی نہیں جو مجھے پکڑ کر مسجد میں لاسکے۔ کیا میرے لئے رخصت ہے کہ میں مسجد میں نہ آؤں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 3512
٣٥١٢ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس قال: اختلف إليه رجل شهرًا يسأله عن رجل يصوم النهار، ويقوم الليل، ولا يشهد (جمعة) (١)، ولا جماعة (مات) (٢) قال: في النار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی نے آکر سوال کیا کہ آدمی دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو عبادت کرتا ہے لیکن جمعہ اور جماعت میں حاضر نہیں ہوتا، اگر وہ مرگیا تو کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا وہ جہنم میں جائے گا۔