کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
حدیث نمبر: 3488
٣٤٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن أوس (بن) (١) (ضمعج) (٢) عن أبي مسعود الأنصاري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يوم القوم أقرؤهم (٣) لكتاب اللَّه، فإن كانوا في القراءة سواء، فأعلمهم بالسنة، فإن كانوا في السنة سواء، فأقدمهم هجرة، فإن كانوا في الهجرة سواء، فأقدمهم سلما، ولا يومن الرجل الرجل في سلطانه، ولا يقعد في بيته على تكرمته إلا بإذنه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کتاب اللہ کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے، اگر قراءت میں سب برابر ہوجائیں تو جو سنت کا سب سے زیادہ عالم ہو وہ امامت کرائے، اگر سنت کے علم میں بھی سب برابر ہوں تو جو ہجرت کے اعتبار سے زیادہ پرانا ہے وہ امامت کرائے، اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو جو اسلام کے اعتبار سے زیادہ پرانا ہے وہ امامت کرائے، کوئی آدمی دوسرے آدمی کی سلطنت میں ہرگز امامت نہ کرائے اور کوئی آدمی کسی کے کمرے میں اس کے تکیے پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔
حدیث نمبر: 3489
٣٤٨٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن أبي عروبة (عن) (١) قتادة عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا كانوا ثلاثة فليؤمهم أحدهم، وأحقهم بالإمامة (٢) أقرؤهم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک امامت کرائے اور امامت کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو زیادہ قاری ہے۔
حدیث نمبر: 3490
٣٤٩٠ - حدثنا أبو خالد عن مجالد عن الشعبي وزيد بن إياس قالا: حدثنا مرة ابن (شراحيل) (١) قال: كنت في بيت فيه عبد اللَّه بن مسعود وحذيفة وأبو موسى الأشعري، فحضرت الصلاة فقال هذا لهذا: تقدم. وقال هذا لهذا: تقدم. و (عبد اللَّه ⦗٢٥٥⦘ بين أبي) (٢) موسى وحذيفة (٣)، فأخذا بناحيتيه فقدماه (قال) (٤): قلت: مم ذلك؟ قال: إنه شهد بدرًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ میں ایک کمرے میں تھا، جس میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی تھے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا ۔ ہر ایک نے دوسرے سے کہا آپ آگے ہوجائیں، حضرت عبد اللہ، حضرت ابو موسیٰ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تھے۔ ان دونوں نے انہیں پکڑ کر آگے کردیا۔ میں نے پوچھا کہ ان کی وجہِ تقدم کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ جنگ بدر میں شریک تھے۔
حدیث نمبر: 3491
٣٤٩١ - حدثنا حفص عن ابن جريج عن نافع عن ابن عمر قال: كان سالم يؤم المهاجرين والأنصار في مسجد قباء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ قباء کی مسجد میں مہاجرین اور انصار کی امامت کرایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3492
٣٤٩٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أنا) (١) عاصم عن عمرو بن سلمة قال: (لما) (٢) رجع قومي من عند رسول اللَّه ﷺ قالوا: إنه قال لنا: "ليؤمكم أكثركم قراءة للقرآن". قال: فدعوني فعلموني الركوع والسجود فكنت أصلي بهم وعلي بردة (مفتوقة) (٣) قال: فكانوا يقولون لأبي: ألا تغطي عنا است ابنك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں جب ہماری قوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے واپس آئی تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ تم میں قرآن کی سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا تمہاری امامت کرائے۔ چناچہ انہوں نے مجھے بلایا اور مجھے رکوع سجدہ سکھایا۔ میں انہیں نماز پڑھاتا تھا اور میرے اوپر ایک پھٹی ہوئی چادر ہوتی تھی۔ وہ میرے والد سے کہا کرتے تھے کہ کیا تم اپنے بیٹے کی سرین ڈھک نہیں سکتے ؟ !
حدیث نمبر: 3493
٣٤٩٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عمرو بن سلمة قال: كنا على حاضر، فكان الركبان يمرون بنا راجعين من عند النبي ﷺ، فأدنو منهم فأستمع حتى حفظت قرآنا كثيرا، وكان الناس ينتظرون بإسلامهم فتح مكة، فلما فتحت جعل الرجل يأتيه فيقول (١): يا رسول اللَّه أنا وافد بني فلان وجئتك بإسلامهم، فانطلق أبي ⦗٢٥٦⦘ بإسلام قومه، فلما رجع قال: (قال) (٢) رسول اللَّه ﷺ: "قدموا أكثركم قرآنا". (قال: فنظروا وأنا على حِوَاءِ عظيم فما وجدوا فيهم أحدا) (٣) أكثر قرآنا منى فقدموني وأنا غلام فصليت بهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم پانی کے ایک گھاٹ کے پاس رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے قافلے ہمارے پاس رکا کرتے تھے، ان میں بعض قافلے ایسے بھی ہوتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے واپس آرہے ہوتے تھے۔ میں ان کے پاس جاتا اور ان کی باتیں سنا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے قرآن مجید کا بہت سا حصہ یاد کرلیا۔ لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے فتحِ مکہ کا انتظار کررہے تھے۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ ایک ایک کرکے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے اور کہتے ” یارسول اللہ ! ہم فلاں قبیلے کی طرف سے نمائندے ہیں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں “ میری والد بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر دینے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب وہ واپس آنے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے میں سے نماز کے لئے اس کو آگے کرو جو قرآن زیادہ جانتا ہے۔ انہوں نے غور کیا، اس وقت میں پانی کے پاس بنے ایک بڑے کمرے میں تھا۔ انہوں نے مجھ سے زیادہ عمدہ قرآن پڑھنے والا کسی کو نہ پایا چناچہ نماز کے لئے مجھے آگے کردیا۔ میں نوعمر لڑکا تھا اور انہیں نماز پڑھایا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 3494
٣٤٩٤ - حدثنا وكيع عن ثور الشامي عن (مهاصر) (١) (بن) (٢) حبيب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا خرج ثلاثة مسلمين في سفر فليؤمهم أقرؤهم لكتاب اللَّه، (وإن) (٣) كان أصغرهم فإذا أمهم فهو أميرهم، وذلك أمير أمره رسول اللَّه (ﷺ) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تین مسلمان کسی سفر میں ہوں تو ان کی امامت وہ کرائے گا جو ان میں قرآن مجید کا زیادہ قاری ہو خواہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اور جب وہ ان کی امامت کرائے گا تو وہی ان کا امیر ہوگا۔ یہ وہ امیر تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیر قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 3495
٣٤٩٥ - حدثنا وكيع عن مسعر (بن) (١) حبيب الجرمي عن عمرو بن سلمة عن أبيه: أنهم وفدوا إلى النبي ﷺ، فلما أرادوا أن ينصرفوا (قال) (٢): قلنا له: يا رسول اللَّه من يصلي بنا؟ قال: "أكثركم جمعًا للقرآن أو أخذًا للقرآن"، فلم يكن فيهم أحد جمع من القرآن ما جمعت قال: فقدموني وأنا غلام فكنت أصلي بهم وعلي شملة، قال: فما شهدت (مجمعا) (٣) من (جرم) (٤) إلا كنت إمامهم (وأصلي) (٥) ⦗٢٥٧⦘ (على) (٦) جنائزهم إلى يومي هذا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ وفد کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب واپس جانے لگے تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہمیں نماز کون پڑھائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں وہ نماز پڑھائے جو قرآن زیادہ جانتا ہو۔ حضرت عمر و بن سلمہ فرماتے ہیں کہ اس وقت ہمارے قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن کا یاد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ چناچہ میرے نوعمر ہونے کے باوجود لوگوں نے مجھے آگے کردیا۔ پس میں انہیں نماز پڑھا یا کرتا تھا اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی تھی۔ میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی ہوتا میں ہی نماز پڑھاتا، اور میں اب تک ان کے جنازے پڑھا رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 3496
٣٤٩٦ - حدثنا وكيع عن الربيع عن ابن سيرين قال: يؤم القوم أقرؤهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کو جاننے والا لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔
حدیث نمبر: 3497
٣٤٩٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: يؤم القوم أفقههم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ دین کی سمجھ رکھنے والا لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔
حدیث نمبر: 3498
٣٤٩٨ - حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر: أن المهاجرين حين أقبلوا من مكة نزلوا إلى جنب قباء، فأمهم سالم مولى أبي حذيفة، لأنه كان أكثرهم قرآنا، فيهم أبو سلمة بن عبد الأسد وعمر بن الخطاب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مہاجرین جب مکہ سے واپس آئے تو قباء کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ اس موقع پر حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہان کی امامت کراتے، کیونکہ وہ ان میں سب سے زیادہ قرآن کو جاننے والے تھے۔ ان لوگوں میں حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد اور حضرت عمر بن خطاب بھی ہوتے تھے۔