کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ ایک نماز اس وقت تک قضاء نہیں ہوتی جب تک دوسری نماز کا وقت داخل نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 3400
٣٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) حفص عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال: بين كل صلاتين وقت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دونمازوں کے درمیان کسی نماز کا وقت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3401
٣٤٠١ - حدثنا الثقفي عن خالد عن عكرمة قال: ما بين الصلاة إلى الصلاة وقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان کسی نماز کا وقت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3402
٣٤٠٢ - حدثنا جرير عن منصور عن منذر قال: سألت (مرةً أبا) (١) رزين: متى تفوتني صلاة؟ فقال: (لا تفوتك) (٢) صلاة حتى (يدخل) (٣) وقت الأخرى، ولكن (فيما) (٤) بين ذلك (إفراط) (٥) وإضاعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منذر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابو رزین سے سوال کیا کہ میری نماز کب فوت ہوتی ہے ؟ فرمایا کہ تمہاری نماز اس وقت تک فوت نہیں ہوتی جب تک دوسری نماز کا وقت داخل نہ ہوجائے، البتہ نماز میں تاخیر کرنا افراط اور نقصان دہ ہے۔
حدیث نمبر: 3403
٣٤٠٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي (الأصبغ) (١) قال: سمعت (كثير ابن) (٢) عباس يقول: لا تفوت صلاة حتى ينادى بالأخرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیربن عباس فرماتے ہیں کہ ایک نماز اس وقت تک فوت نہیں ہوتی جب تک دوسری نماز کی اذان نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 3404
٣٤٠٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عثمان بن (موهب) (١) قال: سمعت أبا هريرة (سئل) (٢) ما التفريط في الصلاة؟ فقال: (أن يؤخرها) (٣) حتى يدخل وقت (التي) (٤) بعدها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ سے سوال کیا گیا کہ نماز میں تفریط کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ نماز کو اتنا مؤخر کرنا کہ دوسری نماز کا وقت شروع ہوجائے۔