حدیث نمبر: 3330
٣٣٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي العصر والشمس (طالعة) (١) في حجرتي لم يظهر عليها الفيء (بعد) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز کو اس وقت پڑھتے تھے جب کہ سورج میرے حجرے میں طلوع ہوتا تھا اور سائے ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 3331
٣٣٣١ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن ربعي بن (حراش) (١) عن أبي الأبيض (عن أنس) (٢) قال: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي العصر والشمس بيضاء (محلقة) (٣)، ثم آتي عشيرتي في جانب المدينة لم يصلوا فأقول: (ما يجلسكم؟) (٤) صلوا، فقد صلى رسول اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب کہ سورج سفید اور واضح ہوتا تھا۔ پھر میں مدینہ کے کنارے میں اپنے گھر والوں کے پاس آتا تھا لیکن انہوں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی ہوتی تھی۔ میں ان سے کہتا کہ تمہیں کس چیز نے بٹھایا ہوا ہے ؟ نماز پڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی نماز پڑھ لی ہے۔
حدیث نمبر: 3332
٣٣٣٢ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عبدة عن عبد الرحمن بن غنم قال: كتبت إلى عمر أسأله عن وقت العصر، فكتب إليّ أن: (صلِّ) (١) العصر إذا كانت الشمس بين (الشقين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرکو عصر کی نماز کا وقت دریافت کرنے کے لئے خط لکھا تو انہوں نے مجھے جواب میں کہا کہ جب سورج دونوں شقوں کے درمیان ہو تو عصر کی نماز ادا کرلو۔
حدیث نمبر: 3333
٣٣٣٣ - حدثنا ابن علية عن ابن جريج عن نافع قال: كان ابن عمر يصلي العصر والشمس بيضاء نقية [يعجلها مرة ويؤخرها أخرى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما عصر کی نماز اس وقت ادا کیا کرتے تھے جب کہ سورج سفید اور واضح ہوتا تھا، وہ کبھی اسے جلدی ادا کرتے اور کبھی تاخیر سے ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3334
٣٣٣٤ - حدثنا جرير عن منصور عن خيثمة قال: يصلي العصر والشمس بيضاء] (١) حية وحياتها أن (تجد) (٢) حرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ عصر کی نماز اس وقت ادا کی جائے گی جبکہ سورج سفید اور زندہ ہو اور سورج کی زندگی یہ ہے کہ تمہیں اس کی تپش محسوس ہو۔
حدیث نمبر: 3335
٣٣٣٥ - حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن أبي النجاشي عن رافع بن خديج قال: (كنا) (١) نصلي مع رسول اللَّه ﷺ، ثم (ننحر) (٢) الجزور (فنقسم) (٣) عشرة أجزاء، ثم (نطبخ) (٤) ونأكل لحما نضيجا قبل أن نصلي المغرب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کرتے، پھر ہم مغرب کی نماز سے پہلے پہلے اونٹ ذبح کرکے اس کے دس حصے کرتے، پھر اسے پکاتے اور اس کا گوشت پکا کر کھالیتے تھے۔
حدیث نمبر: 3336
٣٣٣٦ - حدثنا حفص عن أبي (العنبس) (١) قال: سألت (أبي) (٢) قلت: صليت مع علي (فأخبرني) (٣) كيف كان يصلي العصر؟ فقال: كان يصلي العصر والشمس مرتفعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العنبس کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، مجھے بتائیے کہ وہ عصر کی نماز کیسے پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب کہ سورج بلند ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 3337
٣٣٣٧ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه قال: قدم (رجل) (١) على المغيرة بن شعبة وهو على الكوفة فرآه يؤخر العصر فقال له: لم تؤخر العصر؛ فقد كنت أصليها مع رسول اللَّه ﷺ، ثم أرجع إلى أهلي (إلى) (٢) بني عمرو بن عوف والشمس مرتفعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس کوفہ میں آیا اور اس نے دیکھا کہ وہ عصر کی نماز تاخیر سے پڑھتے ہیں۔ اس آدمی نے پوچھا کہ آپ عصر کی نماز تاخیر سے کیوں پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ کر بنو عمرو بن عوف میں اپنے گھر آ جاتا تھا لیکن ابھی سورج بلند ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 3338
٣٣٣٨ - حدثنا شبابة قال: حدثنا ليث بن سعد عن ابن شهاب عن أنس: أن النبي ﷺ كان يصلي العصر والشمس مرتفعة حية، فيذهب الذاهب فيأتي العوالي والشمس مرتفعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور ابھی سورج بلند ہی ہوتا تھا۔ پھر کوئی جانے والا مدینہ کے کناروں میں پہنچ جاتا تھا اور سورج بلند ہی ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 3339
٣٣٣٩ - حدثنا (١) أحمد بن إسحاق عن (وهيب) (٢) عن أبي واقد عن أبي (أروى) (٣) قال: كنت أصلي مع رسول اللَّه ﷺ (العصر) (٤) ثم آتي الشجرة، يعني: ذا الحليفة، قبل أن تغيب الشمس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ارویٰ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھا کرتا تھا پھر سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ میں پہنچ جاتا تھا۔