حدیث نمبر: 3253
٣٢٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث (بن) (١) عياش بن ربيعة عن حكيم بن حكيم بن عباد بن حُنَيْف عن نافع بن جُبَيْر بن مطعم عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أَمّنِي جِبْريلُ عِنْدَ البْيَتِ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّى بيَ الظُّهْرَ حِيَن زَالَت الشَّمْسُ وَكَانَتْ بقَدَرِ الشَّرَاك، وَصَلَّى بيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْء مِثْلَهُ، وَصَلَّى بيَ المْغَرْبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلَّى بِيَ العِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى بِي الْفَجْرَ حِين حَرُمَ الطَّعَامُ والشَّرَابُ عَلى الصَّائِم، وَصَلَّى بِيَ ((مِنَ) (٢) الْغَدِ) (٣) الظُّهْرَ حَين كَانَ ظِلُّ كلِّ شَيْء مِثْلَهُ، وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْء مِثْلَيْه، وَصَلَّى بِيَ المغْرِبَ حِين أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلَّى بيَ العِشَاءَ ثلُثَ اللَّيْل، وَصَلَّى بيَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ، ثُمَّ التْفَتَ إليَّ ⦗١٩٤⦘ فَقَالَ: يا مُحَمَّدُ، هَذَا الوَقْتُ وَقْتُ النَّبِييَنَ قَبْلَكَ، الْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْن الْوَقْتَيْن" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرئیل نے بیت اللہ میں دو مرتبہ میری امامت کرائی۔ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج تسمے کے برابر زائل ہوگیا۔ پھر مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیزکا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزہ دار افطار کرتا ہے۔ پھر مجھے عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غائب ہوگیا۔ پھر مجھے فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار کے لئے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ پھر اگلے دن مجھے اس وقت ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر مجھے اس وقت عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا۔ پھر مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے۔ پھر مجھے عشاء کی نماز تین تہائی رات گذر جانے کے بعد پڑھائی۔ پھر مجھے فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روشنی ہوگئی۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ” اے محمد ! یہ وقت تم سے پہلے نبیوں کی نمازوں کا تھا، تمہاری نماز کا وقت بھی ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 3254
٣٢٥٤ - حدثنا وكيع عن (بدر) (١) بن عثمان عن أبي بكر بن (أبي) (٢) موسى سمعه (منه) (٣) عن أبيه: أن سائلًا أتى النبي ﷺ فسأله (عن) (٤) مواقيت الصلاة فلم يرد (عليه) (٥) شيئا، قال: ثم أمر بلالًا (فأقام حين انشق الفجر فصلى، ثم أمره) (٦) فأقام الصلاة والقائل يقول: قد زالت الشمس، أو لم تزل، وهو كان أعلم منهم، ثم أمره فأقام العصر والشمس مرتفعة، وأمره (فأقام المغرب حين وقعت الشمس، (ثم) (٧) أمره) (٨) فأقام العشاء (عند) سقوط (الشفق) (٩)، قال: ثم صلى الفجر من الغد والقائل يقول: قد طلعت الشمس، أو لم تطلع، وهو كان أعلم منهم، وصلى الظهر قريبًا من وقت العصر بالأمس، وصلى العصر والقائل يقول: قد احمرت الشمس، وصلى المغرب قبل أن يغيب الشفق، وصلى العشاء ثلث الليل الأول، ثم ⦗١٩٥⦘ قال: "أَيْنَ السَّائِلُ عَن الْوَقْتِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْن: (وَقْتٌ) " (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے اسے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اس وقت اقامت کہی جب فجر طلوع ہوگئی تھی۔ آپ نے اس وقت نما زپڑھائی۔ پھر انہوں نے اس وقت اقامت کہی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج زائل ہوا ہی ہے یا ہونے والا ہے حالانکہ وہ کہنے والا سب سے زیادہ اوقات کو جانتا ہے۔ پھر عصر کی نماز کے لئے اقامت کا اس وقت کہا جب کہ سورج ابھی بلند تھا۔ پھر مغرب کی نماز کے لئے اقامت کا اس وقت کہاجب کہ سورج غروب ہوگیا تھا۔ پھر عشاء کی نماز کے لئے اقامت کا اس وقت کہا جبکہ شفق غائب ہوگیا۔ پھر آپ نے اگلے دن فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ کہنے والا کہتا تھا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے یا نہیں ہوا۔ جبکہ وہ قائل سب سے زیادہ مواقیت کو جانتا تھا۔ پھر آپ نے ظہر کی نماز گذشتہ عصر کی نماز کے وقت کے قریب پڑھائی۔ اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج سرخ ہوگیا ہے۔ پھر مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی اور عشاء کی نماز رات کے پہلے تہائی حصے کے گذرنے پر پڑھائی۔ پھر فرمایا نمازوں کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ جو وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے وہ نماز کا وقت ہے۔
حدیث نمبر: 3255
٣٢٥٥ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنَّ للصَّلاةِ أوَّلًا وآخِرًا، وإنَّ أولَ (وَقْتِ) الظّهْرِ حِينَ (تَزوُلُ) (١) الشَّمْسُ، وَإنَّ آخِرَ وَقْتها حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ العَصْرِ، وَإنَّ أَوَلَ وَقتِ الْعَصرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ، وإنَّ آخرَ وَقْتها (حينَ تَصْفَارُّ الشَّمْسُ، وَإنَّ أَوَّلَ وَقْتِ المْغُرِب حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتها) (٢) حِينَ يَغِيبُ الأْفُقُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاء الآخِرَة حِينَ يَغِيبُ الأَفُقُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِها حِينَ يَنْتَصفُ اللَّيْلُ، وإنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلَعُ الفَجْرُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتهِا حَين تَطْلَعُ الشَّمْسُ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نماز کا ایک اول وقت ہوتا ہے اور ایک آخر وقت ہوتا ہے۔ ظہر کا اول وقت وہ ہے جب سورج زائل ہوجائے۔ ظہر کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت داخل ہوجائے۔ عصر کا اول وقت وہ ہے جب عصر کا وقت داخل ہو اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج زرد ہوجائے۔ مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج غروب ہوجائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب افق غائب ہوجائے، عشاء کا اول وقت وہ ہے جب افق غائب ہوجائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب آدھی رات گذر جائے۔ فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر طلوع ہوجائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج طلوع ہوجائے۔
حدیث نمبر: 3256
٣٢٥٦ - حدثنا ابن علية عن عوف عن أبي المِنْهَال عن أبي (برزة) (١) قال: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي (الهجير) (٢) (التي) (٣) (تدعونها) (٤) الأولى (حين) (٥) تدحض ⦗١٩٦⦘ الشمس، ويصلي العصر، ثم يرجع أحدنا إلى رحله في أقصى المدينة (والشمس) (٦) حية قال: ونسيت ما قال في المغرب، قال: وكان يستحب أن يؤخر من العشاء التي تدعونها العتمة، وكان ينفتل من صلاة الغداة حين يعرف الرجل جليسه، وكان يقرأ بالستين إلى المائة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج درمیانِ آسمان سے مغرب کی طرف زائل ہوجاتا تھا۔ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جب ہم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے بعد اپنی سواری پر مدینہ کے کنارے سے چکر لگا کر واپس آجاتا اور سورج ابھی روشنی برسارہا ہوتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے مغرب کا جو وقت بیان کیا وہ میں بھول گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ عشاء کی نماز کو قدرے تاخیر سے پڑھیں۔ فجر کی نماز سے اس وقت فارغ ہوتے جب اتنی روشنی ہوجاتی کہ آدمی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچاننے لگتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3257
٣٢٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن محمد بن عمرو بن (الحسن) (١) عن جابر بن عبد اللَّه قال: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي الظهر بالهاجرة، والعصر والشمس نقية، والمغرب إذا وجبت، والعشاء (أحيانا) (٢) يؤخرها، وأحيانا يعجل، إذا رآهم (قد) اجتمعوا عجل، وإذا رآهم (قد) (٣) أبطؤوا أخر، والصبح قال: كانوا (أو قال: كان) (٤) النبي ﷺ يصليها بغلس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز کو دوپہر میں سورج کے زوال کے بعد، عصر کی نماز کو سورج کے واضح ہونے کے وقت، مغرب کو سورج کے غروب ہونے کے بعد پڑھتے تھے۔ عشاء کی نماز کو کبھی دیر سے اور کبھی جلدی پڑھتے تھے۔ جب آپ دیکھتے کہ لوگ آگئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر لوگ آنے میں د یر کردیتے تودیر سے پڑھتے۔ اور صبح کی نماز کو اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3258
٣٢٥٨ - حدثنا أبو خالد عن حميد عن أنس: أن النبي ﷺ سئل عن صلاة الفجر فأمر بلالا فأذن حين طلع الفجر، ثم من الغد حين أسفر، ثم قال: "أين السائل؟ ما بين هذين (١) وقت" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فجر کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ اس وقت اذان دیں جب فجر طلوع ہوجائے اور پھر اگلے دن اس وقت اذان دیں جب روشنی ہوجائے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ فجر کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 3259
٣٢٥٩ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: حدثني خارجة بن عبد اللَّه بن (سليمان) (٢) بن زيد بن ثابت قال: حدثني حسين بن بشير بن (سلام) (٣) عن أبيه (قال) (٤) دخلت أنا ومحمد بن علي أو رجل من آل علي على جابر بن عبد اللَّه فقلنا له: حدثنا عن كيف كانت الصلاة مع رسول اللَّه ﷺ؟ قال: صلى رسول اللَّه ﷺ الظهر حين كان الظل مثل الشراك، ثم صلى بنا العصر حين كان الظل مثله ومثل الشراك، ثم صلى بنا المغرب حين غابت الشمس، ثم صلى بنا العشاء حين غاب الشفق، ثم صلى بنا الفجر حين طلع الفجر، ثم صلى بنا من الغد الظهر حين كان (ظل) (٥) كل شيء مثله، ثم صلى بنا العصرحين كان ظل كل شيء مثليه قدر ما (يسير) (٦) (الراكب) (٧) إلى ذي الحليفة (العنق) (٨)، ثم صلى بنا الغرب حين (غابت) (٩) الشمس، ثم صلى بنا العشاء حين ذهب ثلث الليل، ثم صلى بنا الفجر فأسفر، فقلنا له: كيف (نصلي) (١٠) مع الحجاج وهو يؤخر؟ فقال: ما صلى للوقت فصلوا معه فإذا أخر (فصلوها) (١١) لوقتها واجعلوها معه نافلة، (وحديثي) (١٢) هذا ⦗١٩٨⦘ عندكم (أمانة) (١٣) فإذا مت فإن استطاع الحجاج أن ينبشني (فلينبشني) (١٤) (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن سلمان کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی رضی اللہ عنہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ نماز سکھادیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت ظہر کی نماز پڑھی جب ہر چیز کا سایہ تسمے کے برابر ہوگیا۔ پھر ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا۔ پھر ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غائب ہوگیا۔ پھر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب فجر طلوع ہوگئی۔ پھر اگلے دن ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر ہمیں عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا۔ یہ نماز آپ نے ہمیں اتنی دیر پہلے پڑھائی جس میں ایک سوار مغرب کی نماز تک تیز رفتار کے ساتھ مقام ذو الحلیفہ تک پہنچ جائے۔ پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا۔ پھر ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر گیا۔ پھر ہمیں روشنی میں فجر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ ہم حجاج بن یوسف کے ساتھ کیسے نماز پڑھیں حالانکہ وہ تاخیر سے نماز پڑھتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جو نماز وہ وقت پر پڑھے اس کے ساتھ پڑھ لو اور جو نماز وہ دیر سے پڑھے، اسے تم وقت میں پڑھو اور اس کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجاؤ۔ اور میری یہ بات تمہارے پاس امانت ہے اگر میں مر بھی گیا اور حجاج کو اتنی قدرت ہوئی کہ وہ میری قبر کو اکھاڑے تو وہ ضرور اکھاڑے گا۔
حدیث نمبر: 3260
٣٢٦٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة قال: أخبرني (بشير) (١) بن أبي مسعود عن أبيه: أن رسول اللَّه ﷺ قال: "نزل جبريل فأمني حتى عد خمس صلوات" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل میرے پاس آئے اور انہوں نے میری امامت کرائی۔ پھر انہوں نے پانچ نمازوں کا ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 3261
٣٢٦١ - حدثنا غندر عن شعبة عن قتادة قال: سمعت أبا أيوب يحدث عن عبد اللَّه بن عمرو قال: وقت الظهر ما لم يحضر وقت العصر، (ووقت العصر) (١) ما لم تصفر الشمس، ووقت المغرب ما لم يسقط (ثور) (٢) الشفق، ووقت العشاء إلى نصف الليل، ووقت الصبح ما لم تطلع الشمس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک عصر کا وقت نہ ہوجائے۔ عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ ہوجائے۔ مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق زائل نہ ہوجائے اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔ اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج طلوع نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 3262
٣٢٦٢ - حدثنا يحيى بن (أبي) (١) (بكير) (٢) قال: حدثنا شعبة عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لم يرفعه مرتين، ثم رفعه قال: قال رسول اللَّه ﷺ ثم ذكر مثل حديث غندر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3263
٣٢٦٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن المغيرة بن النعمان عن علي بن عمرو قال: أتانا كتاب عمر أن صلوا الفجر والنجوم مشتبكة نيرة، وصلوا الظهر إذا زالت الشمس عن بطن السماء، وصلوا العصر والشمس بيضاء نقية، وصلوا المغرب حين تغرب الشمس، ورخص في العشاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن عمرو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر کا خط آیا جس میں مکتوب تھا : فجر کی نماز کو اس وقت پڑھو جب ستارے روشن ہوں اور نظر آرہے ہوں۔ ظہر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج وسط آسمان سے زائل ہوجائے۔ عصر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج سفید اور روشن ہو۔ مغرب کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج غروب ہوجائے اور آپ نے عشاء کی نماز میں رخصت دی۔
حدیث نمبر: 3264
٣٢٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن نافع بن جبير قال: كتب عمر إلى أبي موسى أن صل الظهر إذا زالت الشمس، وصل العصر والشمس بيضاء حية، وصل المغرب إذا اختلط الليل (والنهار) (١)، وصل العشاء أي الليل شئت، وصل الفجر إذا نور النور (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا جس میں مکتوب تھا : ظہر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج زائل ہوجائے، عصر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج سفید اور چمکدار ہو۔ مغرب کی نماز اس وقت پڑھو جب رات اور دن ایک دوسرے میں مل جائیں۔ عشاء کی نماز رات کو جب چاہو پڑھ لو اور فجر کی نماز اس وقت پڑھو جب روشنی پھیل جائے۔
حدیث نمبر: 3265
٣٢٦٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن جابر قال: الظهر كاسمها، (والعصر) (١) والشمس بيضاء حية، والمغرب كاسمها، كنا نصلي مع رسول اللَّه ﷺ المغرب، ثم نأتي منازلنا على قدر ميل فنرى مواقع النبل، وكان يعجل بالعشاء ويؤخر، والفجر كاسمها، وكان يغلس بها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ظہر اپنے نام کی طرح ہے۔ عصر کو اس وقت پڑھنا ہے جب سورج روشن اور چمکدار ہو، مغرب بھی اپنے نام کی طرح ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھا کرتے تھے پھر ہم ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں میں آجاتے اور پھر بھی ہمیں ایک تیرپھینکنے کی دوری تک کی چیزیں نظر آتی تھیں۔ آپ عشاء کی نماز کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے پڑھا کرتے تھے۔ فجر اپنے نام کی طرح ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے۔