حدیث نمبر: 3243
٣٢٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (علي) (١) بن مسهر عن الشيباني عن الوليد بن العيزار عن أبي عمرو الشيباني عن عبد اللَّه بن مسعود قال: سألت رسول اللَّه ﷺ أي العمل أفضل؟ قال: "الصلاة لوقتها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ بہترین عمل کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ نماز جو وقت پر ادا کی جائے۔
حدیث نمبر: 3244
٣٢٤٤ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن الحسن بن سعد (عن عبد الرحمن) (١) ابن عبد اللَّه عن ابن مسعود: ﴿الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ﴾ [المعارج: ٢٣] قال: على مواقيتها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی اس آیت { الَّذِینَ ہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ دَائِمُونَ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وقت پر نماز ادا کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 3245
٣٢٤٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد قال: نبئت أن أبا بكر وعمر كانا يعلمان الناس: تعبد اللَّه ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة التي (افترض) (١) اللَّه لواقيتها؛ فإن في تفريطها الهلكة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر لوگوں کو سکھایا کرتے تھے کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، وہ نمازیں قائم کرو جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے وقت پر فرض فرمایا ہے۔ اس لئے کہ ان کے ضائع کرنے میں ہلاکت ہے۔
حدیث نمبر: 3246
٣٢٤٦ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق قال: (الحفاظ) (١) على الصلاة لوقتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ نماز کی محافظت کا معنی یہ ہے کہ اسے وقت پر ادا کیا جائے۔
حدیث نمبر: 3247
٣٢٤٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن عمارة قال: ما كان الأسود إلا راهبا يتخلف يرى أنه يصلي فإذا جاء وقت الصلاة أناخ ولو على الحجارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسود تو ایک راہب ہی تھے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ فوراً اس کی طرف لپک پڑتے خواہ پتھر پر بیٹھے ہوتے !
حدیث نمبر: 3248
٣٢٤٨ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: كتب إلينا عمر بن عبد العزيز أما بعد: فإن (عرى) (١) الدين وقوام الإسلام: الإيمان باللَّه، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، (فصل) (٢) الصلاة لوقتها، وحافظ عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ہمیں ایک خط لکھا جس میں مکتوب تھا : اما بعد ! دین کا کمال اور اسلام کی مضبوطی اللہ تعالیٰ پر ایمان ، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے میں ہے۔ پس نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرو اور ان پر پابندی اختیار کرو۔
حدیث نمبر: 3249
٣٢٤٩ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن: أنه كان يعجبه إذا كان في سفر أن يصلي الصلاة لوقتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حسن کو یہ بات بہت پسند تھی کہ سفر میں بھی نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کریں۔
حدیث نمبر: 3250
٣٢٥٠ - حدثنا وكيع عن (معمر) (١) بن موسى عن أبي جعفر قال: قلت له: أي الصلاة أفضل؟ قال: في (أول) (٢) (الوقت) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے کہا کہ کون سی نماز افضل ہے ؟ انہوں نے فرمایا جو شروع وقت میں پڑھی جائے۔
حدیث نمبر: 3251
٣٢٥١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن أبي النجود عن مصعب بن سعد عن سعد قال: السهو: الترك عن الوقت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ وقت کو چھوڑ دینا بہت بڑی غلطی ہے۔
حدیث نمبر: 3252
٣٢٥٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا العمري عن (قاسم) (١) (بن) (٢) غنام عن بعض أمهاته عن أم فروة: أنها سألت النبي ﷺ أي العمل أو أي الصلاة أفضل؟ فقال: "الصَّلَاةُ في أَوّلِ وَقْتِهَا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام فروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل یا کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا ” نماز کو اول وقت میں ادا کرنا “