حدیث نمبر: 3192
٣١٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (سفيان) (١) بن عيينة عن الزهري عن سعيد ابن المسيب عن أبي هريرة قال: أتى رجل النبي ﷺ فقال: إن أحدنا يصلي في الثوب الواحد (قال) (٢): " (أَوَ لِكُلّكُمْ) (٣) ثَوْبَانِ؟! " قال أبو هريرة للذي سأله: أتعرف أبا هريرة؟ فإنه يصلي في ثوب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ لے تو کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کیا ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہوتے ہیں ؟ حضرت ابوہریرہنے سوال کرنے والے سے کہا کہ کیا تم ابوہریرہ کو جانتے ہو ؟ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھتا ہے۔
حدیث نمبر: 3193
٣١٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر وعن أبي سعيد الخدري: أن النبي ﷺ صلى في ثوب واحد متوشحًا (به) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ آپ نے کپڑے کو اپنے دائیں بغل کے نیچے سے نکالا اور بائیں کندھے کے اوپر ڈال لیا۔
حدیث نمبر: 3194
٣١٩٤ - حدثنا شريك عن حسين بن عبد اللَّه عن عكرمة عن ابن عباس: أن النبي ﷺ صلى في ثوب واحد يتقي بفضوله حر الأرض وبردها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز ادا کی ہے۔ جب آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے تو اس کے زائد حصے سے زمین کی تپش اور ٹھنڈک سے بچا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3195
٣١٩٥ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال: سئل النبي ﷺ عن الصلاة في الثوب (الواحد) (١) فقال: "أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہوتے ہیں ؟
حدیث نمبر: 3196
٣١٩٦ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن إسحاق بن عبد اللَّه عن إبراهيم بن عبد اللَّه بن (حنين) (١) عن ابن عباس عن علي بن أبي طالب: أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إذاَ كَانَ إِزَارُكَ وَاسِعًا فَتَوَشَّحْ بهِ، (وَإِنْ) (٢) كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْهُ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے ازار کا کپڑا زیادہ ہو تو اسے دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے کے اوپر ڈال لو اور اگر تنگ ہو تو تہبند کے طور پر باندھ لو۔
حدیث نمبر: 3197
٣١٩٧ - حدثنا ملازم بن عمرو (عن) (١) عبد اللَّه بن بدر عن قيس بن طلق بن علي عن أبيه قال: جاء رجل فقال: يا نبي اللَّه ما ترى في الصلاة في (الثوب) (٢) الواحد؟ قال: فأطلق (نبي اللَّه) (٣) ﷺ إزاره (فطارق) (٤) به رداءه، ثم اشتمل بهما، ثم صلى بنا، فلما قضى الصلاة قال: "أَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟ " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کو آپ کیسا سمجھتے ہیں ؟ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ازار کی جگہ اپنی چادر سے ستر کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ نماز پوری کرنے کے بعد فرمایا کہ کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے مل جاتے ہیں ؟
حدیث نمبر: 3198
٣١٩٨ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عطاء عن معاوية بن أبي سفيان: أن النبي ﷺ صلى في ثوب واحد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 3199
٣١٩٩ - حدثنا عبد اللَّه بن أجلح عن عاصم عن أنس قال: صلى رسول اللَّه في ثوب واحد خالف بين طرفيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں اس طرح نماز ادا فرمائی کہ اس کے دونوں کناروں کو الگ الگ رکھا۔
حدیث نمبر: 3200
٣٢٠٠ - حدثنا أبو الأحوص عن طارق عن قيس بن أبي حازم قال: كان خالد ابن الوليد يخرج فيصلي بالناس في ثوب واحد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید ایک کپڑے میں نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3201
٣٢٠١ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي فروة عن أبي الضحى قال: سئل ابن عباس عن الرجل يصلي في الثوب الواحد فقال: نعم يخالف بين طرفيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الضحیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کیا ایک کپڑے میں نماز ادا کرنا جائز ہے ؟ فرمایا ہاں اگر اس کے کناروں کو الگ الگ رکھے۔
حدیث نمبر: 3202
٣٢٠٢ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة قال: جاء رجل إلى عائشة فقال: أصلي في ثوب واحد؟ قالت: نعم، وخالف بين طرفيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور عر ض کیا کہ کیا میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ فرمایا ہاں، البتہ اس کے کناروں کو الگ الگ رکھو۔
حدیث نمبر: 3203
٣٢٠٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن قيس بن أبي حازم قال: صلى بنا خالد بن الوليد في ثوب واحد في الوفود (وقد) (١) خالف بين طرفيه، وخلفه أصحاب النبي ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید نے ہمیں وفود میں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی، آپ نے کپڑے کے دونوں کناروں کو الگ الگ رکھا۔ اس وقت آپ کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بھی تھے۔
حدیث نمبر: 3204
٣٢٠٤ - حدثنا ابن فضيل عن عاصم قال: سئل أنس عن الصلاة في الثوب فقال: يتوشح به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے ایک کپڑے میں نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ جائز ہے، البتہ کپڑے کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے کے اوپر ڈال لے۔
حدیث نمبر: 3205
٣٢٠٥ - حدثنا حفص عن (حلام) (١) عن مسعود يعني: ابن حراش، قال: صلى بنا عمر في ثوب ليس عليه غيره، قال: وأمنا مسعود يعني: ابن حراش في (ثوب) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعود بن حراش کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی۔ حضرت حلا م کہتے ہیں کہ حضرت مسعود بن حراش نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 3206
٣٢٠٦ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن مجالد عن الشعبي: أنه صلى في ثوب واحد خالف بين طرفيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجالد فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی اور اس کے کناروں کو الگ الگ رکھا۔
حدیث نمبر: 3207
٣٢٠٧ - حدثنا عباد بن العوام عن (عوف) (١) عن الحسن قال: لا بأس أن يصلي الرجل في ثوب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 3208
٣٢٠٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن عمرو عن إبراهيم بن عبد اللَّه بن (حنين) (١) عن أبي مرة مولى عقيل بن أبي طالب عن أم هانئ ابنة أبي طالب (قالت) (٢): أتيت رسول اللَّه ﷺ فوضع له ماء فاغتسل، ثم التحف وخالف بين طرفيه على (عاتقه) (٣)، ثم صلى الضحى ثماني ركعات (٤). - قال محمد: وقد رأيت أبا مرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ کے لئے پانی رکھا گیا آپ نے اس سے غسل کیا، پھر آپ نے اپنے جسم مبارک پر کپڑا اس طرح لپیٹا کہ اپنے کندھوں پر اس کے کناروں کو الگ الگ رکھا۔ پھر آپ نے چاشت کی آٹھ رکعات نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 3209
٣٢٠٩ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن أبي نضرة قال: (قال) (١) (أبي) (٢): إن الصلاة في ثوب (واحد حسن) (٣)، قد فعلناه مع وسول اللَّه ﷺ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی فرماتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنا اچھا ہے اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3210
٣٢١٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن سعيد بن المسيب قال: سألته عن الصلاة في الثوب، أو سئل فقال: يخالف بين طرفيه.
مولانا محمد اویس سرور
داؤد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے ایک کپڑے میں نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جائز ہے ، البتہ دو نوں کناروں کو الگ الگ رکھے گا۔
حدیث نمبر: 3211
٣٢١١ - حدثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي قال: سألت أبا سلمة ابن عبد الرحمن عن الصلاة في الثوب الواحد فقال: إني لأصلي في الثوب الواحد وإلى جنبي ثياب لو أشاء أن آخذ منها لأخذت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے ایک کپڑے میں نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس بہت سے کپڑے ہوتے ہیں میں پھر بھی ایک کپڑے میں نماز پڑھ لیتا ہوں، اگر میں ان کپڑوں میں سے لینا چاہوں تو لے سکتا ہوں۔
حدیث نمبر: 3212
٣٢١٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن عثمان بن المغيرة عن سالم بن أبي الجعد عن ابن الحنفية أن عليا قال: لا بأس بالصلاة في ثوب واحد، (أو صلِّ) (١) في ثوب واحد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 3213
٣٢١٣ - حدثنا يعلى بن عبيد عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يصلي في ثوب واحد قال: حسن إذا خالف بين طرفيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے والا شخص اگر اس کے کناروں کو الگ الگ کرلے تو یہ اچھا ہے۔
حدیث نمبر: 3214
٣٢١٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال: رأيت النبي ﷺ يصلي في ثوب واحد متوشحًا به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ آپ نے کپڑے کو اپنے دائیں بغل کے نیچے سے نکالا اور بائیں کندھے کے اوپر ڈال لیا۔
حدیث نمبر: 3215
٣٢١٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا أبان بن (صمعة) (١) عن عكرمة عن ابن عباس قال: لا بأس بالصلاة في الثوب الواحد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 3216
٣٢١٦ - حدثنا الثقفي عق خالد عن عكرمة: أنه كان يقول: يصلي في ثوب (واحد) (١) يتزر ببعضه، ويرتدي ببعضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرمایا کرتے تھے کہ آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے، کچھ حصہ کو بطور ازار کے استعمال کرے اور کچھ حصے کو بطور چادر کے۔
حدیث نمبر: 3217
٣٢١٧ - حدثنا حماد بن مسعدة عن يزيد مولى سلمة (بن) (١) الأكوع قال: كان سلمة يصلي في ثوب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید کہتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن اکوع ایک کپڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3218
٣٢١٨ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه بن يونس قال: حدثنا يعلى بن الحارث المحاربي قال: سمعت غيلان بن جامع قال: حدثني إياس بن سلمة عن ابن لعمار بن ياسر قال: قال لي (أبي) (١): أمنا رسول اللَّه ﷺ ثوب واحد متوشحًا به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں اس طرح ہمیں نماز پڑھائی کہ آپ نے کپڑے کو اپنے دائیں بغل کے نیچے سے نکالا اور بائیں کندھے کے اوپر ڈال لیا۔
حدیث نمبر: 3219
٣٢١٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: (حدثنا) عمرو بن كثير قال: حدثني ابن كيسان عن أبيه قال: رأيت النبي ﷺ صلى الظهر والعصر في ثوب واحد (متلببا) (١) به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کیسان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر اور عصر کی نماز اس طرح پڑھائی کہ آپ نے ایک کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 3220
٣٢٢٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) داود بن أبي هند عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال: اختلف أُبَيّ بن كعب وابن مسعود في الصلاة في الثوب الواحد فقال أبي: ثوب، وقال ابن مسعود: ثوبان، فخرج عليهما عمر فلامهما وقال: إنه ليسوءني أن يختلف اثنان من أصحاب محمد ﷺ في الشيء الواحد، فعن أي فتياكما صدر الناس أما ابن مسعود فلم يأل، والقول ما قال أُبَيّ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابن مسعود کا ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں اختلاف ہوگیا، حضرت ابی فرماتے تھے کہ ایک کپڑا کافی ہے ۔ حضرت ابن مسعود فرماتے تھے کہ دو کپڑے ضروری ہیں۔ حضرت عمر ان کے پاس تشریف لائے اور ان دونوں حضرات کو ڈانٹا اور فرمایا کہ مجھے یہ بات بہت گراں گذرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کسی ایک چیز کے بارے میں ا ختلاف کریں۔ اس صورت میں تم دونوں میں سے کس کے فتویٰ پر لو گ عمل کریں گے۔ باقی رہی بات تو ابن مسعود نماز میں کمی سے بچنا چاہتے ہیں اور اس کے کمال کو حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں البتہ میرے نزدیک حضرت ابی کی بات زیادہ راجح ہے۔
حدیث نمبر: 3221
٣٢٢١ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عكرمة عن ابن عباس قال: يصلي في ثوب واحد متوشحا به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ آپ نے کپڑے کو اپنے دائیں بغل کے نیچے سے نکالا اور بائیں کندھے کے اوپر ڈال لیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں بشرطیکہ اسے جسم پر لپیٹ کر ایک ہاتھ باہر نکال لے۔
حدیث نمبر: 3222
٣٢٢٢ - وقال ابن عمر: لا يضره لو التحف حتى يخرج إحدى يديه (١).
حدیث نمبر: 3223
٣٢٢٣ - حدثنا يحيى بن إسحاق قال: (أخبرنا) يحيى بن أيوب قال: (حدثنا) (١) يحيى الأموي قال: دخلت أنا (وعروة) (٢) بن أبي قيس على عبد اللَّه بن الحارث بن جزء الزبيدي وكانت له صحبة، فتوضأ، ثم صلى في ثوب واحد قد خالف بين طرفيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ اموی کہتے ہیں میں اور عزرہ بن ابی قیس حضرت عبدا للہ بن حارث بن جزء زبیدی (جو کہ صحابی ہیں) کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے وضو کیا اور ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے دونوں کناروں کو الگ الگ رکھا۔
حدیث نمبر: 3224
٣٢٢٤ - حدثنا وكيع عن هشام (عن أبيه عن عمر) (١) بن أبي سلمة قال: رأيت النبي ﷺ يصلي في بيت أم سلمة في (ثوب) (٢) واضعا طرفيه على عاتقيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ابی سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ام سلمہ کے کمرے میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ہے، آپ نے کپڑے کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر رکھا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 3225
٣٢٢٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا فضيل بن غزوان عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: رأيت (سبعين) (١) من أهل الصفة (يصلون) (٢) في ثوب (ثوب) (٣) فمنهم من يبلغ ركبتيه، ومنهم (من هو) (٤) أسفل من ذلك، فإذا ركع قبض عليه مخافة أن تبدو عورته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ستر اہل صفہ کو دیکھا ہے کہ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض کا کپڑا گھٹنوں تک اور بعض کا گھٹنوں سے نیچے ہوتا تھا۔ جب وہ رکوع کرتے تو کپڑے کو پکڑ لیتے تھے تاکہ ستر ظاہر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 3226
٣٢٢٦ - (حدثنا) (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن عثمان بن المغيرة الثقفي عن سالم بن أبي الجعد عن محمد بن الحنفية قال: قال علي: إذا صلى الرجل في الثوب الواحد فليتوشح به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو کپڑے کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے کے اوپر ڈال لے۔
حدیث نمبر: 3227
٣٢٢٧ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن أبي جعفر قال: أمنا جابر بن عبد اللَّه في ثوب واحد متوشحا به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھائی کہ آپ نے کپڑے کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے کے اوپر ڈال لیا۔
حدیث نمبر: 3228
٣٢٢٨ - حدثنا محمد بن (عمر) (١) الأسلمي قال: أنا الضحاك بن عثمان عن (حبيب) (٢) مولى عروة قال: سمعت أسماء بنت أبي بكر تقول: رأيت أبي يصلي في ثوب (واحد، فقلت: يا أبت أتصلي في ثوب واحد) (٣) ⦗١٨٨⦘ (وثيابك) (٤) موضوعة، فقال: يا بنية إن آخر صلاة صلاها رسول اللَّه ﷺ خلفي في ثوب واحد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت ابی بکر فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے والد کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تو عرض کیا ابا جان ! آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہیں حالانکہ آپ کے بہت سے کپڑے پڑے ہیں ؟ حضرت ابو ب کرنے فرمایا کہ بیٹی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو آخری نماز میرے پیچھے پڑھی تھی وہ بھی ایک کپڑے میں پڑھی تھی۔