کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آدمی سلام پھیرنے کے بعد دائیں جانب مڑے یا بائیں جانب؟
حدیث نمبر: 3137
٣١٣٧ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن عمارة عن الأسود قال: قال عبد اللَّه: لا يجعلن أحدكم للشيطان من نفسه جزءا؛ لا يرى (إلا) (١) أن حقا عليه ألا ينصرف إلا عن يمينه، أكثر ما رأيت رسول اللَّه ﷺ ينصرف عن شماله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے جسم میں شیطان کے لئے کوئی حصہ نہ چھوڑے۔ اور اپنے اوپر یہ ضروری نہ سمجھے کہ اس نے دائیں طرف ہی مڑنا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اکثر بائیں طرف مڑتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3137
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٨٥٢)، ومسلم (٧٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3137، ترقيم محمد عوامة 3125)
حدیث نمبر: 3138
٣١٣٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك بن حرب قال: سمعت قبيصة بن هلب يحدث عن أبيه: أنه صلى مع رسول اللَّه ﷺ فرآه ينصرف عن شقيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قبیصہ بن ھلب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نما ز کے بعد ایک جانب رخ پھیرلیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3138
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3138، ترقيم محمد عوامة 3126)
حدیث نمبر: 3139
٣١٣٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (السدي) (١) عن أنس: أن النبي ﷺ كان ينصرف عن يمينه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں جانب رخ پھیرا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3139
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ لحال السدي، أخرجه مسلم (٧٠٨)، وأحمد (١٢٨٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3139، ترقيم محمد عوامة 3127)
حدیث نمبر: 3140
٣١٤٠ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: إذا قضيت الصلاة وأنت تريد حاجة فكانت حاجتك عن يمينك أو عن يسارك فخذ نحو حاجتك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم نماز پوری کرلو اور تمہیں کسی کام سے اٹھنا ہو تو یہ دیکھو کہ تمہاری حاجت دائیں جانب ہے یا بائیں جانب، سو جس طرف بھی حاجت ہو اسی طرف چلے جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3140
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الحار.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3140، ترقيم محمد عوامة 3128)
حدیث نمبر: 3141
٣١٤١ - حدثنا وكيع عن عبد السلام بن شداد عن غزوان بن جرير عن أبيه: أن عليا كان إذا سلم لا يبالي انصرف على يمينه أو على شماله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سلام پھیرلیتے تو اس بات کی پرواہ نہ کرتے کہ دائیں جانب رخ کریں یا بائیں جانب۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3141
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3141، ترقيم محمد عوامة 3129)
حدیث نمبر: 3142
٣١٤٢ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن أنس: أنه كان يكره أن يستدير الرجل في صلاته كما يستدير الحمار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی اپنی نماز میں گدھے کی طرح گھومے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3142
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3142، ترقيم محمد عوامة 3130)
حدیث نمبر: 3143
٣١٤٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن ناجية: أن أبا عبيدة رأى رجلا انصرف (عن) (١) يساره فقال: أما هذا فقد أصاب السنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ناجیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز پڑھنے کے بعد بائیں جانب کو اٹھا تو آپ نے فرمایا کہ اس نے سنت پر عمل کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3143
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ناجية صدوق
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3143، ترقيم محمد عوامة 3131)
حدیث نمبر: 3144
٣١٤٤ - حدثنا هشيم: أنا منصور عن الحسن: أنه كان يستحب أن ينصرف الرجل من صلاته عن يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حسن اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ آدمی نماز پڑھنے کے بعد دائیں جانب کو اٹھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3144
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3144، ترقيم محمد عوامة 3132)
حدیث نمبر: 3145
٣١٤٥ - حدثنا يعلى بن عبيد عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان قال: كنت (أصلي) (١) وابن عمر (مسند) (٢) (ظهره) (٣) إلى جدار القبلة، فانصرفت عن يساري فقال: ما يمنعك أن تنصرف عن يمينك؟ قلت: لا، إلا أني رأيتك فانصرفت إليك، فقال: أصبت، إن ناسا يقولون: تنصرف عن يمينك، وإذا كنت تصلي فانصرف إن أحببت عن يمينك أو عن يسارك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت واسع بن حبان فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور حضرت عبداللہ بن عمر قبلہ کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے نماز پڑھنے کے بعد بائیں جانب کو رخ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے دائیں جانب کو رخ کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں میں نے آپ کو دیکھا تو آپ ہی کی طرف اٹھ کر چلا آیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تم دائیں جانب کو اٹھتے ہو (ضروری سمجھتے ہو) جب تم نماز پڑھ لو تو چاہو تو دائیں طرف اور چاہو تو بائیں طرف رخ کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3145
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3145، ترقيم محمد عوامة 3133)
حدیث نمبر: 3146
٣١٤٦ - حدثنا وكيع عن شعبة عن حماد عن إبراهيم قال: انصرف على أي شقيك شئت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس طرف بھی چاہو رخ کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3146
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3146، ترقيم محمد عوامة 3134)