٣٠٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يستحب أن يدعو في المكتوبة بدعاء القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ فرض نماز میں قرآنی دعائیں مانگی جائیں۔
٣٠٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن صدقة بن يسار قال: سمعت طاوسا يقول: ادعوا في الفريضة بما في القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ فرض نماز میں قرآنی دعائیں مانگو۔
٣٠٦٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد مثل حديث طاوس.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٣٠٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن صدقة بن يسار عن طاوس قال: ادعوا في الفريضة بما في القرآن، أو قال: في المكتوبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ فرض نماز میں قرآنی دعائیں مانگو۔
٣٠٦٧ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن الحكم بن عطية قال: سمعت محمدا وسئل (عن) (١) الدعاء في الصلاة فقال: كان أحب دعائهم ما وافق القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے نماز میں دعا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسلاف کو سب سے زیادہ پسند دعائیں وہ تھیں جو قرآن کے موافق ہوں۔
٣٠٦٨ - حدثنا ابن أبى عدي عن ابن عون عن محمد قال: كان يكره أن يدعو في الصلاة بشيء من أمر الدنيا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد اس بات کو ناپسند خیال فرماتے تھے کہ نماز میں دنیاوی ضروریات کا سوال کیا جائے۔
٣٠٦٩ - حدثنا عبدة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم: أنه كان يعجبه أن يدعو في المكتوبة بما في القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ ابراہیم کو یہ بات پسند تھی کہ نماز میں قرآنی دعائیں پڑھی جائیں۔