کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 2985
٢٩٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن عمارة عن أبي معمر عن أبي مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تجزئ صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع والسجود" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس آدمی کی نماز درست نہیں ہوتی جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2985
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٧٠٧٣)، والترمذي (٢٦٥)، والنسائي ٢/ ١٧٣ وابن ماجه (٨٧٠) وابن خزيمة (٥٩١)، وابن حبان (١٨٩٢)، وعبد الرزاق (٢٨٥٦)، والحميدي (٤٥٤)، والدارمي ١/ ٣٠٤، وابن الجارود (١٩٥)، وأبو عوانة ٢/ ١٠٤، والطحاوي في شرح المشكل (٢٠٦)، والطبراني ١٧/ ٥٧٨، والدارقطني ١/ ٣٤٨، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ١١٨، والبيهقي ٢/ ٨٨ والبغوي (٦١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2985، ترقيم محمد عوامة 2973)
حدیث نمبر: 2986
٢٩٨٦ - حدثنا (ملازم) (١) بن (عمرو) (٢) (عن) (٣) عبد اللَّه بن بدر قال: حدثني عبد الرحمن بن علي بن شيبان عن أبيه علي بن شيبان وكان من الوفد قال: خرجنا حتى قدمنا (على) (٤) نبي اللَّه ﷺ فبايعناه وصلينا معه، فلمح بمؤخر عينه إلى ⦗١٣١⦘ رجل لا يقيم (صلبه) (٥) في الركوع والسجود، فلما قضى النبي ﷺ الصلاة قال: "يا معشر المسلمين لا صلاة (لامرئ) (٦) لا يقيم صلبه في الركوع والسجود" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ دورانِ نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن اکھیوں سے ایک آدمی کو دیکھا جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہیں تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازپوری کرلی تو فرمایا کہ اے مسلمانوں کی جماعت ! اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2986
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٦٢٩٧)، وابن ماجه (٨٧١)، وابن خزيمة (٥٩٣)، وابن حبان (١٨٩١)، وابن سعد ٥/ ٥٥١، ويعقوب في المعرفة ١/ ٢٧٥، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٦٧٨) والطحاوي ١/ ٣٩٤، والبيهقي ٣/ ١٠٥، وابن الأثير ٤/ ٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2986، ترقيم محمد عوامة 2974)
حدیث نمبر: 2987
٢٩٨٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن علي بن يحيى بن خلاد عن أبيه عن عمه وكان بدريا قال: كنا جلوسا مع رسول اللَّه ﷺ فدخل رجل فصلى صلاة خفيفة لا يتم ركوعا ولا سجودا، ورسول اللَّه ﷺ يرمقه، ونحن لا نشعر، قال: فصلى، ثم جاء فسلم على النبي ﷺ (فرد عليه) (١)، فقال: " (أعد) (٢) فإنك لم تصل"، (قال) (٣): ففعل ذلك ثلاثًا كل ذلك يقول له: " (أعد) (٤) فإنك لم تصل"، فلماكان في الرابعة قال: يا رسول اللَّه علمني فقد واللَّه اجتهدت. فقال: "إذا قمت الى الصلاة فاستقبل القبلة، ثم كبر، ثم اقرأ، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى تطمئن قائما، ثم اسجد حتى تطمئن (ساجدا) (٥)، ثم اجلس حتى تطمئن جالسا، (ثم قم) (٦)، فإذا فعلت ذلك فقد تمت ⦗١٣٢⦘ صلاتك وما نقصت من ذلك نقصت من صلاتك" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن یحییٰ بن خلاد اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے انتہائی پھرتی سے نماز پڑھی اور رکوع اور سجود بھی ٹھیک طرح نہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے گھور کر دیکھ رہے تھے جبکہ ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوا۔ جب وہ نماز پڑھ کر حاضر خدمت ہوا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے ایسا تین مرتبہ کیا لیکن ہر مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے یہی فرماتے کہ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی، جب وہ چوتھی مرتبہ حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مجھے نماز سکھا دیجئے، خدا کی قسم ! میں نے تو پوری کوشش کرکے دیکھ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو قبلہ کی طرف رخ کرو۔ پھر تکبیر کہو، پھر قراءت کرو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر رکوع سے اٹھو تو اطمینان سے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو اور اطمینان سے سجدہ کرو۔ پھر بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور پھر کھڑے ہوجاؤ۔ اگر تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری نماز مکمل ہوگئی اور اگر اس میں سے کسی عمل میں کمی کی تو سمجھو وہ کمی تمہاری نماز میں پائی جارہی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2987
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، أخرجه أحمد (١٨٩٩٧)، والنسائي ٢/ ١٩٣، وابن حبان (١٧٨٧)، والشافعي في الأم ١/ ٨٨، والبخاري في الفراءة خلف الإمام (١١٢)، وفي التاريخ ٣/ ٣٢١، والطبراني (٤٥٢٤)، وابن أبي عاصم في الأحاد (١٩٧٦)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٢٤٥)، كما أخرجه أبو داود (٨٦١) والترمذي (٣٠٢)، وابن خزيمة (٥٤٥)، وابن ماجه (٤٦٠)، والحاكم ١/ ٢٤٣، وعبد الرزاق (٣٧٣٩)، والبيهقي ٢/ ٣٧٣، والبغوي (٥٥٣)، وابن الجارود (١٩٤)، والدارمي (١٣٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2987، ترقيم محمد عوامة 2975)
حدیث نمبر: 2988
٢٩٨٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا عبيد اللَّه بن عمر عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة: أن رجلا دخل المسجد فصلى ورسول اللَّه ﷺ في ناحية المسجد (فجاء) (١) فسلم عليه، فقال (له) (٢): " (وعليك) (٣)، ارجع (فصل) (٤) فإنك لم تصل بعد"، فرجع فسلم عليه فقال: "ارجع فإنك لم تصل بعد"، فقال (له الرجل) (٥) في الثالثة: فعلمني يا رسول اللَّه. فقال: "إذا قمت الى الصلاة فأسبغ الوضوء، ثم استقبل القبلة فكبر، ثم اقرأ بما تيسر معك من القرآن، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى (تعتدل) (٦) قائما، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تستوي قائما، أو قال: قاعدا، ثم افعل ذلك في صلاتك كلها" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ وہ آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ جاؤ اور نماز پڑھو، تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ وہ گیا اور آکے دوبارہ اس نے سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ، تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ پھر تیسری مرتبہ اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے نماز سکھا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہوکر تکبیر کہو، پھر قرآن مجید کی جو تلاوت تمہارے لئے ممکن ہو وہ کرلو۔ پھر اطمینان سے رکوع کرلو، پھر پورے اعتدال سے کھڑے ہوجاؤ، پھر اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سیدھے کھڑے ہوجاؤ یا فرمایا کہ پھر سیدھے بیٹھ جاؤ۔ پھر یہ اعمال اپنی پوری نماز میں کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2988
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٢٥١)، ومسلم (٣٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2988، ترقيم محمد عوامة 2976)
حدیث نمبر: 2989
٢٩٨٩ - حدثنا عفان قال: نا حماد بن سلمة قال: أخبرنا علي بن زيد عن سعيد بن المسيب عن أبي سعيد الخدري: أن النبي ﷺ قال: "إن أسوأ الناس سرقة الذي يسرق صلاته"، قالوا يا رسول اللَّه: كيف يسرقها؟ قال: "لا يتم ركوعها ولا سجودها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! نماز میں کیسے چوری کرسکتا ہے ؟ فرمایا کہ اس کا رکوع سجدہ اچھی طرح نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2989
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال علي بن زيد، أخرجه أحمد (١١٥٣٢)، وأبو يعلى (١٣١١)، والبزار (٥٣٦/ كشف)، وعبد بن حميد (٩٩٠)، وابن عدي ٥/ ١٨٤٣، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ٣٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2989، ترقيم محمد عوامة 2977)
حدیث نمبر: 2990
٢٩٩٠ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: حدثنا ثابت عن أنس قال: وصف لنا أنس صلاة النبي ﷺ، ثم قام يصلي فركع فرفع رأسه من الركوع فاستوى قائما حتى رأى بعضنا أنه قد نسي، قال: ثم سجد فاستوى قاعدا حتى رأى بعضنا أنه قد نسي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انسنے ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کیا، پہلے وہ نماز کے لئے سیدھے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے رکوع کیا، پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا، پھر سیدھا کھڑے ہوگئے۔ اور اتنی دیر کھڑے رہے ہم میں سے بعض لوگ سمجھے کہ آپ بھول گئے ہیں۔ پھر حضرت انس نے سجدہ کیا پھر سیدھے بیٹھ گئے اور اتنی دیربیٹھے رہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ سمجھے کہ آپ بھول گئے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2990
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخارى (٨٠٠)، ومسلم (٤٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2990، ترقيم محمد عوامة 2978)
حدیث نمبر: 2991
٢٩٩١ - حدثنا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب عن سالم (البراد) (١) قال: أتينا أبا مسعود الأنصاري في بيته فقلنا له: حدثنا عن صلاة رسول اللَّه ﷺ فقام يصلي بين أيدينا، فلما ركع وضع كفيه على ركبتيه وجعل أصابعه أسفل من ذلك، وجافى مرفقيه حتى استوى كل شيء منه، ثم رفع رأسه، ثم قال: سمع اللَّه لمن حمده، فقام حتى استوى كل شيء منه، ثم سجد ففعل مثل ذلك فصلى ركعتين فلما قضاهما قال: هكذا (رأيت) (٢) رسول اللَّه ﷺ يصلي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم براد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو مسعود کے گھر حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سکھا دیجئے۔ وہ ہمارے سامنے نماز کے لئے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے رکوع کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں سے نیچے رکھا۔ اپنی کہنیوں کو جسم سے اس طرح دور رکھا کہ جسم کا ہر عضو سیدھا ہوگیا۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا۔ پھر اس طرح کھڑے ہوئے کہ جسم کے ہر عضو میں اعتدال آگیا پھر سجدہ کیا اور سجدے میں بھی اسی طرح کیا۔ پھر آپ نے دو رکعات نماز پڑھیں۔ جب فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2991
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف، أبو الأحوص حدث عن عطاء بعد اختلاطه وقد توبع، أخرجه أحمد (١٧٠٧٦)، وأبو داود (٨٦٣)، والنسائي ٢/ ١٨٦، وابن خزيمة (٥٩٨)، والطبراني (١٧/ ٦٦٩)، والبيهقي ٢/ ١٢٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2991، ترقيم محمد عوامة 2979)
حدیث نمبر: 2992
٢٩٩٢ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: إن الرجل ليصلي ستين سنة ما تقبل له صلاة لعله يتم الركوع ولا يتم السجود، ويتم السجود ولا يتم الركوع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آدمی ساٹھ سال نماز پڑھتا رہتا ہے لیکن اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، کیونکہ کبھی وہ رکوع ٹھیک طرح کرتا ہے لیکن سجدہ ٹھیک نہیں کرتا اور کبھی سجدہ ٹھیک طرح کرتا ہے لیکن رکوع ٹھیک نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2992
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن، محمد بن عمرو بن علقمة صدوق، أخرج نحوه مسدد كما في المطالب (٥٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2992، ترقيم محمد عوامة 2980)
حدیث نمبر: 2993
٢٩٩٣ - حدثنا هشيم عن عبد الحميد بن جعفر الأنصاري عن محمد بن عمرو (١) ابن عطاء قال: رأيت أبا حميد الساعدي (٢) مع عشرة رهط من أصحاب رسول اللَّه ﷺ قال: فقال لهم: ألا أحدثكم عن رسول اللَّه ﷺ قالوا: هات. قال: رأيته إذا رفع رأسه من الركوع مكث قائما حتى يقع كل عظم (موضعه) (٣)، ثم ينحط ساجدا ويكبر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حمید ساعدی کو دس صحابہ کرام کے ساتھ دیکھا۔ حضرت ابو حمید نے کہا کہ میں تمہارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ نماز نہ بیان کروں ؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر ٹھہرتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ آجاتی پھر سجدے میں جاتے ہوئے جھکتے اور پھر تکبیر کہتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2993
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٨٢٨)، وأحمد (٢٣٥٩٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2993، ترقيم محمد عوامة 2981)
حدیث نمبر: 2994
٢٩٩٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر (و) (١) يزيد بن هارون عن حسين المعلم عن بديل عن أبي الجوزاء عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ إذا ركع لم يشخص رأسه ولم يصوبه ولكن بين ذلك، فإذا رفع رأسه من الركوع لم يسجد حتى يستوي قائما، وإذا سجد فرفع رأسه لم يسجد حتى يستوي جالسا، وكان يقول بين كل ركعتين التحية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو اپنے سر مبارک کو نہ کمر سے نیچا رکھتے اور نہ ہی اونچا بلکہ ان دونوں کی درمیانی کیفیت میں رکھتے۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدے میں نہ جاتے جب تک اعتدال سے کھڑے نہ ہوجاتے۔ اور جب سجدہ کرنے کے بعد سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک اطمینان سے بیٹھ نہ جاتے۔ آپ ہر دو رکعات کے بعد التحیہ پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2994
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٤٩٨)، وأحمد (٢٤٠٣٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2994، ترقيم محمد عوامة 2982)
حدیث نمبر: 2995
٢٩٩٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن حذيفة: أنه دخل المسجد فإذا رجل يصلي (من) (١) ناحية من أبواب كندة، فجعل لا يتم الركوع والسجود، فلما انصرف قال له حذيفة: [مذ كم هذه صلاتك؟ قال: مذ ⦗١٣٥⦘ (أربعين) (٢) سنة، فقال حذيفة] (٣): ما صليت (مذ) (٤) (أربعين) (٥) سنة، ولو مت وهذه صلاتك مت على غير الفطرة التي فطر عليها محمد ﷺ، ثم أقبل عليه يعلمه، فقال: إن الرجل ليخفف الصلاة ويتم الركوع والسجود (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ابوابِ کندہ کی طرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے لیکن رکوع سجدہ ٹھیک طرح نہیں کررہا۔ جب اس نے نماز مکمل کرلی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ تم ایسی نماز کتنے عرصے سے پڑھ رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ چالیس سال سے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے چالیس سال سے نماز نہیں پڑھی، اگر ایسی نماز پڑھتے ہوئے تمہارا انتقال ہوجاتا تو تم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے پر دنیا سے جاتے۔ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اسے نماز سکھانے لگے اور فرمایا کہ آدمی نماز میں تخفیف کرسکتا ہے لیکن رکوع اور سجود میں کمی نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2995
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2995، ترقيم محمد عوامة 2983)
حدیث نمبر: 2996
٢٩٩٦ - حدثنا هشيم قال: أنا يونس عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أسوأ الناس سرقة الذي يسرق صلاته، (قالوا) (١): يا رسول اللَّه وكيف يسرق صلاته؟ قال: لا يتم ركوعها ولا سجودها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد نے فرمایا کہ بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! نماز میں کیسے چوری کرسکتا ہے ؟ فرمایا کہ اس کا رکوع سجدہ اچھی طرح نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2996
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2996، ترقيم محمد عوامة 2984)
حدیث نمبر: 2997
٢٩٩٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي النضر (مسلم) (١) (قال) (٢): سمعت (حملة) (٣) بن عبد الرحمن (٤) قال: رأى عبادة رجلا لا يتم الركوع ولا السجود فأخذ بيده ففزع الرجل فقال (عبادة) (٥): لا تشبهوا بهذا ولا بأمثاله؛ إنه (لا تجزئ) (٦) (صلاة) (٧) إلا بأم الكتاب (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حملہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبادہ نے ایک آدمی کود یکھا جو رکوع اور سجود ٹھیک طرح نہیں کررہا تھا۔ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ آدمی ڈر گیا۔ حضرت عبادہ نے فرمایا کہ اس کی اور اس جیسوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ اور یاد رکھو کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2997
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2997، ترقيم محمد عوامة 2985)
حدیث نمبر: 2998
٢٩٩٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن ابن أبي عروبة عن القاسم بن عمرو عن أبي جعفر: أن النبي ﷺ رأى رجلا (ينكت) (١) برأسه في سجوده، (فقال) (٢): "لو مات هذا وهذه صلاته مات على غير ديني" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اس طرح سجدہ کررہا تھا جیسے زمین پر اپنا سر مارہا ہو، آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اگر یہ شخص اس نماز پر مرا تو اس کا انتقال میرے دین پر نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2998
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2998، ترقيم محمد عوامة 2986)
حدیث نمبر: 2999
٢٩٩٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن أبي يحيى عن أبيه: أبي أبا هريرة رأي امرأة تصلي وهي تنقر فقال: كذبت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یحییٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہنے ایک عورت کو دیکھا جو یوں نماز پڑھ رہی تھی جیسے مرغی چونچ مار رہی ہو۔ آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ تو جھوٹ بولتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2999
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو يحيى صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2999، ترقيم محمد عوامة 2987)
حدیث نمبر: 3000
٣٠٠٠ - حدثنا ابن مهدي عن قرة عن الحسن قال: رأى سعيد بن المسيب رجلا يصلي ولا يتم ركوعه ولا سجوده (فحصبه) (١) وقال: أغلقت صلاتك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع و سجود پوری طرح نہیں کررہا تھا، انہوں نے اسے ڈانٹا اور فرمایا کہ تو نے اپنی نماز کو تباہ کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3000
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3000، ترقيم محمد عوامة 2988)
حدیث نمبر: 3001
٣٠٠١ - حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش يقول: رأيت أنس بن مالك بمكة قائما يصلي عند الكعبة فما عرضت له، قال: فكان قائما يصلي معتدلا في صلاته فإذا رفع رأسه انتصب قائما حتى تستوي غضون بطنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو مکہ میں خانہ کعبہ کے پاس نما ز پڑھتے دیکھا، میں ان کے سامنے نہ آیا۔ وہ انتہائی اطمینان کے ساتھ نماز ادا فرما رہے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بالکل سیدھا کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ ان کے پیٹ کی رگیں بھی سیدھی ہوجاتیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3001
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3001، ترقيم محمد عوامة 2989)
حدیث نمبر: 3002
٣٠٠٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن أبي فروة عن ابن أبي ليلى قال: دخل المسجد رجل فصلى صلاة لا يتم ركوعها ولا سجودها، قال: فذكرت ذلك لعبد اللَّه بن يريد فقال: هي على ما فيها خير من تركها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ مسجد میں ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے اس طرح نماز پڑھی کہ رکوع و سجود ٹھیک طرح نہ کیا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ حضر ت عبد اللہ بن یزید سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے بہتر تھا کہ وہ نمازادا ہی نہ کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3002
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3002، ترقيم محمد عوامة 2990)
حدیث نمبر: 3003
٣٠٠٣ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن المسور بن مخرمة: أنه رأى رجلا لا يتم ركوعه ولا سجوده، فقال له: أعد. فأبى، فلم يدعه حتى أعاد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید کہتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع و سجدہ ٹھیک طرح نہ کررہا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھو۔ اس نے دوبارہ نماز پڑھنے سے انکار کیا۔ لیکن انہوں نے اسے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک اس نے دوبارہ نماز نہ پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3003
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال علي بن زبد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3003، ترقيم محمد عوامة 2991)
حدیث نمبر: 3004
٣٠٠٤ - حدثنا أبو معاوية عن موسى بن (مسلم) (١) قال: جاء رجل يصلي وطاوس جالس، فجعل لا يتم الركوع ولا السجود، فقال بعض القوم: ما لهذا صلاة، فقال طاوس: مه، يكتب له منها بقدر ما أدى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن مسلم کہتے ہیں کہ حضرت طاوس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور رکوع و سجود ٹھیک طرح نہیں کررہا تھا۔ ایک آدمی نے کہا کہ اس کی نماز نہیں ہے۔ حضرت طاوس نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ، جتنی نماز اس نے ادا کی ہے اس کا ثواب تو اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3004
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3004، ترقيم محمد عوامة 2992)
حدیث نمبر: 3005
٣٠٠٥ - حدثنا ابن فضيل عن مطرف عن يحيى بن عبيد عن عبد اللَّه بن يزيد: أنه سئل عن رجل لا يتم الركوع ولا السجود، فقال: هي خير من لا شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبید کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن یزید سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نماز میں رکوع و سجدہ ٹھیک طرح نہیں کرتا تو انہوں نے فرمایا کہ نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3005
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3005، ترقيم محمد عوامة 2993)
حدیث نمبر: 3006
٣٠٠٦ - حدثنا ابن فضيل عن عمرو (الملائي) (١) عن أبي قيس عن مسروق: أنه رأى رجلا [يصلي فأبصره رافعا رجليه وهو ساجد، فقال: ما تمت صلاة هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قیس کہتے ہیں کہ حضرت مسروق نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا اور سجدے میں اس نے اپنے پاؤں اٹھائے ہوئے تھے۔ حضرت مسروق نے فرمایا کہ اس کی نماز مکمل نہیں ہوئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3006
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3006، ترقيم محمد عوامة 2994)
حدیث نمبر: 3007
٣٠٠٧ - حدثنا وكيع عن عمران عن أبي مجلز: أنه رأى رجلا] (١) ساجدا قد رفع إحدى رجليه، فقال: جعلها اللَّه ستا، وجعلتَها خمسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران کہتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے ایک آدمی کو دیکھا کہ سجدے کی حالت میں اس نے اپنا ایک پاؤں اٹھایا ہوا تھا، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں چھ بنایا تھا اور تو نے انہیں پانچ کردیا !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3007
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3007، ترقيم محمد عوامة 2995)
حدیث نمبر: 3008
٣٠٠٨ - حدثنا ابن فضيل عن (عبد اللَّه) بن عبد الرحمن عن سالم بن أبي الجعد عن سلمان الفارسي قال: الصلاة مكيال، فمن أوفى أوفى اللَّه (له) (١)، وقد علمتم ما قال اللَّه في الكيل ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ [المطففين: ١] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ نماز ایک پیمانہ ہے، جس نے اسے پورا کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے بھی پورا بدلہ عطا فرمائیں گے اور تم جانتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے پیمانے کے بارے میں فرمایا ہے { وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ } ہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3008
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3008، ترقيم محمد عوامة 2996)
حدیث نمبر: 3009
٣٠٠٩ - حدثنا معاوية بن هشام قال: نا سفيان عن حجاج بن (فرافصة) (١) عمن (ذكره) (٢) عن أبي الدرداء: أنه مر برجل لا يتم الركوع ولا السجود (فقيل) (٣) ⦗١٣٨⦘ له، (فقال) (٤) أبو الدرداء: شيء خير من لا شيء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو الدرداء ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو رکوع و سجود ٹھیک طرح نہیں کررہا تھا۔ اس بارے میں حضرت ابو الدرداء سے کہا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3009
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3009، ترقيم محمد عوامة 2997)
حدیث نمبر: 3010
٣٠١٠ - حدثنا يحيى بن آدم عن مفضل بن مهلهل عن بيان عن قيس: أن بلالًا رأى رجلًا لا يتم الركوع ولا السجود، فقال: لو مات هذا (مات) (١) على غير ملة عيسى ابن مريم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس کہتے ہیں کہ حضرت بلال نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع و سجود ٹھیک طرح نہیں کررہا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر اس کا اس حالت پر انتقال ہوجائے تو یہ عیسیٰ ابن مریم کی ملت سے ہٹ کر مرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3010
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ ولا وجه لمن نفى سماع قيس من بلال فقد روى عن أبي بكر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3010، ترقيم محمد عوامة 2998)