کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2978
٢٩٧٨ - حدثنا حفص بن غياث عن ابن عون عن ابن سيرين عن أبي سعيد الخدري: أنه كان يصلي والمرأة تمر به يمينا وشمالا فلا يرى بذلك بأسا (١). - قال: وكان ابن سيرين إذا قامت بحذائه سبح بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور ان کے آگے سے کوئی عورت گذر جاتی تو وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور حضرت ابن سیرین کی عادت تھی کہ اگر کوئی عورت ان کے برابر آکر کھڑی ہوجاتی تو اسے ہٹانے کے لئے تسبیح پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2979
٢٩٧٩ - حدثنا هشيم قال: نا مغيرة عن إبراهيم: أنه كان لا يرى بأس [أن تمر المرأة (عن) (١) يمين الرجل وعن يساره وهو يصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ نماز پڑھتے ہوئے آدمی کے دائیں یا بائیں جانب سے کوئی عورت گذر جائے۔
حدیث نمبر: 2980
٢٩٨٠ - حدثنا حفص عن حجاج قال: سألت عطاء عنه فلم ير به بأسا، قال: وحدثني من سأل إبراهيم فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہ ہونے کا فتوی دیا جبکہ ابراہیم سے سوال کرنے والے شخص نے بتایا کہ وہ اسے مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2981
٢٩٨١ - حدثنا عباد بن العوام عن الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد قال: حدثتني (١) ميمونة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ (يصلي) (٢) وأنا (بحذائه) (٣) فربما أصابني ثوبه إذا سجد، وكان يصلي على (الخمرة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمونہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ کے برابر میں ہوتی تھی، اور بعض اوقات تو سجدے میں آپ کا کپڑا بھی میرے ساتھ لگ جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کی چھال کی بنی چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2982
٢٩٨٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن زهير عن أبي إسحاق قال: حدثني مصعب ابن سعد قال: كان حذاء قبلة سعد تابوت، وكانت الخادم تجيء (فتأخذ) (١) حاجتها عن يمينه وعن شماله لا تقطع صلاته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد کے قبلے کی جانب ایک الماری تھی، خادمہ ان کے دائیں اور بائیں جانب سے اپنی ضرورت کی چیز لینے کے لئے آیا کرتی تھی لیکن وہ اپنی نماز نہ توڑتے تھے۔
حدیث نمبر: 2983
٢٩٨٣ - حدثنا غندر عن عثمان بن غياث قال: سألت الحسن عن المرأة تمر يحنب الرجل وهو يصلي فقال: لا بأس (إلا) (١) أن (تعن) (٢) بين يديه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن غیاث فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی عورت اس کے پاس سے گذر جائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا اگر اس کے آگے سے نہ گذرے تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 2984
٢٩٨٤ - حدثنا هشيم عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كان يكره أن تصلي المرأة بحذاء الرجل إذا (كان يصلي) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ کوئی عورت نماز میں آدمی کے ساتھ کھڑی ہو۔