حدیث نمبر: 2856
٢٨٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن حميد عن بكر بن عبد اللَّه المزني قال: كان عمر يكره أن يسجد الرجل على العود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی لکڑی پر سجدہ کرے۔
حدیث نمبر: 2857
٢٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: دخل عبد اللَّه على أخيه عتبة يعوده فوجده على عود يصلي فطرحه، وقال: إن هذا شيء عرض به الشيطان، ضع وجهك على الأرض، فإن لم تستطع فأومئ إيماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ اپنے بھائی عتبہ کی عیادت کے لئے گئے، دیکھا کہ وہ لکڑی کے سہارے نماز پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے لکڑی کو اٹھا کر پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ چیز شیطان کی طرف سے پیدا کی گئی ہے۔ تم اپنے چہرے کو زمین پر رکھو اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اشارے سے نماز پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 2858
٢٨٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: سئل عن الصلاة على العود فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ محمد سے پوچھا گیا کہ کیا لکڑی پر نماز پڑھنا جائز ہے ؟ آپ نے اسے مکروہ خیال فرمایا۔
حدیث نمبر: 2859
٢٨٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن زكريا عن الشعبي قال: دخل ابن مسعود على أخيه عتبة وهو مريض وهو يسجد على سواك فرمى به، وقال: أومئ إيماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعوداپنے بھائی عتبہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، وہ ایک مسواک کی لکڑی پر سجدہ کررہے تھے، حضرت ابن مسعود نے اس لکڑی کو پھینک دیا اور فرمایا کہ اشارے سے نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 2860
٢٨٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (يزيد بن) (١) إبراهيم عن الحسن: أنه كره الصلاة على العود.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حسن لکڑی پر نماز پڑھنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔