کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک مریض کے لئے تکیہ پر سجدہ کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 2834
٢٨٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عيينة) (١) عن عمرو عن عطاء عاد ابن (عمر) (٢) صفوان فوجده يسجد على وسادة فنهاه، وقال: أومئ إيماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت صفوان کی عیادت کی، دیکھا کہ وہ تکیہ پر سجدہ کررہے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ صرف اشارہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2834
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٤١٣٧)، والبيهقي ٢/ ٣٠٦، والطبراني في الأوسط كما في مجمع الزوائد ٢/ ١٤٨، وأخرجه أحمد بن منيع مرفوعًا كما في المطالب (٥٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2834، ترقيم محمد عوامة 2823)
حدیث نمبر: 2835
٢٨٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن (أيوب) (١) عن محمد قال: السجود على الوسادة محدث.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ تکیہ پر سجدہ کرنا بدعت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2835
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2835، ترقيم محمد عوامة 2824)
حدیث نمبر: 2836
٢٨٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن داود بن أبي هند عن أبي حرب ابن أبي الأسود قال: اشتكى أبو الأسود الفالج فكان لا يسجد إلا ما (رفعنا) (١) له مرفقة يسجد عليها، فسألنا عن ذلك (فأرسلنا) (٢) إلى ابن عمر فقال: إن استطاع أن يسجد على الأرض وإلا (فيومئ) (٣) إيماءً (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرب بن ابی الاسود کہتے ہیں کہ ابو الاسود کو فالج لاحق ہوگیا، وہ ایک تکیہ پر سجدہ کیا کرتے تھے جو ہم ان کی طرف بلند کرتے۔ اس بارے میں ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر آدمی زمین پر سجدہ کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو ٹھیک ہے ورنہ صرف اشارہ سے کام چلا لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2836
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2836، ترقيم محمد عوامة 2825)