کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب امام سجدے کی حالت میں ہو اور آپ جماعت میں شریک ہونا چاہیں تو اس کے ساتھ سجدہ کرلیں
حدیث نمبر: 2624
٢٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا (جرير) (١) عن عبد العزيز بن رفيع عن رجل من أهل المدينة عن النبي ﷺ: أنه سمع خفق نعلي وهو ساجد، فلما فرغ من صلاته قال: "من هذا الذي سمعت خفق نعله" قال: أنا يا رسول اللَّه، قال: "فما صنعت؟ " قال: وجدتك ساجدا فسجدت، فقال: "هكذا فاصنعوا، (ولا تعتدوا) (٢) بها، من وجدني راكعا أو (قائمًا أو ساجدًا) (٣) فليكن معي على حالي التي أنا عليها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک مدنی صحابی روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے کی حالت میں میرے جوتوں کی آواز سنی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نے ابھی کس کے جوتوں کی آواز سنی تھی ؟ میں نے عرض کیا کہ میں تھا۔ آپ نے فرمایا پھر تم نے کیا کیا ؟ میں نے کہا کہ میں نے آپ کو سجدے کی حالت میں پایا اور آپ کے ساتھ میں نے بھی سجدہ کر لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کیا کرو اور اس رکعت کو شمار نہ کرو۔ جس شخص نے مجھے رکوع، سجدے یا قیام کی حالت میں پایا تو اسے چاہئے کہ میرے ساتھ اسی حالت میں شریک ہو جائے۔
حدیث نمبر: 2625
٢٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع عن رجل من الأنصاري عن النبي ﷺ بمثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2626
٢٦٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سالم عن ابن عمر وزيد بن ثابت (قالا) (١): إن وجدهم وقد رفعوا رؤوسهم من الركوع كبر وسجد ولم يعتد بها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص لوگوں کو اس حال میں پائے کہ وہ رکوع سے سر اٹھا چکے ہیں تو وہ اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کرے اور اس رکعت کو شمار نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2627
٢٦٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) هشيم عن يونس عن الحسن. - ومغيرة عن إبراهيم في الرجل ينتهي إلى الإمام وهو ساجد قالا: يتبعه ويسجد معه، ولا يخالفه، ولا يعتد بالسجود إلا أن يدرك الركوع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں جو امام کو سجدہ کی حالت میں پائے فرماتے ہیں کہ وہ اس کی اتباع کرے، اور اس کے ساتھ سجدہ کرے۔ امام کی مخالفت سے کام نہ لے۔ نیز سجدوں کی وجہ سے اس رکعت کو شمار نہ کرے ہاں البتہ اگر رکوع میں پا لے تو رکعت مل گئی۔
حدیث نمبر: 2628
٢٦٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) هشيم قال: (نا) (٢) مغيرة عن إبراهيم قال: على أي حال أدركت الإمام فلا تخالفه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ امام کو کسی بھی حالت میں پاؤ تو اس کی مخالفت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 2629
٢٦٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم قال: نا معتمر عن (سَلْمِ) (١) بن أبي الذيَّال عن قتادة قال: إذا أدركتهم وهم سجود فاسجد معهم ولا تعتد [بتلك الركعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اگر تم لوگوں کو سجود کی حالت میں پاؤ تو ان کے ساتھ سجدہ کر لو لیکن اس رکعت کو شمار نہ کرو۔
حدیث نمبر: 2630
٢٦٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي عدي عن داود عن الشعبي قال: إذا وجدتهم سجودا فاسجد معهم ولا تعتد] (١) بها. - وقال أبو العالية: اسجد معهم واعتد بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو سجود کی حالت میں پاؤ تو ان کے ساتھ سجدہ کر لو اور اس رکعت کو شمار نہ کرو۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ ان کے ساتھ سجدہ کرو اور اس رکعت کو شمار کرو۔
حدیث نمبر: 2631
٢٦٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: على أي حال وجدت الإمام فاصنع كما يصنع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ امام کو جس حالت میں بھی پاؤ تو اسی طرح کرو جس طرح وہ کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 2632
٢٦٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن الحسن بن عبيد اللَّه عن إبراهيم قال: على أي حال وجدت الإمام (١) فاصنع كما يصنع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ امام کو جس حالت میں بھی پاؤ تو اسی طرح کرو جس طرح وہ کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 2633
٢٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن أبي عدي عن ابن عون عن محمد قال: كان يستحب أن لا يدرك القوم على حال في الصلاة إلا دخل معهم فيها.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ آدمی لوگوں کو جماعت کے دوران جس حالت پر بھی پائے ان کے ساتھ شریک ہو جائے۔
حدیث نمبر: 2634
٢٦٣٤ - حدثنا أبو بكر قال. (نا) (١) ابن علية عن داود عن الشعبي في الرجل ينتهي إلى القوم وهم سجود قال: يسجد معهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اس شخص کے بارے میں جو لوگوں کو سجدے کی حالت میں پائے فرماتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ سجدہ کر لے۔
حدیث نمبر: 2635
٢٦٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) يزيد بن هارون (عن هشام) (٢) عن الحسن وابن سيرين قال: لا يقوم الرجل قائما منتصبا والقوم قد وضعوا رؤوسهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب لوگ اپنی پیشانیوں کو زمین پر رکھ چکے ہوں تو آدمی کو سیدھا کھڑے رہنا زیب نہیں دیتا۔
حدیث نمبر: 2636
٢٦٣٦ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه: أنه كان يكره (للرجل) (٢) إذا جاء والإمام ساجد أن يتمثل قائمًا حتى يتبعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ امام سجدہ کی حالت میں ہو اور آنے والا نمازی سیدھا کھڑا رہے۔ اس کو چاہئے کہ امام کی اتباع کرے۔
حدیث نمبر: 2637
٢٦٣٧ - حدثنا حماد بن خالد عن عبد الرحمن بن أبي الموال (١) عن (عمر) (٢) ابن أبي مسلم قال: كان عروة بن الزبير يقول: إذا جاء أحدكم والإمام ساجد فليسجد مع الناس ولا يعتد بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی شخص جماعت میں اس حال میں پہنچے کہ امام سجدے کی حالت میں ہو تو لوگوں کے ساتھ سجدہ کرے اور اس رکعت کو شمار نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2638
٢٦٣٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق (عن هبيرة) (١) عن علي قال: لا يعتد بالسجود إذا لم يدرك الركوع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہیں رکوع نہ ملے تو اس رکعت کو شمار نہ کرو۔
حدیث نمبر: 2639
٢٦٣٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص وهبيرة عن عبد اللَّه قال: إذا لم (يدرك) (١) الركوع (فلا يعتد) (٢) بالسجود (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب تمہیں رکوع نہ ملے تو اس رکعت کو شمار نہ کرو۔