کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 2566
٢٥٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: (نا هشيم) (١) نا هشام عن قيس بن سعد عن عطاء عن ابن عباس: أن النبي ﷺ كان إذا رفع رأسه من الركوع قال: "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ مِلْء السَّمَاوَاتِ، وَمِلْء الأَرْضِ، وَمِلْء مَا شِئْتَ مِنَ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلِ الثَّناءِ (وَالمْجَدِ) (٢)، لَا مَانِعَ لما أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفعُ ذَا الجْدِّ مِنْكَ الْجُدُّ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انہیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ تو تعریف اور بزرگی کا مالک ہے۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2566
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٤٧٨)، وأحمد (٢٤٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2566، ترقيم محمد عوامة 2559)
حدیث نمبر: 2567
٢٥٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية (ووكيع) (١) عن الأعمش عن (عبيد) (٢) بن الحسن عن ابن أبي أوفى: أن النبي ﷺ كان إذا رفع رأسه من الركوع ⦗٤٤⦘ قال: "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحْمَدُ مِلْء السَّمَاوَاتِ، وَمِلْء الأَرْضِ، وَمِلْء مَا شِئْتَ مِنْ شَيْء (بَعَدُ) " (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انہیں بھر کر تیری تعریف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2567
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٤٧٦)، وأحمد (١٩٤٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2567، ترقيم محمد عوامة 2560)
حدیث نمبر: 2568
٢٥٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم قال: نا يزيد بن أبي زياد قال: نا أبو جحيفة عن عبد اللَّه: أنه كان يقول: إذا رفع الإمام رأسه من الركوع قال: اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات، وملء الأرض، وملء ما شئت من شيء بعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ جب امام رکوع سے سر اٹھاتا تو حضرت عبداللہ یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انہیں بھر کر تیری تعریف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2568
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال يزيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2568، ترقيم محمد عوامة 2561)
حدیث نمبر: 2569
٢٥٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث قال: كان علي إذا رفع رأسه من الركوع قال: سمع اللَّه لمن حمده، اللهم ربنا لك الحمد، بحولك وقوتك أقوم وأقعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہتے : اللہ نے سن لیا اس کو جس نے اللہ کی تعریف کی، اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! سب تعریفیں تیرے لئے ہیں، تیری طرف سے عطا کردہ قوت اور تیری طرف سے عنایت کردہ طاقت کی بنا پر میں اٹھتا اور بیٹھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2569
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال الحارث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2569، ترقيم محمد عوامة 2562)
حدیث نمبر: 2570
٢٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم قال: أخبرنا حصين عن هلال بن يساف عن أبي عبيدة بن (عبد اللَّه) (١) قال: حدثنا قزعة: أن النبي ﷺ كان إذا رفع رأسه من الركوع قال: "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمَلء مَا شِئْتَ مِنْ شَيْء بَعْدُ، لَا مَانِعَ لماَ أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لماَ مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذا الجَدِّ مِنْكَ الجدُّ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قزعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انہیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ تو تعریف اور بزرگی کا مالک ہے۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2570
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، وفي النفس من هذا الإسناد شيء، وقد روى نحوه مسلم (٤٧٧)، وأحمد (١١٨٢٨) من حديث عطية بن قيس بن قزعة عن أبي سعيد مرفوعًا، وروى مسلم (٤٧١)، وأحمد (١٨٥٢١) عن الحكم: أن أبا عبيدة بن عبد اللَّه كان إذا رفع رأسه من الركوع قام قدر قوله لهذا الدعاء.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2570، ترقيم محمد عوامة 2563)
حدیث نمبر: 2571
٢٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي بكير عن (شريك) (١) عن (أبي عمر) (٢) عن (أبي جحيفة) (٣): أن النبي ﷺ (قام) (٤) في الصلاة فلما رفع رأسه من الركوع قال: "سَمِعَ اللَّهُ لمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ ربَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ، وَمِلْءَ الأَرْض، وَمِلْءَ مَا شئْتَ مِنْ شَيْء (بَعْدُ) (٥)، لَا مَانِعَ لِمَا أعطيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنفَع ذا الجَدِّ مِنْكَ الْجَدَّ". يمد بها صوته (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے : اللہ نے سن لیا اس کو جس نے اللہ کی تعریف کی، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انہیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ کلمات کہتے ہوئے آپ آواز بلند کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2571
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2571، ترقيم محمد عوامة 2564)
حدیث نمبر: 2572
٢٥٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة: أنه كان (١) إذا رفع رأسه قال: اللهم ربنا لك الحمد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! اے ہمارے رب ! سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2572
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2572، ترقيم محمد عوامة 2565)
حدیث نمبر: 2573
٢٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن برد: أن (مكحولا) (١) كان يقول إذا رفع رأسه من الركوع: اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء، وملء الأرض، وملء ما شئت من شيء بعد، أهل الثناء (والمجد) (٢)، وخير ما قال العبد، وكلنا لك عبد، لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انہیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ تو تعریف اور بزرگی کا مالک ہے۔ اور تیری تعریف ان بہترین کلمات کے ساتھ جب بندے کہتے ہیں اور ہم سب تیرے بندے ہیں۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2573
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2573، ترقيم محمد عوامة 2566)
حدیث نمبر: 2574
٢٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا سويد بن عمرو (الكلبي) (١) قال: أنا عبد العزيز ابن أبي سلمة قال: أخبرنا الماجشون عمي عن الأعرج عن عبيد اللَّه بن أبي رافع عن علي قال: كان النبي ﷺ إذا رفع رأسه من الركوع قال: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، (اللهم) (٢) ربَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنَ شَيْء بَعْدُ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے یہ کلمات فرمایا کرتے تھے : اللہ تعالیٰ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انہیں بھر کر تیری تعریف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2574
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٧٧١)، وأحمد (٧٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2574، ترقيم محمد عوامة 2567)
حدیث نمبر: 2575
٢٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير وأبو معاوية عن الأعمش عن سعد ابن عبيدة عن المستورد بن الأحنف عن صلة بن زفر عن حذيفة قال: صليت مع النبي ﷺ فكان ركوعه نحوا من قيامه، ثم قال: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثم قام طويلًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ کا رکوع آپ کے قیام کے برابر ہوا کرتا تھا، پھر آپ یہ کلمات فرماتے : اللہ تعالیٰ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی۔ پھر آپ کافی دیر تک کھڑے رہتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2575
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٧٧٢)، وأحمد (٢٣٢٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2575، ترقيم محمد عوامة 2568)
حدیث نمبر: 2576
٢٥٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يعلى قال: نا الأعمش عن إبراهيم عن الأسود قال: كان عمر إذا رفع رأسه من الركوع قال: سمع اللَّه لمن حمده قبل أن يقيم ظهره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے یہ کلمات کہتے : اللہ تعالیٰ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2576
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2576، ترقيم محمد عوامة 2569)
حدیث نمبر: 2577
٢٥٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر عن أيوب عن الأعرج قال: سمعت أبا هريرة يرفع صوته باللهم ربنا ولك الحمد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعرج فرماتے ہیں کہ حضر ت ابوہریرہ بلند آواز سے یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2577
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2577، ترقيم محمد عوامة 2570)