کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عورت نماز شروع کرتے وقت ہاتھوں کو کہاں تک اٹھائے گی ؟
حدیث نمبر: 2492
٢٤٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن عبد ربه بن زيتون قال: (رأيت) (١) أم (الدرداء) (٢) ترفع (يديها) (٣) حذو منكبيها حين تفتتح الصلاة، فإذا قال الإمام: سمع اللَّه لمن حمده رفعت (يديها) (٤) (وقالت) (٥): اللهم ربنا لك الحمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدربہ بن زیتون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام الدرداء کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت کندھوں تک ہاتھ اٹھائے۔ جب امام سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتا تو وہ نماز میں رفع یدین کرتیں اور ساتھ اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2492
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2492، ترقيم محمد عوامة 2485)
حدیث نمبر: 2493
٢٤٩٣ - حدثنا هشيم قال: أنا شيخ لنا قال: سمعت عطاء سئل عن المرأة كيف ترفع يديها في الصلاة؟ قال: حذو (ثدييها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا سے سوال کیا گیا کہ عورت نماز میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے ؟ فرمایا چھاتی کے برابر تک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2493
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2493، ترقيم محمد عوامة 2486)
حدیث نمبر: 2494
٢٤٩٤ - حدثنا (رواد) (١) بن الجراح عن الأوزاعي عن الزهري قال: ترفع (المرأة) (٢) يديها حذو منكبيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ عورت اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2494
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2494، ترقيم محمد عوامة 2487)
حدیث نمبر: 2495
٢٤٩٥ - حدثنا خالد بن حيان عن عيسى بن كثير عن حماد: أنه كان يقول في المرأة: إذا استفتحت الصلاة ترفع يديها إلى (ثدييها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرمایا کرتے تھے کہ عورت نماز شروع کرتے وقت ہاتھوں کو چھاتی تک اٹھائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2495
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2495، ترقيم محمد عوامة 2488)
حدیث نمبر: 2496
٢٤٩٦ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: قلت لعطاء: تشير المرأة بيديها بالتكبير كالرجل؟ قال: لا ترفع بذلك يديها كالرجل، وأشار فخفض يديه ⦗٢٨⦘ (جدًا) (٢) وجمعهما إليه (جدًا) (٣)، وقال: إن للمرأة هيئة ليست (للرجال) (٤)، وإن تركت ذلك فلا حرج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا عورت نماز میں تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت مرد کی طرح اشارہ کرے گی ؟ فرمایا کہ وہ مرد کی طرح اشارہ نہیں کرے گی۔ بلکہ وہ اپنے ہاتھوں کو بہت نیچا رکھے گی اور اپنے ساتھ جوڑ کر رکھے گی۔ حضرت عطاء نے یہ بھی فرمایا کہ عورتوں کا جسم مردوں جیسا نہیں ہوتا، اگر وہ اسے چھوڑ بھی دے تو کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2496
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2496، ترقيم محمد عوامة 2489)
حدیث نمبر: 2497
٢٤٩٧ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثني يحيى بن ميمون قال: حدثني عاصم الأحول قال: رأيت حفصة بنت (سيرين) (١) كبَّرت في الصلاة وأومأت حذو ثدييها، ووصف يحيى فرفع يديه (جميعًا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم احول فرماتے ہیں کہ میں نے حفصہ بنت سیرین کو دیکھا کہ انہوں نے نماز میں تکبیر کہی اور ہاتھوں کو چھاتی تک بلند کیا۔ یحییٰ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2497
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2497، ترقيم محمد عوامة 2490)