مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
في (الذي) خلف الصف وحده باب: جو آدمی صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 6018
٦٠١٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن هلال بن يساف قال: أخذ بيدي (زياد) (٢) بن أبي الجعد (فأوقفني) (٣) على شيخ ⦗٢٦٨⦘ (بالرقة) (٤) يقال له وابصة (٥) بن معبد (٦) فقال: صلى رجل خلف الصف وحده (فأمره) (٧) النبي ﷺ (أن يعيد) (٨) (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی جعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رقہ میں ایک بوڑھے صاحب کے پاس لا کھڑا کیا جن کا نام وابصہ بن معبد تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نے صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔
حواشی
(١) في [جـ]: (نا).
(٢) في [أ]: (هلال).
(٣) في [هـ]: (وأوقفني).
(٤) في [أ]: (بالزقة).
(٥) في [أ]: (وابضه).
(٦) في [هـ]: (معيد).
(٧) في [أ، ز]: (أمره)
(٨) سقط من: [جـ].