مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
في العيدين يجتمعان يجزئ أحدهما (من) (الآخر) باب: اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آجا ئیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 5973
٥٩٧٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن إسرائيل عن عثمان الثقفي عن (ابن) (١) أبي رملة الشامي قال: شهدت معاوية يسأل زيد بن أرقم هل شهدت مع رسول اللَّه ﷺ عيدين اجتمعا قال: نعم. قال: فكيف صنع؟ قال: صلى العيد ثم رخص في الجمعة قال: "من شاء أن يصلي فليصل" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی رملہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا دن گذارا جس میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آئے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ حضرت معاویہ نے پوچھا کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا عمل تھا۔ حضرت زید نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی اور جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا کہ جس کا دِل چاہے پڑھ لے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، هـ، ك].