مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
القوم يصلون في المسجد، كم يصلون؟ باب: جو حضرات عید گاہ میں جانے کے بجائے مسجد میں نماز پڑھنا چاہیں وہ کتنی رکعات پڑھیں گے؟
حدیث نمبر: 5939
٥٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ليث عن الحكم عن حنش قال: قيل (لعلي بن أبي طالب) (١) إن ضعفة من ضعفة الناس لا يستطيعون الخروج إلى (الجبانة) (٢) فأمّر رجلا (أن) (٣) يصلي بالناس أربع ركعات: ركعتين للعيد وركعتين لمكان خروجهم إلى الجبانة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے سوال کیا گیا کہ کچھ کمزور لوگ عید گاہ میں جا کر نماز نہیں پڑھ سکتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو چار رکعات پڑھائیں، دو رکعات نماز عید کے لئے اور دو رکعات عید گاہ میں نہ جانے کے بدلے میں۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ز].
(٢) في [ك]: (الجنانة).
(٣) زيادة: في [أ، ب، ك]: (أن).