مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
في التكبير في العيدين واختلافهم فيه باب: عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
٥٨٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن (المسعودي) (١) عن (معبد) (٢) بن خالد عن كردوس قال: قدم سعيد بن العاص في ذي الحجة فأرسل إلى عبد اللَّه وحذيفة وأبي مسعود الأنصاري وأبي موسى الأشعري فسألهم عن التكبير (في العيد) (٣) فأسندوا أمرهم إلى عبد اللَّه فقال عبد اللَّه: [(يقوم) (٤) (فيكبر) (٥) ثم (يكبر) (٦) ثم يكبر (ثم يكبر) (٧) فيقرأ ثم (يكبر) (٨) و (يركع) (٩)] (١٠) ويقوم فيقرأ ثم (يكبر) (١١) ثم ⦗٢٢٨⦘ (يكبر) (١٢) ثم (يكبر) (١٣) (ثم يكبر) (١٤) الرابعة ثم يركع (١٥) (١٦).کردوس فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عاص نے ماہ ذوالحجہ کے شروع میں حضرت عبد اللہ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو مسعود انصاری اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بلایا اور ان سے عید کی تکبیرات کے بارے میں سوال کیا، سب نے یہ معاملہ حضرت عبداللہ کے سپرد کردیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم حالت قیام میں تکبیر کہو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہہ کر قرائت کرو، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرو، پھر اگلی رکعت مں ا اٹھ کر قرائت کرو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہو، پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاؤ۔