مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
من رخص أن يخطب قبل الصلاة باب: جن حضرات کے نزدیک نماز سے پہلے خطبہ دینے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 5806
٥٨٠٦ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن يوسف بن عبد اللَّه بن سلام قال: كان الناس يبدؤون بالصلاة ثم يثنون بالخطبة حتى إذا كان عمر وكثر الناس في زمانه فكان إذا ذهب (ليخطب) (١) ذهب (جفاة) (٢) الناس فلما رأى ذلك عمر بدأ بالخطبة حتى ختم بالصلاة (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں کہ لوگ پہلے عید کی نماز پڑھتے پھر خطبہ دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب حضرت عمر کا زمانہ آیا اور لوگ زیادہ ہوگئے۔ جب وہ خطبہ دینے لگتے تو ادھر ادھر کے لوگ کھسک جاتے۔ جب حضرت عمر نے یہ صورتحال دیکھی تو پہلے خطبہ دیتے پھر نماز پڑھاتے۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (يخطب).
(٢) في [أ]: (جفاء)، وفي [ط، هـ]: (حفاة).