مصنف ابن ابي شيبه
أول العيدين
من قال: الصلاة يوم العيد قبل الخطبة باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ عید کا خطبہ نماز کے بعد ہوگا
حدیث نمبر: 5804
٥٨٠٤ - حدثنا كثير (بن) (١) هشام عن جعفر بن برقان عن أبي حمزة مولى يزيد بن المهلب أن مطر بن ناجية (٢) سأل سعيد بن جبير عن الصلاة يوم الأضحى ويوم الفطر (فأمره) (٣) أن يصلي قبل الخطبة فاستنكر الناس ذلك فقال سعيد: هي واللَّه معروفة (هي واللَّه معروفة) (٤).مولانا محمد اویس سرور
مطر بن ناجیہ نے حضرت سعید بن جبیر سے عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز کا طریقہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ خطبے سے پہلے نماز پڑھائیں۔ اس بات کو لوگوں نے ناگوار محسوس کیا تو حضرت سعید نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! یہی نیکی ہے، خدا کی قسم ! یہی نیکی ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (عن).
(٢) في [أ]: (ناحية)، وفي [ك]: (ناخية).
(٣) في [ط، هـ]: (فأمر).
(٤) سقط من: [أ].