حدیث نمبر: 5633
٥٦٣٣ - حدثنا شبابة قال حدثنا ابن أبي ذئب عن المقبري عن أبيه عن عبد اللَّه ابن (١) وديعة عن سلمان الخير (٢) أن النبي ﷺ قال: "لا يغتسلُ (رجلُ) (٣) يومَ الجمعةِ (ويتطهَّرُ) (٤) بما استطاعَ مِنْ طُهُورِهِ وادَّهَنَ من دهنهِ أَوْ مَسَّ طيِبًا مِنْ بَيْتِهِ ثمَّ رَاحَ فلَمْ يفرِّقْ بين اثْنَيْنِ ثُمَّ صلى مَا كَتَبَ (اللَّهُ) (٥) لَهُ ثمَّ أنصَتَ إذا تكلَّمَ الإمامُ إلَّا غَفَرَ لهُ ما بينَهُ وبين الجُمُعَةِ الأُخْرَى" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا اور غسل میں خوب صفائی حاصل کرنے کی کوشش کی، پھر تیل لگایا، پھر اپنے گھر سے خوشبو لگائی، پھر جمعہ کے لئے اس طرح گیا کہ دو آدمیوں کے درمیان انہیں چیر کر نہ بیٹھا، پھر فرض نماز ادا کی، پھر امام کے خطبے کے دوران خاموش رہا تو اس کے پچھلے جمعہ تک کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
حواشی
(١) زيادة: في [أ] (أبي).
(٢) في [أ]: (الحر)، وفي [ط، هـ]: (الرجل).
(٣) في [أ، جـ، ز]: (رجل).
(٤) في [أ، جـ، ز]: (يتطاهر).
(٥) سقط من: [أ].