حدیث نمبر: 5630
٥٦٣٠ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن ليث عن عثمان عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أتاني جبريلُ وفي يدِهِ كالمرآةِ البيضاءِ فيها ⦗١٧٩⦘ (كالنَّكْتَةِ) (١) السوداءِ فقلت: يا جبريل (ما هذه) (٢)؟ قال: (هذه) (٣) الجمعة، قال: قلت: وما الجمعة؟ قال: لكم فيها خير، قال: قلتُ: وما لنا فيها؟ قال: (تكون) (٤) عيدًا لَكَ ولِقَوْمِكَ مِنْ بعدِكَ ويكُونُ اليهودَ والنصارَى تَبَعًا لَكَ، قال: قلت: (وما لنا فيها؟ قال: لَكُمْ فيهَا ساعةٌ لا يوافقها عبدٌ مسلمٌ يسألُ اللَّهَ فيها شيئًا من) (٥) الدنيا والآخرةِ هو لَهَ قَسَم إلا أعطاهُ إِيَّاهُ أو ليس (له) (٦) بقسمٍ إلا (ادَّخرَ) (٧) لَه (عندهُ) (٨) ما هو أَفْضَلُ منه أو يَتَعَوَّذُ (لِهِ مِنْ شَرٍّ) (٩) هو عليه مكتوبٌ إلا صَرف عنهُ مِنَ البَلَاءِ ما هو أعظمُ منه قَالَ: قلتُ (له) (١٠): وما هَذهِ النُّكْتَةُ فِيهَا؟ قَالَ هِيَ السَّاعَةُ (و) (١١) هي تقوم يوم الجُمُعَةِ وهو عندَنَا سِّيدُ الأَيَامِ ونحنُ ندعُوهُ يومَ القيامةِ (١٢) يوم المزِيدِ قَالَ: قلتُ: ممَّ (ذَاكَ) (١٣)؟ قال: لأن رَبَّكَ ﵎ اتَّخَذَ في الجنَّةِ وَادِيا مِنْ مِسْكٍ أبيضَ فإذا كان يومُ الجمعةِ هَبَطَ من علِّيِّينَ علَى كرسِيِّه ﵎، ثُمَّ ⦗١٨٠⦘ (حَفَّ) (١٤) الكُرْسِيَّ بمَنَابرَ [مِنْ نورٍ ثمَّ يجيءُ النَّبِيُّونَ حَتَّى يجْلسُوا عَلَيْهَا ثُمَّ حَفَّ المنَابِرَ بِكَرَاسِيَّ] (١٥) مِنْ ذَهَبٍ مُكَلَّلَةٍ بالجَوَاهِرِ ثُمَّ (جَاءَ الصِّدِّيقُونَ والشُّهَدَاءُ) (١٦) حَتَّى (يَجْلِسُوا) (١٧) عَلَيْهَا وَيَنْزِلُ أَهْلُ الْغُرَفِ حَتَّى (يجلسُوا) (١٨) على ذَلِكَ الكَثِيبِ ثُمَّ يَتَجَلَّى لَهُمْ رَبُّكَ (١٩) (تَبَارَكَ) (٢٠) وَتَعَالَى ثُمَّ يَقُولُ: سَلُونِي أُعْطِكُمْ قَالَ: فَيَسْأَلُونَهُ الرِّضَى فَيَقُولُ: (رِضَائِي) أُحِلِّكُمْ داري (وأنَالكُمْ كرامتي) (٢١) فَسَلُونِي أُعُطِكُمْ قال: فيسألونَهُ (الرِّضَى) (٢٢) قَالَ: فيُشْهِدُهُمْ أنَّهُ قدْ رَضِيَ عَنْهُمْ، قَالَ: فيفتحُ لهم ما لَمْ تَرَ عَيْنٌ ولَمْ (تَسْمَعْ) (٢٣) أُذُنٌ (ولم) (٢٤) يَخْطُرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ قَالَ: وذلِكُمْ (٢٥) مِقْدَارُ انْصِرَافِكُمْ مِنْ يوم الجُمُعَةِ (قَالَ: ثُمَّ) (٢٦) يرتفعُ ويرتفعُ معَهُ النبيُّونَ والصِّدِّيقُونَ والشهداءُ ويرجعُ أهلُ الغُرَفِ إلى غُرَفِهَم وهِيَ دُرَّةٌ بيضاءُ ليسَ فيهَا فصْمٌ ولا ⦗١٨١⦘ (قَصْمٌ) (٢٧) أوْ دُرَّةٌ حمْرَاءُ أو (زَبْرُجَدَةٌ) (٢٨) خضراءُ فيهَا غُرَفُهَا وأبوابُهَا (مطرُوزَةٌ) (٢٩)، وفيهَا أنْهَارُهَا (مُتَدَلِّيَة فِيهَا ثِمَارُهَا) (٣٠) قَالَ: فَلَيْسُوا إِلَى شَيْءٍ أَحْوَجَ مِنْهُمْ إِلَى يومِ الجمعةِ ليزدَادُوا إلى ربِّهم نظرًا وليزدَادُوا مِنْهُ كَرامَةً" (٣١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل میرے پاس آئے، ان کے پاس سفید آئینے جیسی کوئی چیز تھی جس میں ایک سیاہ نکتہ تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے جبریل ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ جمعہ ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جمعہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے اس میں خیر ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس میں ہمارے لئے کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے لئے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے عید کا دن ہے۔ یہودی اور عیسائی اس میں تمہارے تابع ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس میں ہمارے لئے کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں تمہارے لئے ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں آدمی اللہ سے دنیا وآخرت کی جو بھی چیز مانگتا ہے اسے عطا کی جاتی ہے۔ اگر وہ چیز اس کے نصیب میں نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے افضل چیز اس کے نصیب میں لکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر وہ کسی چیز سے پناہ مانگتا ہے اور وہ اس کے نصیب میں لکھا جاچکا ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے بڑے شر سے اس کو نجات عطا فرمادیتے ہیں۔ میں نے حضرت جبریل سے پوچھا کہ اس آئینے میں یہ نکتہ کیسا ہے ؟ حضرت جبریل نے بتایا کہ یہ وہی ساعت قبولیت ہے جو جمعہ کے دن قائم ہوتی ہے۔ ہم جمعہ کے دن کو قیامت کے دن ” یوم المزید “ کہیں گے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اسے یوم المزید کس وجہ سے کہا جائے گا ؟ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ جنت میں سفید مشک کی ایک وادی بنائیں گے، پھر جمعہ کے دن علیین سے اتر کر اپنی کرسی پر تشریف رکھیں گے، پھر کرسی کے اردگرد سونے کے ایسے منبر ہوں گے جنہیں جواہر سے مزین کیا گیا ہوگا۔ پھر انبیاء کرام آئیں گے اور ان منبروں پر بیٹھیں گے۔ پھر جنت کے کمروں والے لوگ نکلیں گے اور خوشبو کے ٹیلوں پر بیٹھے گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور کہے گا کہ تم مجھ سے جو چاہو گے تمہیں عطا کیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی رضا طلب کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تمہارے لئے میری رضا کی علامت یہ ہے کہ میں نے تمہیں اپنے گھر میں مقیم کردیا اور اپنی مہمان نوازی عطا کردی۔ تم مجھ سے کچھ اور مانگو ، میں تمہیں عطا کروں گا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی رضا مانگیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں گواہ بنائیں گے کہ وہ ان سے راضی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسی نعمتوں کو کھولیں گے جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر ان کا خیال تک نہیں گذرا۔ اور اس کا دورانیہ تمہاری جمعہ کے دن سے واپسی کی مقدار ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ تشریف لے جائیں گے اور ان کے ساتھ انبیاء، صدیقین اور شہداء بھی چلے جائیں گے۔ کمروں میں رہنے والے لوگ بھی اپنے کمروں میں چلے جائیں گے، وہ کمرے ایسے سفید موتی کے بنے ہوں گے جس میں نہ کوئی جوڑ ہوگا اور نہ کوئی شگاف۔ یا وہ سرخ موتی کے ہوں گے۔ یا سبز زبرجد کے۔ اس میں اس کے اپنے کمرے بھی ہوں گے۔ اس کے دروازے کھلے ہوں گے اور ان میں نہریں جاری ہوں گے، اس کے پھلوں کے خوشے لٹکے ہوں گے۔ اہل جنت جنت کی کسی چیز کے اس سے زیادہ خواہشمند نہیں ہوں گے کہ وہ اپنے رب کو زیادہ سے زیادہ دیکھیں اور اس کے اکرام سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔

حواشی
(١) في [أ]: (كالنكثة).
(٢) في [جـ]: (بهذه).
(٣) في [أ، جـ، ز]: زيادة.
(٤) في [ط، هـ]: (يكون).
(٥) غير واضحة في [هـ].
(٦) زيادة: في [أ، ز، جـ] (له).
(٧) في [جـ، ز]: (دخر).
(٨) في [أ]: (عند اللَّه).
(٩) في [أ]: (من شيء).
(١٠) سقط من: [أ].
(١١) زيادة في [أ، جـ، ز]: (و).
(١٢) زيادة في [هـ، جـ]: (واو)
(١٣) ورد في [أ]: (ذلك).
(١٤) في [أ]: (خف).
(١٥) سقط من: [أ، جـ، ز، هـ].
(١٦) في [أ، جـ، ز، هـ] (يجيء النبيون).
(١٧) في [أ، ز]: (يجلسون).
(١٨) في [أ، ز]: (يجلسون).
(١٩) في [أ، جـ، ز]: (ربهم).
(٢٠) سقط من: [هـ].
(٢١) في [أ، جـ]: (وأنيلكم كرامتي)، وفي [هـ]: (وأنيلكم كراسي)، وفي [أ]: (وأين لكم كرامتي).
(٢٢) سقط من: [هـ].
(٢٣) في [هـ]: (يسمع).
(٢٤) في [ط، هـ]: (ولا).
(٢٥) في [أ]: زيادة (على).
(٢٦) في [س، ط، هـ]: (ثم قال).
(٢٧) في [جـ]: (فصم).
(٢٨) في [أ]: (زبر جدو).
(٢٩) في [هـ]: (مطرزة)، وفي [س]: (مطردة).
(٣٠) في [أ]: (وأثمارها متدلية)، وفي [جـ، ز، هـ] (وثمارها متدلية).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5630
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف، لضعف ليث بن أبي سليم وعثمان بن عُمير البجلي، أخرجه البخاري في التاريخ ٦/ ٢٤٥، وأبو يعلى (٤٠٨٩)، وابن أبي حاتم في التفسير ٤/ ١٢٥٦ (٧٠٧٠) و ٦/ ١٨٦٩ (١٠٣٠٧)، وابن جرير ٢٦/ ١٧٥، والطبراني في الأوسط (٢٠٨٤)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢٦٣، والخطيب في الموضح ٢/ ٢٩٤، والدارقطني في الرؤية (٦٩)، والآجري في الشريعة (٦١٢)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (٤٦٠)، ومحمد بن عثمان بن أبي شيبة في العرش (٨٨)، وابن بطة في الإبانة ٣/ ٢٨، والدارمي في الرد على الجهمية (١٤٥)، وابن منده (٩٢)، والضياء في المختارة ٦/ (٢٢٩١)، والحارث (١٩٦ /بغية)، والعقيلي في الضعفاء ١/ ٢٩٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5630، ترقيم محمد عوامة 5560)