حدیث نمبر: 5629
٥٦٢٩ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: حدثنا زهير بن محمد عن عبد اللَّه بن محمد عن عبد الرحمن بن يزيد عن أبي (لبابة) (٢) بن عبد المنذر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن يوم الجمعة سيد الأيام وأعظمها عند اللَّه (وأعظم عند اللَّه) (٣) من يوم الأضحى ويوم الفطر، فيه خمس خلال: خلق اللَّه فيه آدم واهبط (اللَّه) (٤) فيه آدم وفيه توفَّى اللَّه آدم وفيه ساعة لا يسأل اللَّهَ العبدُ فيها شيئا إلا أعطاه إياه ما لم يسأل حراما وفيه تقوم الساعة، ما من ملك مقرب ولا أرض ولا سماءٍ ولا رياحٍ ولا جبالٍ ولا بحر إلَّا (وهن مُشْفِقُونَ) (٥) من يومِ الجمعةِ" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کا دن دنوں کا سردار اور اللہ کے نزدیک سب سے افضل دن ہے۔ یہ دن اللہ کے نزدیک عید الفطر اور عید الاضحی سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس دن میں پانچ خوبیاں ہیں : اس میں آدم کو پیدا کیا گیا اس میں آدم کو زمین پر اتار گیا اس میں آدم کی وفات ہوئی جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے وہ اسے دے دی جاتی ہے، اگر حرام کا سوال نہ کرے اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ زمین و آسمان، ہواؤ ں، پہاڑوں اور سمندروں میں کوئی ایسا مقرب فرشتہ نہیں جو جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ز]: (بكر).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) زيادة: في [أ، جـ، ز] (أعظم عند اللَّه).
(٤) سقط من: [أ].
(٥) في [أ، ز]: (إلا هن مشفقين)، وفي [جـ]: (إلا هن مشفقون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5629
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عبد اللَّه بن محمد هو ابن عقيل ضعيف، أخرجه أحمد (١٥٥٤٨)، وابن ماجة (١٠٨٤)، والطبراني (٤٥١١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٦٦، والبيهقي في شعبة الإيمان (٢٩٧٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5629، ترقيم محمد عوامة 5559)