مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
الجمعة يؤخرها الإمام حتى يذهب وقتها باب: اگر امام جمعه کو اتنا مؤخر کر دے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 5602
٥٦٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد عن الزبرقان قال: قلت لشقيق إن الحجاج (يميت) (١) الجمعة قال: (تكتم) (٢) (عليّ) (٣) (قال) (٤) قلت: نعم قال: صلّها في بيتك لوقتها ولا تدع الجماعة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے شقیق سے کہا کہ حجاج ہمارا جمعہ ضائع کرادیتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم راز رکھو تو تمہیں ایک بات کہوں ؟ میں نے کہا ہاں راز رکھوں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ نماز کو اس کے وقت میں گھر میں پڑھ لیا کرو اور اسے جماعت کے لئے نہ چھوڑو۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (يجيب).
(٢) في [أ]: (يكتم).
(٣) زيادة: في [أ، جـ، ز] (علي).
(٤) سقط من: [أ، جـ، ز].