مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
الجمعة يؤخرها الإمام حتى يذهب وقتها باب: اگر امام جمعه کو اتنا مؤخر کر دے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 5598
٥٥٩٨ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن إبراهيم بن مهاجر قال: (كان) (١) الحجاج يؤخر الجمعة فكنت (أصلي أنا) (٢) وإبراهيم وسعيد بن جبير (نصلي) (٣) الظهر ثم نتحدث وهو يخطب ثم نصلي معهم ثم نجعلها نافلة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حجاج جمعہ کی نماز کو بہت مؤخر کیا کرتا تھا، اس وجہ سے میں، حضرت ابراہیم اور حضرت سعید بن جبیر ظہر کی نماز پڑھ لیتے تھے اور اس کے خطبے کے دوران باتیں کرتے تھے۔ پھر ہم لوگوں کے ساتھ نفل کی نیت سے نماز پڑھا کرتے تھے۔
حواشی
(١) سقط: (كان) في [ب].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (أنا أصلي).
(٣) في [أ، ب، ز، جـ]: (نصلي)، وفي [هـ]: (فصليا).