مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
الجمعة يؤخرها الإمام حتى يذهب وقتها باب: اگر امام جمعه کو اتنا مؤخر کر دے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 5597
٥٥٩٧ - [حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن إبراهيم بن المهاجر عن أبي بكر بن عمرو بن عتبة الزهري قال: أخّر الحجاج الجمعة فلما (صلى) (١) صلاها معه أبو جحيفة ثم قام فوصلها بركعتين ثم قال: يا أبا بكر أشهدك ⦗١٧١⦘ أنها العصر] (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ زہری فرماتے ہیں کہ حجاج نے جمعہ کو مؤخر کیا، جب اس نے نماز پڑھائی تو حضرت ابوجحیفہ نے اس کے ساتھ بھی نماز پڑھی اور پھر بعد میں دو رکعتیں بھی پڑھیں۔ پھر فرمایا اے ابوبکر ! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ یہ عصر کی نماز ہے۔
حواشی
(١) زيادة من [جـ، ز].
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٣) مجهول؛ لجهالة أبي بكر بن عمرو بن عتبة، وأخرجه بنحوه أبو يعلى (٨٨٦).